کیا ہائیبرڈ نظام کی ناکامی کے بعد فوج غیرسیاسی ہو چکی؟

پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے تشکیل دیا جانے والا 2018 کا ہائبرڈ بندوبست معیشت کی منطق اور عالمی حقائق سے تصادم میں زمیں بوس ہو چکا ہے۔ تاہم تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ ہائبرڈ نظام حکومت کے تجربے کے ناکام ہو جانے کے بعد فوج کی جانب سے غیر سیاسی ہو جانے کا دعوی وقتی ہے اور اختیار اور وسائل کی میزان بدستور جمہور کے دست ناتواں سے بہت دور ہے۔ انکا کہنا ہے کہ 2016 میں تب کے وزیر اعظم نواز شریف کے دور حکومت میں ڈان لیکس سے شروع ہونے والا کھیل عمران خان کی آڈیو لیکس تک آ پہنچا ہے اور اب ثابت یہ ہوا ہے کہ ملک دشمن ایجنڈے پر نوازشریف نہیں بلکہ عمران خان عمل پیرا ہے۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار وجاہت مسعود اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ مارچ میں عمران خان حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی خبر نکلی تو برسراقتدار حکومت کا پہلا ردعمل دستور کی شق 95 پر عمل درآمد کو طول دینا تھا۔ 28 مارچ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں تحریک عدم اعتماد پیش ہونا تھی۔ لیکن اس سے ایک شام قبل عمران خان نے پریڈ گراؤنڈ اسلام آباد میں جلسہ عام میں ایک کاغذ لہراتے ہوئے اعلان کیا کہ امریکہ نے ان کی حکومت کے خلاف سازش کی ہے تاکہ ایک امپورٹڈ حکومت کو بر سر اقتدار لایا جا سکے اور یہ خط اس دھمکی کا ثبوت ہے۔ لیکن اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ وہ خط کسی امریکی افسر نے نہیں بلکہ واشنگٹن میں پاکستانی سفیر اسد مجید خان نے لکھا تھا اور ایک میٹنگ کی روداد پر مبنی تھا۔ حال ہی میں سامنے آنے والی آڈیو لیکس نے ثابت کر دیا ہے کہ عمران خان نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس خط کو اپنی مرضی کا رنگ دیا تاکہ اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنایا جا سکے۔ عمران کی یہ چال 30 اپریل 1977 کو پنڈی کے راجہ بازار میں بھٹو صاحب کے امریکی وزیر خارجہ سائرس وانس کا دھمکی آمیز خط لہرانے کا ایکشن ری پلے تھی۔

وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ اسکے چند روز بعد نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں یہ ثابت ہو گیا کہ امریکی حکومت کی جانب سے پاکستان یا عمران خان کو کسی قسم کا کوئی خط نہیں لکھا گیا بلکہ پاکستانی سفیر کے سائفر کو امریکی دھمکی آمیز خط قرار دیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو ماموں بنایا جا سکے۔ تب کہ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل سکیورٹی کمیٹی اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں سازش کا لفظ کہیں استعمال نہیں کیا گیا۔ تاہم عمران حکومت نے دورہ ٔروس اور پاکستانی سفیر کے مراسلے کو اپنی مرضی کا رنگ دے کر 4 اپریل کو قومی اسمبلی کا اجلاس تحریک عدم اعتماد پیش کیے بغیر ہی اچانک ختم کر دیا اور اپوزیشن کی تحریک کو مسترد کر دیا۔ لیکن سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی رولنگ کو خلاف آئین قرار دیتے ہوئے عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے 9 اپریل کی تاریخ مقرر کر دی۔
وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ اس روز نصف شب کا گھڑیال بجنے سے چند منٹ قبل قیدیوں کی گاڑی کی گڑگڑاہٹ میں ایاز صادق کو افراتفری میں ووٹنگ کروانا پڑی۔ عمران خان اپنے ساتھیوں سمیت قومی اسمبلی سے مستعفی ہو کر واک آئوٹ کر گئے اور وزارت اعلی سے بیدخل ہو گے۔ خان صاحب تب سے ملک بھر میں جلسوں کے ذریعے اپنے سیاسی مخالفین اور ریاستی اداروں میں گٹھ جوڑ اور امریکی سازش کا راگ الاپتے ہوئے فوری انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اگرچہ وہ اپنے مطالبے کے حق میں کوئی دستوری جواز دینے سے قاصر ہیں۔ ان کے حامیوں کا خیال ہے کہ ایوان اقتدار سے نکلنے کے بعد عمران خان کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ پنجاب، خیبر پختون خوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی حکومتیں قائم ہیں۔ عمران کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر طوفان اٹھا رکھا ہے۔ اس دوران ملک میں سیلاب کی قیامت ٹوٹی مگر عمران ’حقیقی آزادی‘ کے تعاقب میں سرگرداں رہے۔ تاہم جب فوری انتخابات کی صورت نظر نہ آئی تو یہ مطالبہ بھی داغ دیا کہ آئندہ آرمی چیف کی تقرری نئے انتخابات کے بعد کی جائے اور تب تک جنرل باجوہ کو توسیع دے دی جائے۔ یہ سب تو ہوا لیکن سیاسی خط تنصیف کے دوسری طرف بھی خاموشی نہیں رہی۔ بالآخر آئی ایم ایف سے عمران دور حکومت میں کیا جانے والا معاہدہ فائنل ہو گیا جس کے طعد مہنگائی کا طوفان اٹھا۔ ڈالر اور تیل کی قیمتیں آسمان کی خبر لائیں۔ لیکن اب اسحاق ڈار کی وطن واپسی اور وزارت خزانہ سنبھالنے کے بعد ڈالر بھی تیزی سے نیچے آیا ہے اور پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی کمی ہوگئی ہے۔ یہ گویا نئی سیاسی بساط کے ابتدائی خطوط کا اعلان ہے۔
وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ اب مختلف آڈیو لیکس کا شور مچا ہوا ہے۔ اتفاق سے شہباز شریف کی آڈیو لیکس کا مواد بے ضرر نکلا بلکہ ان میں وزیراعظم اصولی موقف اختیار کیے ہوئے سنے گے۔ لیکن دوسری جانب شوکت ترین کی آڈیو لیک بلاشبہ ملکی مفاد کے منافی تھی۔ پھر عمران خان اور ان کے قریبی ساتھیوں کی آڈیو لیکس نے انکے امریکی سازش کے بیانیے کو ادھیڑ کر رکھ دیا ہے۔ 29 ستمبر کو مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی ایون فیلڈ ریفرنس میں بریت کے فیصلے سے نواز شریف کی بریت اور واپسی کا راستہ بھی کھل گیا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان اور امریکی سفیر کے عمرانی خط بارے ایک جیسے موقف کا نتیجہ یہ ہے کہ خان صاحب نے امریکی سازش اور امپورٹڈ حکومت کا جو بیانیہ گھڑا تھا وہ حالیہ لیکس نے پنکچر کر دیا ہے۔
وجاہت مسعود کا کہنا ہے کہ حالیہ عدالتی فیصلوں کا رخ بتاتا ہے کہ 2017 کے معتوب سیاست دانوں کو اب چور اور لٹیرے قرار دینا آسان نہیں ہو گا۔ عمران خان کے لیے دو تہائی اکثریت تو ایک طرف، شاید قابل ذکر تعداد میں اسمبلی کی سیٹیں جیتنا بھی مشکل ہو جائے۔ نتیجہ یہ کہ آئندہ برس الیکشن میں ایک کمزور حکومت تشکیل پائے گی۔ ہمارے ملک میں انتخابی حرکیات اور عوامی جذبات میں عدم مطابقت کی ایک تاریخ رہی ہے۔ آئندہ برس کے وسط تک کافی تبدیلیاں نمودار ہوں گی جنکے حاشیے پر ’گزشتہ سے پیوستہ‘ کا عنوان درج ہو گا۔ پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے تشکیل دیا جانے والا 2018 کا ہائبرڈ بندوبست معیشت کی منطق اور عالمی حقائق سے تصادم میں زمیں بوس ہو چکا ہے۔ تاہم تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ ہائبرڈ نظام حکومت کے تجربے کے ناکام ہو جانے کے بعد فوج کی جانب سے غیر سیاسی ہو جانے کا دعوی وقتی ہے اور اختیار اور وسائل کی میزان بدستور جمہور کے دست ناتواں سے بہت دور ہے۔

Related Articles

Back to top button