گھڑی سکینڈل نے عمران کی سیاست کیسے ادھیڑی؟

معروف اینکر پرسن اور صحافی جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ قائداعظم کے بعد عمران خان دوسرے لیڈر تھے جنھیں عوام اور اسٹیبلشمنٹ کی اتنی زیادہ سپورٹ ملی، لیکن افسوس انھوں نے ملک کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جو انھوں نے سعودی شہزادہ کی جانب سے ملنے والی گراف برینڈ کی قیمتی گھڑی کے ساتھ کیا، آج اگر ان سے گھڑی کے بارے میں پوچھا جائے تو موصوف مسکرا کر کہتے ہیں گھڑی میری تھی، میں نے بیچ دی، ملک کے بارے میں بھی انکا یہی رویہ تھا کہ میرا ملک تھا، میں اسے عثمان بزدار کے حوالے کرتا یا محمود خان کے، آپ پوچھنے والے کون ہوتے ہیں ؟ جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیئےکہ کیا اس آرگومنٹ کا کوئی جواب ہو سکتا ہے؟ میرا خیال ہے قوم یوتھ کے علاوہ اس منطق کو کوئی سمجھ سکتا ہے اور نہ بیان کر سکتا ہے۔

اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ گراف (Graff) سوئٹزر لینڈ کی کمپنی ہے اور یہ صرف بادشاہوں اور ملکاؤں کے لیے ہیروں اور جواہرات کی سپیشل پراڈکٹس بناتی ہے جو مارکیٹ میں نہیں ملتیں، صرف محلات میں جاتی ہیں اور وہیں استعمال ہوتی ہیں۔ گراف نے 2018 میں سعودی عرب کے ولی عہد کے لیے دو اسپیشل گھڑیاں بنائی تھیں۔ عمران خان بطور وزیراعظم جب 18 ستمبر 2018 کو سعودی عرب کے پہلے دورے پر گئے تو ولی عہد نے انہیں گراف کی گھڑی، دو ہیرے والے کف لنکس، سونے کا ایک پین اور ایک انگوٹھی بطور تحفہ دی۔ دنیا بھر میں حکمران دوسرے حکمرانوں کو تحائف دیتے ہیں، یہ تحفے عموماً عجائب گھروں میں رکھ دیے جاتے ہیں یا پھر ایوان صدر یا وزیر اعظم ہاؤس میں سجائے جاتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس اس کی سب سے بڑی مثال ہے جہاں کئی سو سال پرانے تحفے بھی نمائش کے لیے رکھے ہیں۔

تاہم جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ پاکستان میں روایت ذرا سی مختلف ہے، یہاں صدر یا وزیراعظم کو ملنے والے تحائف توشہ خانہ میں جمع کرا دیے جاتے ہیں۔ توشہ خانہ مغلوں کے دور میں ہندوستان میں بنا تھا۔ اس میں بادشاہ کو ملنے والے تحائف رکھے جاتے تھے۔ توشہ خانہ مغلوں سے ایسٹ انڈیا کمپنی میں آیا‘ پھر وائسرائے کے پاس آیا اور قیام پاکستان کے بعد حکومت پاکستان کے پاس آ گیا‘ ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی دور میں سرکاری تحائف کو سرکاری ملکیت سمجھا جاتا تھا اور کوئی اہلکار انھیں ذاتی طور پر استعمال نہیں کر سکتا تھا۔پاکستان میں بھی شروع میں یہی روایت تھی۔ بیورو کریٹس سے لے کر صدر تک تمام تحائف توشہ خانہ میں جمع ہو جاتے تھے لیکن پھر اس رُول میں تبدیلی آ گئی، توشہ خانہ کے اہلکار تحائف کی قیمت کا تخمینہ لگاتے اور پھر اس قیمت کا 20 فیصد خزانے میں جمع کرا کر تحفہ حاصل کرنے والا شخص اسے ذاتی استعمال میں لانے لگا، لہٰذا بھٹو سے لے کر عمران تک سب حکمران اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے رہے۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ہم اب واپس عمران خان کے تحائف کی طرف آتے ہیں‘ عمران خان کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 2018 میں چار انتہائی قیمتی تحائف دیے اور روایت کے مطابق یہ تحائف توشہ خانے میں جمع کرا دیے گئے۔ توشہ خانہ نے گراف کی گھڑی کا تخمینہ ساڑھے آٹھ کروڑ‘ کف لنکس کی مالیت 56 لاکھ 70 ہزار روپے‘ پین کی قیمت 15 لاکھ روپے اور انگوٹھی کی مالیت 87لاکھ 50 ہزارروپے ڈکلیئر کی‘ چاروں تحائف کی ٹوٹل مالیت دس کروڑ 92 لاکھ روپے بنی اور اس کا 20 فیصد دو کروڑ دو لاکھ 78 ہزار روپے بنا‘ عمران نے یہ رقم خزانے میں جمع کرائی اور چاروں تحائف توشہ خانہ سے لے لیے‘ یہ معاملہ یہاں تک بھی جائز اور قانونی تھا لیکن اس کے بعد اسٹوری میں دو ٹوئسٹ آئے اور یہ اسکینڈل بن گیا۔ عمران نے جن دو کروڑ 2 لاکھ 78 ہزار روپے سے یہ تحائف خریدے، وہ رقم انہوں نے اپنی ٹیکس ریٹرن میں ڈکلیئر نہیں کی تھی‘ یہ رقم ان کے اکاؤنٹس میں موجود بھی نہیں تھی، لہٰذا سوال پیدا ہوا کہ یہ رقم پھر کہاں سے آئی؟ دوسرا چند ماہ بعد گراف کے دبئی آفس نے اپنے ہیڈکوارٹر زکو مطلع کیا کہ ولی عہد کے لیے بنائی گئی گھڑیوں میں سے ایک فروخت کے لیے ہمارے پاس آئی ہے۔ ہم کیا کریں؟ ہیڈکوارٹرز نے ولی عہد کے سیکریٹری سے رابطہ کیا اور سیکریٹری نے ولی عہد سے پوچھا‘ وہ اس حرکت پر حیران رہ گئے تاہم انھوں نے گھڑی خریدنے کا عندیہ دے دیا اور یوں وہ گھڑی گراف نے 14 کروڑ روپے میں خرید کر ولی عہد کو بھجوا دی، یہ حرکت غیراخلاقی بھی تھی‘ غیرقانونی بھی اور غیر سفارتی بھی ‘یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے‘ گھڑی دبئی میں کس نے فروخت کی تھی؟ پارٹی کے چند لوگ ذلفی بخاری کو اس کا ذمہ د ار قرار دیتے ہیں‘ یہ الزام لگاتے ہیں۔

بقول جاوید چوہدری، خاتون اول بشری ٰبی بی نے گھڑی ذلفی بخاری کو دی جو اسے دبئی میں فروخت کر آئے‘ میں نے اس بات کی تصدیق کے لیے ذلفی بخاری سے رابطہ کیا لیکن ان کا دعویٰ تھا ’’میں نے زندگی میں یہ گھڑی دیکھی اور نہ ہی میں اس معاملے میں انوالو ہوا‘‘ تاہم ان کا کہنا تھا ’’عمران نے اگر توشہ خانہ کی رقم ادا کر دی تھی تو وہ گھڑی کے مالک تھے اور وہ اسے جہاں چاہتے اور جب چاہتے فروخت کرتے کسی کو اعتراض کا کوئی حق نہیں۔‘‘ بقول جاوید، عمران نے 2018 سے 2021 تک غیر ملکی سربراہوں سے 58 تحائف حاصل کیے ان کی کل مالیت 14 کروڑ 20 لاکھ 42 ہزار ایک سو روپے بنتی ہے۔ ان میں رولیکس کی چھ گھڑیاں ‘ سونے اور ہیروں کے لاکٹ سیٹ‘ ایئر رنگز‘ سونے کی انگوٹھیاں اور ہیروں کے بریسلٹ بھی شامل ہیں اور انتہائی مہنگے لیڈیز بیگز بھی‘ خاتون اول کو 20مئی 2021کو بھی نیکلس‘ ایئررنگز‘ انگوٹھی اور بریسلٹ ملا اور توشہ خانہ نے اس کی مالیت 58لاکھ 60 ہزار روپے طے کی تھی اور خاتون اول نے رقم جمع کرا کر یہ تحائف لے لیے‘ سوال یہ ہے کیا یہ تحائف عمران خان اور بشریٰ بی بی کو ملے یا پھر وزیراعظم اور خاتون اول کو اور یہ اگر خاتون اول اور وزیراعظم کو ملے تو پھر ان کا اصل وارث کون ہے؟ یقیناً پاکستان لہٰذا یہ کسی بھی صورت حکومت پاکستان کے ہاتھ سے باہر نہیں جانے چاہیے تھے لیکن ہم بفرض محال یہ مان بھی لیں کہ خزانے میں 20فیصد رقم جمع کرا کر وزیراعظم یا صدر ان تحائف کے حق دار بن سکتے ہیں تو بھی سوال پیدا ہوتا ہے ان تحائف کو مارکیٹ میں بیچنے کی کیا تُک تھی؟ یہ حرکتیں یقیناً سفارتی تعلقات کی خرابی کا باعث بنتی ہیں اور شاید یہ وہ بات تھی جس کی وجہ سے ہمارے وزیراعظم عمران خان 21 ستمبر 2019 کو سعودی شاہی جہاز پر امریکا کے دورے پر گئے لیکن رائل فیملی نے واپسی سے پہلے اپنا جہاز واپس منگوا لیا اور وزیراعظم کمرشل فلائٹ سے پاکستان تشریف لائے۔ جاوید سوال کرتے ہیں کہ کیا یہ رویہ دنیا کی پہلی اسلامک نیوکلیئر پاور کے سربراہ کے شایان شان تھا اور کیا یہ وہ وقار ہے جس کی بحالی کے موصوف دعوے کرتے رہے ہیں؟

Related Articles

Back to top button