گھڑی سکینڈل میں منہ کالا کروانے کے بعد گدھے کی سواری


کرپشن مخالف بیانیہ لے کر چلنے والے عمران خان ایک شرمناک گھڑی سکینڈل میں منہ کالا کروانے کے بعد اب اسی کیس میں مزید حقائق آشکار ہونے کے باعث گدھے کی سواری کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اب یہ تازہ ترین انکشاف ہوا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے عمران خان کو تحفے میں دی گئی کم از کم 2 ارب روپے مالیت کی مہنگی ترین گراف نامی برانڈ کی انمول گھڑی تب کے مشیر احتساب شہزاد اکبر نے دبئی کے بزنس مین عمر فاروق ظہور کو بشری ٰبی بی کی سہیلی فرح گوگی کے ذریعے فروخت کی۔ یہ قیمتی گھڑی سعودی ولی عہد نے آرڈر پر بنوائی تھی اور اس میں خانہ کعبہ کی شبیہ موجود ہے جسے عمران نے فروخت کر دیا۔ دبئی میں مقیم ارب پتی پاکستانی بزنس مین عمر فاروق ظہور نے یہ قیمتی گھڑی صرف 28 کروڑ پاکستانی روپوں میں خریدنے کا انکشاف کیا ہے جبکہ ان کے مطابق اس گھڑی کی مارکیٹ ویلیو ایک ارب 70 کروڑ روپے ہے۔ یاد رہے کہ اس گھڑی میں نایاب قیمتی ہیرے جڑے ہوئے ہیں۔

عمران فاروق کا کہنا ہے کہ گھڑی فروخت کرنے کے لیے ان سے رابطہ عمران خان کے ایما پر مرزا شہزاد اکبر نے کیا جسکے بعد فرح گوگی گھڑی لے کر ان کے پاس دبئی آئیں۔ انہوں نے 50 لاکھ ڈالرز قیمت مانگی لیکن 20 لاکھ ڈالرز میں سودا ہوا لیکن ادائیگی درہم میں ہوئی اور انہوں نے فرح گوگی کو 75 لاکھ درہم کیش ادا کیے۔ دوسری جانب فرح گوگی نے عمر فاروق نامی شخص سے ملنے اور گھڑی فروخت کرنے کی سختی سے تردید کی ہے۔ گوگی کا کہنا ہے کہ وہ نہ تو کبھی عمر فاروق کو ملی ہیں اور نہ ہی شہزاد اکبر کو۔ تاہم عمر فاروق نے اس دعوے کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ان کے پاس گھڑی کیسے آئی؟ انکے مطابق ان کے پاس یہ ثابت کرنے کے لیے تمام شواہد موجود ہیں کہ انہیں گراف برانڈ کی نایاب گھڑی فرحت شہزادی عرف فرح گوگی نے ہی فروخت کی اور انہوں نے نقد ادائیگی کی۔

گھڑی خریدنے کے حوالے سے عمر فاروق ظہور نے جو حلف نامہ پبلک کیا ہے اسکے الفاظ یوں ہیں: “میں عمر فاروق، ولد ظہور احمد سکنہ محمد بن راشد سٹی، ڈسٹرکٹ ون، دبئی، متحدہ عرب امارات U.A.E حلف کے ساتھ اس بات کی تصدیق اور اعلان کرتا ہوں کہ محترمہ فرحت شہزادی سے میرا تعارف جناب شہزاد اکبر نے کرایا اور درج ذیل جیولری اور گراف گھڑی کا سیٹ میں نے فرح شہزادی سے خریدا”۔ اس کے بعد فرح شہزادی کا شناختی کارڈ نمبر اور پاسپورٹ نمبر لکھا گیا ہے اور بتایا گیا ہے فرحت شہزادی کو 75 لاکھ درہم نقد ادا کیے گئے۔ عمر فاروق کے حلف نامے میں ان دیگر تحائف کی فہرست بھی دی گئی ہے جو انہوں نے فرح سے خریدے اور جو عمران خان کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دیے تھے۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے پہلے ہی عمران خان کو توشہ خانہ سے سستے داموں گھڑی خرید کر مہنگے دام فروخت کرنے کے بعد اس سے حاصل کردہ رقم اپنے اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے پر نااہل قرار دے دیا ہے۔ دوسری جانب یہ کیس اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے۔

جب عمر فاروق ظہور سے پوچھا گیا کہ گھڑی خریدتے وقت کیا انہیں پتا تھا کہ یہ سعودی ولی عہد کی جانب سے دیا گیا تحفہ ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’جی بالکل۔ جب مجھے پتا چلا تو میں زیادہ اکسائٹیڈ ہو گیا کہ کیا چیز ہو گی۔ یہ دنیا کے مہنگے ترین برانڈ گراف کی گھڑی تھی اور اس پر خانہ کعبہ بنا ہوا تھا، دنیا میں اس طرح کی دو گھڑیاں نہیں بلکہ صرف ایک ہے کیونکہ سعودی ولی عہد نے اسے آرڈر پر بنوایا تھا۔

عمر فاروق کے مطابق انہوں نے فرح گوگی سے سعودی ولی عہد کو دیئے گئے جو تحائف خریدے تھے ان میں گھڑی، انگوٹھی اور کف لنکس شامل تھے۔عمر فاروق نے بتایا کہ 2019 میں عمران کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے ان سے رابطہ کیا، جس کے بعد عمران کی اہلیہ، بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح خان تحفے لے کر دبئی ان کے دفتر آئیں۔ ان کی ڈیمانڈ 50 لاکھ ڈالرز تھی، تاہم انہوں نے سارے تحفے 20 لاکھ ڈالرز میں خریدے اور فرح کو رقم کیش میں ادا کی۔ عمر فاروق نے دعویٰ کیا کہ ان تحفوں کی اصل مالیت ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالرز یعنی 2019 کے ڈالر ریٹس کے حساب سے ایک ارب 70 کروڑ روپے تھی۔

خریداری کے ثبوت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس سارے ثبوت موجود ہیں۔ جب انہوں نے یہ تحائف خریدے تو اس کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ شاہی خاندان کی طرف سے کسی ملک کے سربراہ کو دیے گئے یہ تحائف مارکیٹ میں دستیاب نہیں بلکہ خصوصی طور پر تیار کرائے جاتے ہیں لہذا ان کے ڈیزائن کی کاپی بھی کہیں دستیاب نہیں تھی جس سے ان کی قیمت مزید بڑھتی ہے اور انہیں فروخت کرنا بھی اسی لیے مشکل ہوتا ہے۔

دوسری جانب فواد چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی شہزادے کی جانب سے دی گئی گھڑی عمر فاروق کو نہیں بیچی گئی۔ تاہم وہ یہ نہیں بتا پائے کہ گھڑی کس کو بیچی گئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ توشی خانہ میں اس گھڑی کی قیمت 10 کروڑ پاکستانی روپے لگائی گئی تھی اور عمران خان نے اسے پانچ کروڑ روپے میں بیچا۔ تاہم لیگی رہنما عطا اللہ تارڑ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گھڑی کی مارکیٹ ویلیو بارے دستاویزات دکھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کی اصل قیمت 2 ارب روپے کے قریب ہے۔ لہٰذا اس چوری میں ملوث ہونے پر عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا اور سخت کارروائی کی جائے گی۔

Related Articles

Back to top button