اگلے الیکشن کے بعد نواز وزیراعظم اورمریم وزیراعلیٰ ہوں گی؟


شریف خاندان کے اندرونی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ حمزہ شہباز شریف اگلے عام انتخابات کے بعد پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے امیدوار نہیں ہوں گے اور یہ عہدہ مریم نواز شریف کو دیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مریم نواز نااہلی کا شکار نہ ہوتیں تو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا تاج انہی کے سر پر سجایا جانا تھا۔ ذرائع یہ بھی دعویٰ کر رہے ہیں کہ اپنی نااہلی ختم ہو جانے کے بعد مرکز میں نواز شریف وزیراعظم ہوں گے جبکہ پنجاب میں مریم نواز کو وزیراعلیٰ بنایا جائے گا۔ خیال رہے کہ 2018 میں نواز شریف کو نااہل قرار دیئے جانے کے بعد مریم کو بھی نااہل کر دیا گیا تھا، دونوں نے عدالتی فیصلے چیلنج کر رکھے ہیں اور انہیں امید ہے کہ اب انکی اپیلوں پر فیصلے جلد آ جائیں گے۔
چودھری پرویزالٰہی کی جانب سے اپوزیشن کو دغا دینے کے نتیجے میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ بننے والے 47 سالہ حمزہ شہباز کو مسلم لیگ ن کی سیاست میں ایک کلیدی حیثیت یوں حاصل ہے کہ وہ سیاسی جوڑ توڑ کے کام جانتے ہیں۔ پنجاب میں گزشتہ 20 سالوں میں جہاں نواز اور شہباز لمبا عرصہ جلا وطنی میں رہے، تو حمزہ ہی تھے جو پارٹی کے معاملات دیکھ رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پنجاب کے طول و ارض میں ن لیگی قیادت سے براہِ راست رابطے میں رہتے ہیں اور کسی بھی رابطہ کاری کی مہم میں یہ بھاری ذمہ داری ان پر ہی عائد ہوتی ہے۔ جنرل پرویز مشرف کی جانب سے 1999 میں نواز شریف کا تخت الٹائے جانے کے بعد نواز اور شہباز دونوں کے خاندان جلا وطن کر دیئے گئے تھے، لیکن حمزہ شہباز کو پاکستان میں ہی رکھا گیا تھا۔ اگلے 7 سال جب ان کے والد اور تایا سعودی عرب اور پھر لندن میں قیام پذیر تھے، حمزہ شہباز نے مسلم لیگ ن کی قیادت بھی کی۔ وہ شریف خاندان کے واحد نوجوان رہنما تھے جو پارٹی کی قیادت کر سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مریم نواز کے سیاست میں آنے تک حمزہ کو ہی نواز شریف کا سیاسی جانشین سمجھا جاتا تھا۔
لاہور کا علاقہ گوالمنڈی مسلم لیگ ن کی سیاست کا گڑھ ہے۔ یہ شریف خاندان کا آبائی علاقہ ہے۔ نواز شریف نے جب سیاست کا آغاز کیا تو وہ اسی حلقے سے منتخب ہوا کرتے تھے اور جب 2013 میں انہوں نے طویل جلاوطنی کے بعد نئی حلقہ بندیوں کے تحت ایک بار پھر الیکشن لڑا تو تب تک یہ حلقہ دو حلقوں میں بٹ چکا تھا۔ نواز شریف نے اپنے آبائی حلقے سے حمزہ شہباز کو کھڑا کیا جب کہ اس کے ساتھ والا حلقہ جو تب NA-120 کہلاتا تھا اور 2018 کے انتخابات میں NA-125 میں تبدیل ہو گیا، یہ نواز شریف کا حلقہ رہا۔ جب کہ حمزہ NA-119 سے منتخب ہوئے تھے۔ 2018 کے انتخابات میں مری سے اپنے آبائی حلقے سے انتخاب ہارنے کے بعد شاہد خاقان عباسی یہیں سے ضمنی الیکشن لڑے اور کامیاب ٹھہرے تھے۔ حمزہ شہباز کا یہ حلقہ ملک بھر میں مسلم لیگ ن کا مضبوط ترین حلقہ سمجھا جاتا ہے۔
مسلم لیگ ن میں حمزہ کی اہمیت مقدم ہے۔ وہ پنجاب بھر میں پارٹی کی تنظیم کو جانتے ہیں، سمجھتے ہیں، خاندانی سیاست پر گہری نگاہ رکھتے ہیں، لوگوں سے رابطوں میں رہتے ہیں۔ ابھی چند ہی ماہ قبل جب مسلم لیگ ن نے ڈسکہ کا انتخاب جیتا تو اس میں پارٹی کے مختلف گروپس کے آپسی اختلافات ختم کروا کے ن لیگ کی جیت کے مارجن کو 20 ہزار تک لے جانے میں حمزہ کا کلیدی کردار تھا۔ 2015 میں عبدالعلیم خان اور ایاز صادق کے درمیان مقابلہ ہوا تو یہاں بھی حمزہ شہباز کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آئی تھیں۔
شریف خاندان اور پاکستانی سیاست کے تمام بڑے رہنماؤں کی طرح حمزہ شہباز پر بھی کرپشن کےالزامات ہیں۔ ان میں سب سے اہم منی لانڈرنگ کا ہے جس میں وہ عمران خان دورِ حکومت میں قریب 20 ماہ جیل میں رہے۔ اس کے علاوہ بھی ان کی ذات سے متعلق ماضی میں متعدد سکینڈلز سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم، یاد رہے کہ ان پر کسی کیس میں واضح شواہد کے ساتھ کسی عدالت میں فیصلہ نہیں ہوا۔ منی لانڈرنگ کیس میں وہ اس وقت ضمانت پر ہیں۔ مسلم لیگ ن کی سیاست کا اس وقت سب سے بڑا سوال نواز شریف کی جانشینی کا ہے۔ مریم نواز اور حمزہ اس کے دو امیدوار ہیں۔ مریم نواز کا اندازِ رہنمائی اپنے والد اور چچا سے قدرے مختلف ہیں۔ نواز شریف اور شہباز شریف نے جہاں لاہور شہر کے گلی کوچوں اور محلوں میں جا کر ذاتی سطح پر اپنے سیاسی تعلقات بنائے اور اس عمل میں کئی سال لگائے، یہ سیاست حمزہ نے تو ورثے میں پائی ہے لیکن مریم نواز کا انداز کچھ عمران خان سے ملتا جلتا ہے۔ وہ کراؤڈ کو متوجہ کر سکتی ہیں، بڑے جلسوں اور ریلیوں کی قیادت کر سکتی ہیں، عوام ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے دیوانے ہوتے ہیں، اور اسی خصوصیت کو سیاسیات کی زبان میں charisma کا نام دیا جاتا ہے۔ حمزہ میں یہ خصوصیات نہیں ہیں لیکن وہ الیکشن لڑنے کا ہنر جانتے ہیں۔ الیکشن میں کس امیدوار کو ٹکٹ دینی ہے، کس کے گھر جا کر اسے منانا ہے، کس کی ڈیوٹی کس کام پر لگانی ہے، کون سے حلقے میں کس برادری کو بڑا یعنی قومی اسمبلی کا ٹکٹ دینا ہے اور کسے صوبائی اسمبلی کا چھوٹا ٹکٹ دیا جانا چاہیے، کون سا ورکر کون سی ذمہ داری بہتر نبھا سکتا ہے، یہ سائنس حمزہ کو ازبر ہو چکی ہے۔ اسی طرح وہ شہباز شریف کے آخری دو ادوار میں پنجاب کی بیوروکریسی کو بھی ڈیل کرتے رہے ہیں۔ تاہم، ان کی اس کمزوری سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کوئی جلسوں کے کھلاڑی نہیں۔ انہیں charismatic نہیں کہا جا سکتا۔
حمزہ کے برعکس مریم نواز دوسرے صوبوں کے عوام میں بھی نواز شریف کی بیٹی ہونے اور انکا مزاحمتی بیانیہ آگے بڑھانے کے ناطے اپیل رکھتی ہیں، گزشتہ برس پی ڈی ایم کے جلسوں میں انہوں نے بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا میں اپنی اس صلاحیت کا لوہا بھی منوایا۔
سیاسی ماہرین کہتے ہیں کہ نواز شریف اور شہباز شریف میں ایک بہترین پاور شیئرنگ فارمولہ تھا جس کے تحت بڑا بھائی وفاق اور چھوٹا صوبے کی سیاست کرتا تھا۔ ان کے نزدیک اگلی پیڑھی میں بھی اگر یہی اصول جاری رہا تو مسلم لیگ ن ایک طاقتور سیاسی کھلاڑی رہے گی۔

Related Articles

Back to top button