یٰسین ملک کے یکطرفہ ٹارئل پر مودی سرکار تنقید کی زد میں


مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی کے رہنما اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یٰسین ملک کے بھارت میں یکطرفہ اور غیر منصفانہ ٹرائل کے خلاف عالمی سطح پر احتجاج میں تیزی آتی جارہی ہے. ان کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ ساتھ ان کے جدو جہد آزادی کو برطانوی راج کے خلاف برصغیر کی تحریک آزادی سے ملایا جارہا ہے . یاد رہے کہ 22 فروری 2019 کو یٰسین ملک نے اپنی گرفتاری اور خاص طور پر 10 مئی 2019 کو نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں منتقلی کے بعد اپنے خلاف من گھڑت مقدمات نہ لڑنے کا فیصلہ کیا تھا . انہوں نے غیر منصفانہ اور متعصب عدالتی کارروائیوں اور بھارتی حکومت کے ناپاک عزائم کے پیش نظر احتجاجاً اپنا دفاعی وکیل واپس لے لیا تھا.

آزاد جموں کشمیر کے وزیر اعظم سردار تنویر الیاس نے بھارت میں ایک ’کینگرو کورٹ‘ کے ذریعے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے سربراہ یٰسین ملک کے یکطرفہ ٹرائل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یٰسین ملک کو بدنام زمانہ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے دائر دہشت گردی کے من گھڑت اور سیاسی طور پر محرک مقدمے میں جدو جہد آزادی کا جرم قبول کرنے پر مجبور کیا گیا ہے. آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم نے کہا کہ ’یٰسین ملک ایک سیاسی قیدی اور تحریک آزادی کے رہنما ہیں جو کشمیریوں کی آزادی کے منصفانہ مقصد کی پرامن طور پر حمایت کر رہے ہیں جس طرح مہاتما گاندھی اور نہرو نے برطانوی راج کے خلاف جدوجہد کی‘۔بھارتی میڈیا کے منفی پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے مناسب جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے آزادی کے حامی سوشل میڈیا صارفین سے کہا کہ بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے کی تائید سے گریز کریں۔

گزشتہ روز پاکستان میں یٰسین ملک کے لیے ٹوئٹر پر ایک ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ میں رہا، ہیش ٹیگ Release Yasin Malik کے ساتھ ٹوئٹس کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین نے بھارتی عدالت کے سامنے ان کے اعتراف جرم کے جھوٹے دعوے کو مسترد اور مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی جان کو درپیش خطرے کی جانب توجہ دلاتے ہوئے فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ یٰسین ملک کی اہلیہ مشال حسین ملک اور سیکڑوں دیگر افراد نے ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کہا کہ جے کے ایل ایف کے سربراہ ایک آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے انسان ہیں اور آزادی کی جدوجہد کوئی جرم نہیں ہے، بہت سے لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارتی حکومت انہیں جھوٹے الزامات میں سزائے موت دے سکتی ہے۔

ایک بیان میں چیف ترجمان جے کے ایل ایف رفیق ڈار نے کہا کہ یٰسین ملک کے منصفانہ ٹرائل سے انکار نریندر مودی کی زیر قیادت ہندوتوا حکومت کے کہنے پر ان کے خلاف سیاسی انتقام کا ایک اور واضح مظہر ہے جس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر متنازع ریاست جموں و کشمیر کی آزادی کے لیے لوگوں کی سب سے طاقتور اور مقبول آواز کو خاموش کرنا ہے۔ سابق پاکستانی سفیر عبدالباسط نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ’یٰسین ملک بلاشبہ ایک کشمیری رہنما ہیں اور برسوں سے دہلی کی تہاڑ جیل میں ہیں، مودی حکومت انہیں پھانسی دینے کے لیے جھوٹی بنیادیں تیار کر رہی ہے جیسا کہ مقبول بھٹ اور افضل گرو کے معاملے میں کیا گیا تھا‘۔

Related Articles

Back to top button