فوج اور عدلیہ پاکستانی قوم کا اعتبار کیوں کھو بیٹھی؟


مسلسل بحران کے شکار ملک پاکستان کا آئین موجودہ مشکل صورت حال سے نکلنے کے لئے کسی ملکی ادارے کو ثالث بن جانےکی اجازت نہیں دیتا جو بھی ثالثی ہو گی وہ ماہرین کے بقول ماورائے آئین ہو گی مسلسل مشکلات کے مارے پاکستان کے باسیوں کا اپنے ملک کے مقتدر اداروں پر اعتماد کم ہوتا جارہا ہے ۔اس مایوسی کے ذمہ دار یہ ادارے خود بھی ہیں اور وہ سیاست داں بھی جنہوں نے ان مقتدر اداروں کو سیاست میں گھسیٹا ہے اور پھر ان اداروں نے یا تو اپنی حدود سے تجاوز کیا یا وہ سب نہ کیا جو انہیں کسی بحران سے نمٹنے کے لئے کرنا چاہیے تھا ۔

پاکستان میں یوں تو سول ملٹری تعلقات کا مسئلہ گاہے گاہے زیر بحث آتا رہتاہے لیکن سماجی اور سیاسی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں، جہاں آئین کی بالادستی کی روایت قائم ہو اس میں ہر ادارہ ، آئین اور منتخب جمہوری حکومت اور عوامی نمائندوں کے ماتحت ہوتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں اسکے قیام کے بعد کے ابتدائی چند برسوں کو چھوڑکر باقی وقت کمزور سیاست دانوں اور سویلین حکمرانوں نے اپنی اپنی سیاسی بالادستی کے حصول اور اپنے مخالفین کو نیچا دکھانے کے لئے درپردہ یا کھلم کھلا فوج کی ان معاملات میں مداخلت کی حوصلہ افزائی کی۔

جنرل ایوب کا کمانڈر ان چیف ہونے کے ساتھ وزیر دفاع مقرر کیا جانا۔ بھٹو کے خلاف تحریک کے دوران فوج سے باقاعدہ مدد کی اپیل کرنا اور حالیہ دنوں میں فوج کی جانب سے بار بار یہ کہے جانے کے باوجود کہ اسکا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، فوج کی حمایت اور مخالفت میں بیانات کا آنا، یہ سب کچھ سیاسی اداروں کے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔ سیاست دان اور فوج ملک میں آمریت کے ذمہ دار قرار دئیے جائیں تو عدلیہ نے بھی تو آئین کے بر عکس مارشل لا کو نظریہ ضرورت کے تحت قبول کیا بلکہ ایک فوجی حکمران کو تو وہ سب کچھ کرنے کی اجازت بھی دے دی جس کی درخوست بھی نہیں کی گئی تھی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیاسی بحرانوں یا سیاسی تعطل کی صورت میں کس ادارے کو آگے آکر اسے حل کروانا چاہئے۔یا کس سے رجوع کیا جانا چاہئے۔ ماہرین کے درمیان اس بارے میں تو اتفاق رائے ہے کہ ان صورتوں میں آئین سے رہنمائی لی جائے اور اسکی توضیح یا وضاحت کے لئے اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیا جائے۔ لیکن اس بارے میں آراء مختلف ہیں کہ عملا ًایسا ہونا ممکن ہے یا نہیں۔

سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر رسول بخش رئیس کا کہنا تھا کہ اس وقت اداروں کو عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

’’صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کے جتنے بھی مقتدر ادارے ہیں، خواہ وہ عدلیہ ہو یا فوج یا اور کوئی اور ادارہ، ان سب پر عوام کے اعتماد میں بہت کمی آئی ہے۔ اور اداروں پر یہ گھٹتا ہوا اعتماد اور اسکے سبب پیدا ہونے والی مایوسی ہی دراصل اس قسم کے سیاسی بحرانوں کا سبب بنتی ہے۔ اور اسکے ذمہ دار یہ ادارے خود بھی ہیں۔ اور سیاست داں بھی ہیں۔ جنہوں نے ان مقتدر اداروں کو سیاست میں گھسیٹا ہے‘‘

ان کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر اعلیٰ عدلیہ کو آئین کی توضیح کرتے ہوئے سیاسی بحرانوں کے دوران ایمپائر یا ثالث کا رول ادا کرنا چاہئے۔ مگر اس پر اعتماد وہ نہیں رہا جو ہونا چاہئے تھا۔یا الیکشن کمیشن کو آگے آنا چاہئے۔ لیکن اس پر بھی سب اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ لہٰذا لے دے کے ایک فوج کا ادارہ ہی بچتا ہے۔ جو اپنی طاقت اور اختیار کی بدولت کوئی رول ادا کر سکتا ہے۔

عدلیہ کا موقف یہ ہے کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرتی ہے۔ اور اس کا سیاست سے کوئی تعلق یاواسطہ نہیں ہے۔
ماہر سیاسیات ڈاکٹر فاروق حسنات کے مطابق کسی بھی سیاسی بحران کے سلسلے میں آئین سے رجوع کیا جانا چاہئے۔ اور اس نے ہر ادارے کی جو حدود مقرر کردی ہیں ان سے آگے نہیں بڑھنا چاہئے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی آئین نقائص سے پاک نہیں ہوتا۔ اور بعض امور میں آئین خاموش ہوتا ہے وہاں ملک کی اعلیٰ عدلیہ اس خلاء کو پر کرتی ہے۔ اور آئین کی مختلف شقوں کی توضیح کرکے کوئی نتیجہ اخذ کرتی ہے۔ لیکن اگر عدالتوں پر اعتماد میں کمی ہو جائے،تو اسکی توضیح کو تمام فریق قبول نہیں کرتے۔ اور تنازعہ اپنی جگہ برقرار رہتا ہے۔ اور ایسے میں ایک ایسے ادارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو طاقتور ہو۔ اور فریقین کو عدلیہ کی توضیح ماننے پر مجبور کرنے کی قوت رکھتا ہو۔ اور پاکستان میں، تجزیہ کاروں کے مطابق، ایسا واحد ادارہ فوج ہی ہے۔ جو تنازعے کے ہر فریق کو اس توضیح کو ماننے پر مجبور کر سکے۔

تاہم ڈاکٹر فاروق حسنات کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ واحد ادارہ ہے جو پاکستان کے جاری سیاسی بحران کو حل کروانے کے لئے ایمپائر کا رول ادا کر سکتا ہے۔ نئے الیکشن کے احکامات دے سکتا ہے اور اپنے احکامات پر عمل درآمد کرانے کا فوج کو بھی حکم دے سکتا ہے۔

قاضی مبین سپریم کورٹ کے وکیل اور آئین کے ماہر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسوقت پاکستان کے آئین کے مطابق سپریم کورٹ سمیت ایسی کوئی اتھارٹی موجود نہیں ہے جو اس بحران کے حل کے لئے مداخلت کرسکے۔ اس آئینی ترمیم سے پہلے جس کے ذریعے صدر کے اسمبلیاں توڑنے کے اختیار کو سلب کر لیا گیا۔ صدر مملکت ایمپائر کا رول ادا کرتے ہوئے اسمبلیاں توڑ کر نئے انتخابات کراکے بحران کو حل کر سکتے تھے۔ اب وہ یہ بھی نہیں کر سکتے۔ البتہ اب سپریم کورٹ صدر سے کہہ سکتا ہے کہ وہ ایکٹ کریں۔ اور وہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر عدالت سے رجوع کرکے اس کی اجازت سے اسمبلیاں توڑ کر انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن سے کہہ سکتے ہیں۔

گویا آئین میں اس قسم کے بحران سے نکلنے کے لیے کوئی شق یا گنجائش مو جود نہیں ہے۔ جو بھی ثالثی ہو گی وہ ماہرین کے بقول ماورائے آئین ہو گی۔ اور وہ کارروائی سپریم کورٹ کے فیصلے یا حکم پر ہی ہوسکتی۔ جسکی آگے چل کر ایک قانونی حیثیت بن جائے۔

بہت سے تجزیہ کار بھی تواتر سے اس جانب اشارہ کرتے آ رہے ہیں کہ اگر عمران خان حکومت پر دبائو رکھیں گے اور معاشی سرگرمیاں ماند پڑتی رہیں گی ایسا وقت بھی آسکتا ہے کہ پاکستان کی فوج کو ہی متحرک کردار ادا کرنا پڑے گا۔ کم از کم وہ تحریک انصاف اور حکمران اتحادی جماعتوں کو ایک میز پر لا کر گفتگو کے ذریعے آگے بڑھنے پر مجبور ضرور کر سکتی ہے۔ فی الحال اس بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی ، شاید اسی خیال کے پیش نظر چند روز قبل جہلم میں جلسہ عام سے خطاب میں تحریک انصاف کے رہنما سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اعلانیہ کہا کہ جہلم کے عوام مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک کی حفاظت کے ذمہ دار ’ چوکیدار‘ نئے انتخابات کروائیں۔

Related Articles

Back to top button