عمران خان پاکستانی قوم کو کیسے تقسیم کر رہا ہے؟


سینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی ‘میں نہ مانوں’ کی اکھڑ پالیسی نے ’قومی سلامتی‘ کے نام پر قوم کو ہی تقسیم کرکے رکھ دیا ہے، لیکن بات جب ’میں نا مانوں‘ پر ہی پھنس کر رہ جائے تو پھر انتظار کے بغیر اور کیا ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران کے پیش کردہ مبینہ دھمکی آمیز خط پر قومی سلامتی کمیٹی کے ڈیڑھ ماہ میں تین اجلاس ہوچکے ہیں مگر ہم لوگ اس بحث سے آگے نہیں جا سکے کہ آیا امریکہ نے مداخلت کی یا سازش یا ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں’سازش‘ کا لفظ ہماری سیاست میں نیا نہیں، پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان سے لے کر عمران خان تک کوئی وزیراعظم اپنی آئینی مدت پوری نہ کرسکا۔ ہر جگہ سازش کا عنصر تلاش کیا جاسکتا ہے۔ہم بچپن سے سنتے آرہے ہیں ’ملک خطرناک دور سے گزر رہا ہے‘۔ کبھی نظریہ خطرہ میں پڑ جاتا ہے کبھی آزادی اور یوں پہلے 24 برس میں ہی ملک کی اکثریت نے اقلیت سے آزادی حاصل کرلی۔ پھر نعرہ لگا ’نیا پاکستان‘ کا اور چار سال بعد ہی ہم پرانے پاکستان میں چلے گئے، یعنی تیسرا مارشل لا۔ پہلے ہم نے خود کو محفوظ کرنے اور ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے ایٹم بم بنایا، اور ایک منتخب وزیراعظم کی قربانی دی اب ہم اس بم کی حفاظت کررہے ہیں۔ کبھی غور کیجئے گا کہ 1965 کی جنگ میں عوام کا جو جذبہ تھا وہ 1971 میں کیوں نہیں تھا۔
مظہر عباس کا کہنا ہے کہ ہر چند سال بعد اس ملک کے ساتھ ایک ’خطرناک‘ کھیل کھیلا جاتا ہے، جو اب بھی کھیلا جارہا ہے۔ کبھی مذہبی نعرہ لگا کر اپنے سیاسی مقاصد حاصل کئے جاتے ہیں کبھی قومی جذبہ کے نام پر ’سب سے پہلے پاکستان‘ کا نعرہ لگاکر آئین کو پامال کردیا جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب تک ہم اپنی سمت کا تعین ہی نہ کرسکے بس قوم کو پرکشش نعروں سے بہلاتے رہے اور آج ایک بار پھر ہم وہی کرنے جارہے ہیں۔ ہم نے غلامی سے آزادی حاصل کرلی مگر یہ طے ہی نہ کرسکے کہ آگے کیسے بڑھنا ہے۔ ہم نے خواب ویلفیئر سٹیٹ کا دیکھا لیکن تعبیر میں پاکستان کو ایک سکیورٹی اسٹیٹ بنادیا گیا۔ ہماری سیاسی قیادت نے پہلا دورہ ہی امریکہ کا کیا اور ابتدا میں ہی معاہدہ ’ایٹم فار پیس‘ کرلیا۔ روس نے ہمیں معاشی تعاون کی پیشکش کی مگر جذبہ ایمانی نے گوارہ نہ کیا کہ کمیونسٹ بلاک کا حصہ بنیں۔ یہی نہیں روس اور چین نواز جماعتوں پر پابندی لگادی گئی۔
مظہر عباس کا کہنا ہے کہ اپنے پیروں پر کیسے کھڑے ہونا ہے، یہ ہم نے کبھی سیکھا ہی نہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نہ ہم سیاسی طور پر مضبوط ہوسکے، نہ معاشی طور پر اور نہ ہی مذہبی طور پر کہ برسوں گزرنے کے بعد بھی ہم عید کے چاند پر لڑتے ہیں، زبان اور فرقہ بندی کے نام پر ایک دوسرے کا گلا تک کاٹ دیتے ہیں۔ اپنے مخالفوں کو غدار کہنا اور خود کو سب سے زیادہ محب وطن ثابت کرنا بھی ہمارا 75 سالہ محبوب مشغلہ ہے۔ لیکن کون سا محب وطن ہے جو اپنے وقت میں غدار نہیں ٹھہرایا گیا۔ بلوچوں، پختونوں، سندھیوں اور اردو بولنے والوں کے بعد اب تو بہت سے پنجابی سیاست دان اور دانشور بھی غدار ٹھہرے۔
ہماری فوج نے خود کو سیاست سے نیوٹرل کرنے کی کوشش کی تو ہمارے ریٹائرڈ افسران کی فوج سیاست میں آ گئی۔ دفاعی تجزیہ کار دفاع پر کم سیاست پر زیادہ بولنے لگے۔ کچھ نے کہا نیوٹرل نہیں رہناچاہئے اور ہمارے کپتان نے تو اس کے معنی ہی بدل دیئے حالانکہ 2014 میں انہوں نے ہی نعرہ لگایا تھا کہ ایمپائر نیوٹرل وہی لے کر آئے اور ہر بار اس کی انگلی کی طرف دیکھتے رہے مگر انگلی کھڑی نہ ہوئی۔
مظہر عباس بتاتے ہیں کہ لنگڑی لولی جمہوریت کا سفر سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد شروع ہوا تو اس وقت دو بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ساتھ چلنے کا عہد کیا ’میثاق جمہوریت‘ پر دستخط کرکے اور آئین میں پہلی بار 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبائی خودمختاری کا مسئلہ خاصی حد تک حل ہوا مگر بدقسمتی سے دونوں جماعتیں اس پر عمل کرنے میں ناکام رہیں اور اس کے ثمرات نچلی سطح تک نہیں پہنچ پائے۔ پھر وہ خود بھی تقسیم ہوگئیں اور ایک تیسرا آپشن عمران اور تحریک انصاف کی شکل میں سامنے لایا گیا۔ اس کا عروج ان دو جماعتوں کی ناکام پالیسیوں کا نتیجہ تھا مگر یہ بات جمہوریت مخالفوں کو ہضم کرنے میں مشکل پیش آئی ہے کہ ایک نئی جماعت کا اور نئے لیڈر کا آنا اسی جمہوری تسلسل کا حسن ہے جو ان کو برا لگتا ہے۔ اس سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری سیاسی تاریخ میں پہلی بار 2008 سے 2013 اور 2013 سے 2018 تک دو حکومتوں نے اپنی میعاد پوری کی اور پرامن انتقال اقتدار ہوا، چاہے دونوں ادوار میں دو دو وزیراعظم آئے۔
مظہر کہتے ہیں کہ اب بھی ایسا ہی ہونا چاہئے تھا اور تیسری حکومت کو بھی میعاد پوری کرنے کا حق دینا چاہیئے تھا۔ عمران پانچ سال پورے کرتا تو مسلسل جمہوریت کے 15 سال بنتے۔ اب پچھلے چند ماہ میں ایسا کیا ہوا کہ ایک طرف ’مراسلہ‘ کو بنیاد بناکر امریکی سازش یا مداخلت کے ذریعے عدم اعتماد کی تحریک کو پیش کرنے اور کامیابی کا الزام لگایا جارہا ہے تو دوسری طرف یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات بہتر رہتے تو حکومت کررہے ہوتے۔ آخر خود ہی بتادیں کہ کون سی بات درست ہے۔بقول مظہر عباس، اب ہمارے سابق وزیراعظم ایک ’آزادی مارچ‘ کرنے جارہے ہیں، ہم 75 سال پہلے انگریز سے آزاد ہوئے، بھارت سے الگ ہوئے اور اب امریکہ سے آزاد ہونے جارہے ہیں۔ بیداری اور خودداری اچھی چیز ہے اور جذبہ بھی نیک مگر یہ تو بتادیں کہ۔پاکستان کو ’معاشی‘ قوت بننے کا پلان کیا ہے۔ قومی سلامتی کے نام پر قوم کو تقسیم نہ کریں۔ یہی دیکھتا آرہا ہوں آگے بڑھتے بڑھتے پھر برسوں پیچھے چلے جاتے ہیں۔ اللہ خیر کرے

Related Articles

Back to top button