گوادر کے رہائشی چینی سرمایہ کاری کے مخالف کیوں ہیں؟

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کا حلیہ اور قسمت تیزی سے بدل رہی ہے لیکن وہاں کے باسیوں کے حالات زندگی میں بہتری کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ گوادر بندر گاہ میں نئی مشینری لگ رہی ہے، سڑکیں بن رہی ہیں اور نئی عمارتیں اور رہائشی کالونیاں سر اٹھا رہی ہیں۔ لیکن گوادر قصبے کے رہنے والے غریب باسی اب بھی پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور یہ بات محض محاورتاً نہیں کہی جا رہی بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے۔
چینی اور پاکستانی حکومتیں سی پیک کو پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے لیے گیم چینجر قرار دیتی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ سی پیک کے ذریعے بلوچستان سمیت ملک کے بہت سے پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی کام کیے جائیں گے جس سے ترقی سے محروم ان علاقوں میں خوشحالی آئے گی۔
اس سلسلے میں مثال کے طور پر بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر کا نام لیا جاتا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ پسماندہ قصبہ آئندہ چند سالوں میں خطے میں ترقی کی علامت کے طور پر سامنے آئے گا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہ سب دعوے درست ہیں اور سی پیک بلوچستان کی ترقی کی ضمانت ہے تو پھر یہاں کے ایک طبقے کو سی پیک کے نام پر چینی سرمایہ کاری پر اس حد تک اعتراض کیوں ہے کہ وہ اسے روکنے کے لیے مرنے مارنے پر تُل گئے ہیں۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ سی پیک کی مخالفت صرف بلوچ قوم پرست مسلح گروپ ہی نہیں کر رہے بلکہ بعض غیر مسلح قوم پرست گروہ بھی سی پیک اور اسکے ذریعے صوبے میں ہونے والی سرمایہ کاری کے مخالف ہیں۔

سی پیک منصوے کی داغ بیل 2008 میں پیپلز پارٹی کے دور میں اس وقت ڈالی گئی تھی جب سابق صدر آصف علی زرداری نے پے در پے چین کے کئی دورے کیے تھے جنکے نتیجے میں گوادر بندر گاہ کا انتظام سنگاپور کی کمپنی سے لے کر چینی کمپنی کو دے دیا گیا تھا۔ چین کی بلوچستان میں اینٹری اور سرمایہ کاری پر بلوچ قوم پرستوں کو بنیادی اعتراض یہ ہے کہ اسلام آباد نے بلوچستان اور خصوصا گوادر کے مسقتبل کا فیصلہ کرتے ہوئے بلوچ قیادت کو اعتماد میں لینا تو دور کی بات، اطلاع تک نہ دی۔

بلوچ عوام کو ایک دوسرا بڑا اعتراض یہ ہے کہ سوئی گیس پاکستان میں گھر گھر استعمال ہوتی ہے لیکن بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں قدرت کا یہ انمول تحفہ ناپید ہے۔ یہ بتانا ضروری یے کہ پاکستان میں چولہا جلانے کے لیے گھروں میں پائپ کے ذریعے آنے والی گیس کو سوئی گیس اس لیے کہتے ہیں کہ یہ گیس بلوچستان کے علاقے سوئی میں واقع گیس کے ذخائر سے حاصل کی جاتی ہے جو مشرف جنتا کے ہاتھوں شہید ہونے والے نواب اکبر بگٹی کا علاقہ ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقوں کے بر عکس بلوچستان کے اکثر علاقے اس گیس سے محروم ہیں۔ ایسے میں یہ اعتراض تو بنتا ہے کہ جس صوبے کا اس قدرتی ذخیرے پر حق ہے، اسے اس میں سب سے کم حصہ کیوں دیا جا رہا ہے؟ بعض مبصرین البتہ اس دلیل کو زیادہ وزن نہیں دیتے کہ بلوچستان کے رہنے والوں کے ساتھ سی پیک کے معاملے میں بھی یہی ہو گا۔ یہ دلیل بلوچ قوم پرست رہنماؤں کی جانب سے بار بار دی جاتی ہے کہ سی پیک میں بھی ایسا ہی ہو گا کہ بلوچ وسائل پر وفاق اور چین قبضہ کرے گا اور سوئی گیس کی طرح بلوچستان میں رہنے والوں کو اپنے کی قدرتی اور دیگر وسائل استعمال کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ اسی لیے بعض بلوچ قوم پرست سی پیک کو بلوچستان کے وسائل پر قبضے کا منصوبہ قرار دیتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق گوادر کا حلیہ اور قسمت تیزی سے بدل رہی ہے لیکن وہاں کے رہنے والوں کے حالات میں بہتری کے آثار ابھی تک تو دکھائی نہیں دے رہے۔ بندر گاہ میں نئی مشینری لگ رہی ہے، سڑکیں بن رہی ہیں اور نئی عمارتیں اور رہائشی کالونیاں سر اٹھا رہی ہیں۔ لیکن گوادر قصبے کے رہنے والے پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور یہ بات محض محاورتاً نہیں کہی جاتی۔ گوادر شہر کو صاف پانی فراہم کرنے والے واحد ذخیرے آکڑا ڈیم سے سال میں چند ہفتے ہی پانی مل پاتا ہے۔ باقی دن گوادر کے باسی حقیقی معنوں میں پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں۔ دوسری طرف چین اور پاکستان کے دوسرے حصوں سے آئے انجینئرز اور دیگر افسران اور اہلکاروں کے لیے جنگل میں منگل کا سماں ہے۔ لیکن ان چنے گئے افسروں اور دیگر عملے میں مقامی لوگوں یا بلوچوں کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہی صورتحال صوبے میں جاری دیگر ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں بھی بتائی جاتی ہے۔
بلوچ قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے رہنے والوں کو ان ملازمتوں اور دیگر اقتصادی موقعوں میں برابر کا حصہ نہیں دیا جا رہا۔ اگر ملازمتیں دی بھی جا رہی ہیں تو وہ مزدور کی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے تعلیم یافتہ لوگ ملتے ہی نہیں تو انہیں ان کے حصے کے مطابق ملازمتیں کہاں سے دیں؟ یہ بحث پہلے مرغی یا پہلے انڈے والی بن جاتی ہے۔ یعنی غریب اور پسماندہ قوبے میں نوجوانوں کو ہنر اور تعلیم دینا کس کی ذمہ داری ہے؟

بلوچ قوم پرستوں کی نظر میں ایک اور بڑا مسئلہ صوبے میں قائم کردہ فوجی چیک پوسٹس ہیں۔ یہ فوجی چیک پوسٹس بلوچ قوم پرستوں کے نشانے پر ہیں، سیاسی طور پر بھی اور عسکری سطح پر بھی۔ ان میں سے بیشتر چیک پوسٹس مشرف دور حکومت میں 2096 میں تب قائم کی گئی تھیں جب بلوچ قوم پرست رہنما اکبر بگٹی کے خلاف فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی ہو رہی تھی۔ یاد رہے کہ بگٹی نے بلوچستان میں تعینات لیڈی ڈاکٹر شاذیہ کے ایک آرمی میجر کے ہاتھوں ریپ کے خلاف آواز بلند کی تھی لہذا فوجی ڈکٹیٹر نے ان کو مٹانے کا فیصلہ کر لیا۔ مشرف کے احکام پر ایک فوجی آپریشن میں اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد بلوچستان میں فوج کی تعداد بڑھائی گئی اور فوجی اور نیم فوجی دستوں کی چیک پوسٹس قائم کی گئیں۔ حکومت اور فوج ان چیک پوسٹس کو بلوچستان کے خاص طور پر دور دراز علاقوں میں قیام امن اور عوام کے تحفظ کی ضامن قرار دیتی ہیں جبکہ بلوچ قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ یہ چیک پوسٹس بلوچستان میں رہنے والوں کی توہین کی علامت ہیں۔

ثنا اللہ بلوچ کا کہنا ہے سی پیک کے تحفظ کی چونکہ ضرورت بڑے پیمانے پر ہو گی اس لیے بلوچستان میں فوجی ’فٹ پرنٹ‘ میں اضافہ ہونا لازمی ہو جائے گا۔ اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اس علاقے میں کشیدگی بڑھے گی۔ اس علاقے میں پہلے ہی غیر بلوچ سکیورٹی فورسز یعنی فرنٹئر کور اور کوسٹ گارڈز کی بڑے پیمانے پر موجودگی کشیدگی اور بے چینی کا سبب بن رہی ہے۔ سیاسی طور پر جبر کی وجہ سے متاثرہ بلوچوں کو خدشہ ہے کہ چین کی بڑے لیول پر گوادر میں موجودگی عسکری کشیدگی میں اضافے کا سبب بنے گی جس سے بلوچ براہ راست متاثر ہوں گے۔

Related Articles

Back to top button