کیا نیب قوانین میں ترامیم پرعدالت مداخلت کرسکتی ہے؟


قومی اسمبلی کی جانب سے نیب قواتین میں کی گئی ترامیم کو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی طرف سے سپریم کورٹ میں چیلنج کیے جانے کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا عدالت پارلیمنٹ کی کارروائی میں مداخلت کرتے ہوئے قانون سازی ریورس کروانے کا اختیار رکھتی ہے؟ 5 اگست کو عمران خان کی جانب سے نیب قوانین میں ہونے والی ترامیم کے خلاف دائر کردہ درخواست کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت نے مفاد عامہ کو دیکھنا ہے، اگر بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں تو عدالت اس معاملے میں مداخلت کرے گی وگرنہ پارلیمنٹ کی کارروائی سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی۔

اس موقع پر وکیل پی ٹی آئی خواجہ حارث نے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم دراصل آئینی مینڈیٹ کی خلاف ورزی ہے، عدالت آئینی ترمیم کو بنیادی آئینی ڈھانچے سے متصادم ہونے پر کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ آزاد عدلیہ آئین کے بنیادی ڈھانچہ میں شامل ہے، نیب ترامیم سے عدلیہ کا کونسا اختیار کم کیا گیا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ قانون پارلیمنٹ نے منظور کیا ہے، کیا پارلیمنٹ کے قانون سازی کے حق کا احترام بھی ضروری نہیں ہے؟ انکا کہنا تھا کہ مجھے تو نیب ترامیم کسی آئینی شق سے متصادم نظر نہیں آ رہیں، اس موقع پر عمرانڈو قرار دیے جانے والے جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آج جو حکومت آئی ہے اس نے اپنے گناہ معاف کرا لیے ہیں، اگلی حکومت آئے گی تو وہ اپنے گناہ معاف کروا لے گی، لیکن اگر عوام کے پیسے پر کرپشن کی گئی ہے تو یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا کیس ہے اور آئین میں طے شدہ ضابطوں کے تحت سپریم کورٹ ایسے قوانین کا جائزہ لے سکتی ہے۔

اس موقع پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ نیب قانون تشکیل دیتے وقت پارلیمنٹ میں اپوزیشن اس کی مخالفت کرتی ہے، اگر پی ٹی آئی والے سمجھتے ہیں کہ نیب قانون غلط ہے تو اسمبلی میں بل کیوں نہیں لاتے؟ اس پر خواجہ حارث نے بتایا کہ تحریک انصاف کے ممبران قومی اسمبلی استعفے دے چکے ہیں۔ جواب میں جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ جب ایک حلقے کا عوامی نمائندہ اسمبلی سے استعفیٰ دیتا ہے تو کیا وہ خود کو منتخب کرنے والے عوام سے ایسا کرنے کی اجازت لیتا ہے؟ انکا کہنا تھا کہ پاکستان کے قانونی ڈھانچے میں ہونے والی آئینی ترامیم عدالت کی بجائے اسمبلی میں زیر بحث آنی چاہیئں کیونکہ پارلیمانی کارروائی سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی۔

یاد رہے کہ ‏قومی اسمبلی نے نیب دوسرا ترمیمی بل 2022 کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے جسکے بعد اب نیب 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کرپشن کیسز کی تحقیقات نہیں کر سکے گا۔ اسمبلی سے منظور ہونے والے بل کے مطابق احتساب عدالت کے ججز کی تقرری سے متعلق صدر کا اختیار بھی واپس لے لیا گیا ہے۔ نیب ترمیم کے تحت ملزمان کے خلاف تحقیقات کے لیے دیگر کسی سرکاری ایجنسی سے مدد نہیں لی جا سکے گی۔ بل کے تحت ملزم کا ٹرائل صرف اس کورٹ میں ہو گا جس کی حدود میں جرم کا ارتکاب کیا گیا ہو۔ نیب تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ریفرنس دائر کرے گا۔ پلی بارگین کے تحت رقم واپسی میں ناکامی کی صورت میں پلی بارگین کا معاہدہ ختم ہو جائے گا۔
نیب ترمیمی بل کے مطابق ریفرنس دائر کرنے سے قبل چیئر مین نیب پراسیکیوٹر جنرل کی مشاورت سے ایسی کارروائی منسوخ کر دے گا جو بلا جواز ہو۔ ریفرنس دائر ہونے کے بعد اگر چیئرمین نیب کو لگے کہ ریفرنس بلا جواز ہے تو وہ متعلقہ عدالت سے اسے منسوخ یا واپس لینے کا کہہ سکتے ہیں۔

نیب ترمیمی بل کے تحت نیب آرڈیننس کا اطلاق حکومت کی ایمنسٹی سکیم کے تحت لین دین، ریاستی ملکیت کے اداروں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز پر نہیں ہو گا۔ پچاس کروڑ روپے سے کم کا کیس نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آئے گا۔ صدر وفاقی حکومت کی سفارش پر پراسیکیوٹر جنرل مقرر کرے گا۔ بل میں وفاقی حکومت کو نیب عدالتوں کے قیام کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ نیب جرائم کے ٹرائل کے حوالے سے وفاقی حکومت جتنی چاہے عدالتیں قائم کر سکتی ہے۔ وفاقی حکومت، ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی مشاورت سے نیب عدالت کے جج کا تین سال کے لیے تقرر کرے گی۔ نیب عدالت کا جج ایسا شخص تعینات نہیں ہو سکتا جو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج یا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نہ ہو۔ نیب جج کو مدت مکمل ہونے سے قبل نہیں ہٹایا جا سکتا ہے نہ اس کا تبادلہ کیا جا سکتا ہے۔ نیب جج کو صرف متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی مشاورت کے ساتھ ہٹایا جا سکتا ہے۔ ملزم کا ٹرائل صرف اس کورٹ میں ہو گا جس کی حدود میں جرم کا ارتکاب کیا گیا ہو۔ بل کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد نیب ریفرنس دائر کرے گا، یہ حتمی ریفرنس ہو گا اور کوئی اضافی ریفرنس دائر نہیں کیا جائے گا۔ اضافی ریفرنس صرف اس صورت میں عدالت کی اجازت سے دائر ہو گا کہ اگر تحقیقات میں کوئی نئے حقائق سامنے آئیں۔ پلی بارگین یا رقم واپس کرنے والے ایک ملزم کا اثر اس جیسے مقدمے میں دوسرے ملزم پر نہیں پڑے گا۔ پلی بارگین کے تحت رقم واپس کرنے کی ناکامی پر پلی بارگین کا معاہدہ ختم ہو جائے گا۔ اگر ملزم پلی بارگین کے حکم کو چیلنج کرے یا عدالت کے علم میں آئے کہ پلی بارگین جبراً کروایا گیا ہے تو عدالت معاہدے کو ختم کر سکتی ہے۔

بل کےمطابق ریفرنس دائر کرنے سے قبل چیئرمین نیب پراسیکیوٹر جنرل کی مشاورت سے ایسی کارروائی منسوخ کر دے گا جو بلا جواز ہو۔ ریفرنس دائر کرنے کے بعد چیئرمین نیب کو لگے کہ ریفرنس بلا جواز ہے تو وہ متعلقہ عدالت سے اسے منسوخ یا واپس لینے کا کہہ سکتا ہے۔ چارج فریم کرنے سے قبل ایسا ہونے کی صورت میں ملزم کو جرم سے ڈسچارج کر دیا جائے گا جبکہ چارج فریم ہونے کے بعد ایسا ہونے پر ملزم کو جرم سے بری کر دیا جائے گا۔

لیکن اس بل کی وجہ سےپی ٹی آئی کی جانب سے اتحادی حکومت پر سخت تنقید ہو رہی ہے اور عمران خان نے ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ موجودہ حکومت نیب قوانین کو ختم کرنے آئی ہے تاکہ اپنے کرپشن کے کیسز دبا سکے۔ تاہم وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان کا کہنا ہے کہ نیب ترامیم سے اب اس ادارے کو سیاست دانوں کے استحصال کے لیے استعمال کرنا ممکن نہیں ہوگا اور اس کا فائدہ اپوزیشن جماعتوں کو بھی ہوگا۔

دوسری جانب نیب ترمیمی آرڈیننس پر تنقید کرتے ہوئے عمرانڈو صحافی کامران خان نے کہا ہے کہ اس حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ یعنی اقتدار سنبھالنے کا ہدف بھی شاید یہی تھا کہ اس نے نیب کا قیمہ بنانا تھا۔ پہلے اس نے نیب کے دانت توڑے، اب ہاتھ پاؤں کاٹ دیے ہیں، ایسا کر کے اتحادی حکومت نے اپنی لیڈر شپ کے کھربوں روپے کی منی لانڈرنگ اور رشوت ستانی کے کیسز فارغ کرکے ایک اور مہا این آر او تحفہ دیا ہے۔ لیکن کامران خان کی اس ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کے بڑے صاحبزادے حسین نواز نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ مجھے بہت خوشی ہو اگر نیب کا قانون واپس اپنی پرانی حالت میں بحال ہو جائے اور عمران خان کو ممنوعہ فنڈنگ اور دیگر الزامات پر ویسے ہی جیل میں ڈال دیا جائے جیسے شاہد خاقان عباسی، شہباز شریف اور دیگر رہنماؤں کو ڈالا گیا تھا۔

Related Articles

Back to top button