ہیلی کاپٹرحادثے بارے جھوٹ پھیلانے والے ذہن ساز کون ہیں؟


سینئیر صحافی اور تجزیہ کا نصرت جاوید نے کہا ہے کہ اگر ففتھ جنریشن میڈیا وار کے موجودہ دور میں ریاستی اداروں نے فیک نیوز کا موثر طریقے سے مقابلہ کرنا ہے تو ضروری ہے کہ مین سٹریم میڈیا اور روایتی صحافت کو ریاستی شکنجے سے آزاد کر دیا جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستانی عوام کی اکثریت ”شک وشبے“ میں مبتلا رہے گی اور”شیطان“ ہمارے دلوں میں وسوسے بڑھاتے رہیں گے۔

نصرت اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ مشہور امریکی لکھاری مارک ٹوئین نے لکھا تھا کہ سچ جب سفر کے لئے اپنے جوتوں کے تسمے باندھ رہا ہوتا ہے تو تب تک جھوٹ آدھی دنیا کا سفر مکمل کرچکا ہوتا ہے۔ مارک ٹوئین کے دور میں ابھی انٹرنیٹ ایجاد نہیں ہوا تھا۔ٹویٹر اور فیس بک والے پلیٹ فارم بھی میسر نہ تھے۔ لہذا دورِ حاضر میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ سچ کے بیدار ہونے سے کئی گھنٹے پہلے ہی جھوٹ ساری دنیا میں پھیل چکا ہوتا ہے اور سچ فقط اس کے پھیلاﺅ کی وجہ سے ہوئے نقصان کے ازالے کے لئے ہی انگڑائی لیتے ہوئے بیدار ہوتا ہے۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ گذشتہ ہفتے جب بلوچستان کے علاقے لسبیلہ میں سیلاب زدگان کی مدد میں مصروف پاک فوج کا ایک ہیلی کاپٹر کور کمانڈر کوئٹہ سمیت لاپتہ ہوا تو سوشل میڈیا پر چھائے عمرانڈو ”ذہن سازوں“ نے نہایت سرعت سے سازشی کہانیاں تراش کر انہیں تواتر سے پھیلانا شروع کر دیا۔ اکثر ”ذہن سازوں“ نے جو رویہ اور انداز بیاں اختیار کیا وہ واضح طور پر اس ”اختراع“ کا اظہار تھا جو ”چوروں اور لٹیروں“ کے خلاف متحرک عمرانڈو بریگیڈ نے اپنا رکھی ہے۔ لیکن یہ معاملہ فقط سازشی کہانیوں تک ہی محدود نہ رہا۔ اس بریگیڈ کی جانب سے نہایت سفاکی سے اس خواہش کا اظہار بھی ہوا کہ کاش لاپتہ ہیلی کاپٹر میں وہ شخصیت بھی سوار ہوتی جو ان دنوں ان کی نفرت کا نشانہ ہے۔ ظالموں نے یہ بھی لکھا کہ ہمیں تو ہیلی کاپٹر کی فکر ہے اس میں سوار جوانوں کی نہیں۔

نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد مجھے فون آنا شروع ہو گے۔ بہت سارے لوگ سنجیدگی سے یہ جاننا چاہتے تھے کہ گمشدہ ہیلی کاپٹر بلوچستان میں متحرک علیحدگی پسندوں کا نشانہ تو نہیں بنا۔ لیکن دفاعی معاملات کا مجھے ککھ پتہ نہیں۔ محض اپنے صحافیانہ تجربے کی بنیاد پر عاجزی سے مصر رہا کہ موسم کی شدت والی حقیقت کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ ویسے بھی جس علاقے سے گمشدگی کی اطلاع آ رہی تھیں وہ تاریخی اعتبار سے کبھی تخریب کاری کا مرکز نہیں رہا۔ لیکن حقائق پر مبنی میرا اصرار دوستوں کو پسند نہیں آیا۔

نصرت جاوید کے بقول اس دوران ایک اور سازشی کہانی بھی گردش میں آگئی جسے بیان کرنے کا مجھ میں حوصلہ نہیں۔ بالآخر حقائق منظر عام پر آئے تو ایک نئی کہانی شروع ہو گئی۔ اس کے ذریعے تاثر یہ پھیلانے کی کوشش ہوئی کہ جو المناک حادثہ ہوا ہے اسکے ذمہ دار امریکی ڈرون سے پھینکےبجانے والے میزائل ہیں۔ اس داستان کی تصدیق کے لئے فیس بک پر لگائی ایک پوسٹ بھی وائرل ہونا شروع ہوگئی جو کہ ایک امریکی اہلکار کا فیس بک پیج مسخ کر کے بنائی گئی تھی۔ اسے شیئر کرنے والوں نے اس امر پر توجہ ہی نہیں دی کہ بیک وقت ایک خاتون اور مرد خود کو پاکستان میں تعینات امریکی سفیر کا ”مشیر“ قرار دیتے ہوئے المناک حادثے کی بابت ”معافی“ کے طلب گار ہیں۔ ”فیک نیوز“ کی اصل قوت ہی یہ ہے کہ اسے گھڑنے والوں کو یقین ہوتا ہے کہ وہ جو داستان پھیلانا چاہ رہے ہیں ان کے اہداف افراد کے دل ودماغ پر چھائے خدشات وتعصبات کو ”ٹھوس شواہد“ فراہم کررہی ہے۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ بلوچستان میں ہوئے حادثے سے دو دن قبل یہ خبر آئی تھی کہ امریکی ڈرون طیارے نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں موجود ایک گھر میں چھپے القاعدہ کے مفرعر سربراہ ایمن الظواہری کو ہلاک کردیا ہے۔ ڈرون حملوں کے لئے جو حکمت عملی اپنائی جاتی ہے عام لوگ اس سے آگاہ نہیں۔ اسی لیے سوشل میڈیا کے عمرانڈو ٹرولز کے باعث یہ تاثر پھیلانا ممکن ہو گیا کہ غالباََ ایمن الظواہری کے قتل کے لئے ڈرون طیاروں سے میزائلوں کی بوچھاڑ پاکستان سے افغانستان کی سمت روانہ کی گئی تھی۔ سازشی تھیوری کے مطابق ان ہی میں سے ایک میزائل بھٹک کر بلوچستان کی فضا میں ”آوارہ“ ہوگیا اور پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کو اپنی زد میں لے لیا۔ لیکن پہلی بات یہ ہے کہ ایمن الظواہری کو بلوچستان واقعے سے دو روز پہلے قتل کیا گیا لیکن خبر دو روز کے بعد جاری کی گئی۔ دوسرا یہ کہ ہمیں کسی نے یہ سمجھانے کی کوشش ہی نہیں کی کہ ڈرون سے پھینکے جانے والے میزائل آوارہ نہیں ہو سکتے۔ وہ اپنے ہدف تک ہی محدود رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس امر کا امکان البتہ موجود رہتا ہے کہ ہدف کا ”انتخاب“ غلط ہوا ہو۔

نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ہوئے المناک حادثے کی تفصیلات اب مستند ذرائع سے بیان کردی گی ہیں۔ لیکن عمرانڈو ”کہانی گیروں“ کی اب بھی تسلی نہیں ہو رہی اور مسلسل یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ایمن الظواہری کو ہلاک کرنے والے میزائل کے داغنے والا ڈرون طیارہ پاکستان کی فضا سے اڑ کر اپنے ہدف تک پہنچا تھا۔ اس حوالے سے ہماری سرکاری تردیدیں بھی اب تک کام نہیں آ سکیں کیونکہ بحیثیت قوم ہم دو جمع دو کے عادی ہیں۔ ایمن الظواہری کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد پاکستانی روپے کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں ”یک دم“ بہتر سے بہتر ہونا شروع ہو گئی۔اسی باعث یہ کہانی پھیلانا آسان ہو رہا ہے کہ شاید ایمن الظواہری کی ہلاکت میں ”مدد“ فراہم کرنے کے باعث امریکہ نے ہمارے ساتھ ”مہربانی“ برتی اور ڈالر نسبتاً سستا ہونا شروع ہو گیا۔ عام پاکستانیوں کی کماحقہ تعداد اگر اس کہانی پر اعتبار کر رہی ہے تو انہیں اس کا دوش نہیں دینا چاہیے۔ نصرت جاوید کہتے ہیں کہ اس صورتحال کا اصل ذمہ دار ہمارا میڈیا ہے جسے ففتھ جنریشن کی میڈیا وار کے لئے تیار کرتے ہوئے ہمارے حاکموں نے فقط حکم کا غلام بنا دیا ہے۔ ایسے میں اگر ہم ”فیک نیوز“ کا واقعتا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو پھر روایتی صحافت کو ریاستی شکنجے سے آزاد کرنا ہوگا۔ اگر یہ نہ ہوا تو پاکستانی عوام کی اکثریت ”شک وشبے“ میں مبتلا رہے گی اور”شیطان“ ہمارے دلوں میں وسوسے بڑھاتے رہیں گے۔

Related Articles

Back to top button