عمران دوبارہ اقتدارمیں آنا اپنا حق کیوں سمجھتا ہے؟


معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے ہاتھوں اقتدار سے بے دخل ہونے والے عمران خان اور انکے ساتھی سمجھتے ہیں کہ فوری طور پر دوبارہ اقتدار میں آنا ان کا پیدائشی حق ہے اور ریاست کو یہ حق ٹرے میں رکھ کر انھیں واپس کر دینا چاہیے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ ایک لمحے کے لیے ہم فرض کر لیتے ہیں کہ عمران واقعی اپنے احتجاج سے ریاست کو گھٹنوں کے بل بٹھا دیتے ہیں۔ اسکے بعد خان صاحب کو ان کی مرضی کا الیکشن کمشنر‘ مرضی کی الیکشن کی تاریخ‘ مرضی کی الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں‘ مرضی کی حلقہ بندیاں‘ مرضی کے الیکٹورلز‘ مرضی کا پولنگ ٹائم اور مرضی کے تارکین وطن کے ووٹ بھی دے دیے جاتے ہیں اور ان کے تمام مخالفین کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ لیکن اسکے نتیجے میں اگر عمران خان دو تہائی اکثریت کے ساتھ ایک بار پھر وزیراعظم بن بھی جاتے ہیں تو وہ دوبارہ ایسا کونسا تیر چلائیں گے جو وہ پچھلے دور حکومت میں نہیں چلا پائے؟

جاوید چوہدری کے بقول عمران صدارتی نظام حکومت لاکر ایک آمر مطلق بننے کی کوشش کریں گے۔ انکے بقول غائب کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی ذات کے پاس نہیں لیکن میں جس عمران خان کو جانتا ہوں اور ساڑھے تین برس جو طرز حکمرانی میں نے دیکھا ہے مجھے اس سے محسوس ہوتا ہے عمران پارلیمانی جمہوریت سے خوش نہیں ہیں۔ موصوف ایم این ایز‘ سینیٹرز اور ایم پی ایز کو بلیک میلرز سمجھتے ہیں۔ وہ مجھتے ہیں کہ یہ لوگ گروپ بنا کر حکومت پر پریشر ڈالتے ہیں۔ عمران ان کے ساتھ ملنے اور ہاتھ ملانے میں بھی خوشی محسوس نہیں کرتے تھے لہٰذا دوتہائی اکثریت ملتے ہی موصوف پاکستان کو صدارتی طرز حکومت میں شفٹ کر دیں گے اور آئین تبدیل کر دیں گے۔ وہ صدر کواختیارات کا ماخذ بنا دیں گے۔ الیکشن براہ راست کر دیں گے اور امریکی صدر کی طرح جس کو چاہیں گے اسے وزارت کی کرسی پر بٹھا دیں گے اور جسے جب چاہیں گے اسے فارغ کر دیں گے۔

جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے کے بعد عمران آئین میں ترمیم کر کے وزیراعظم سے صدر بن جائیں گے اور پھر شہباز گل جیسے ماہرین کو اپنی کابینہ میں شامل کر لیں گے۔ عمران خان سپریم کورٹ سے بھی خوش نہیں ہیں اور بار بار کہتے ہیں کہ عدالتیں وقت پر فیصلے نہیں کرتیں جس کی وجہ سے 24 ارب روپے کی منی لانڈرنگ اور لندن میں اربوں روپے کے فلیٹس کے مالک وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بن جاتے ہیں۔ موصوف چیف جسٹس اور ججوں کی مدت ملازمت سے بھی مطمئن نہیں ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ججوں کو حکومت کے ماتحت ہونا چاہیے۔ خان صاحب اسی لیے اپنی نجی محفلوں میں قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کا حوالہ بھی دیتے ہیں اور صاف کہتے ہیں کہ ہماری حکومت جسٹس فائز عیسیٰ کے صدارتی ریفرنس کو منطقی نتیجے تک نہیں پہنچا سکی۔ لہٰذا عمران خان ججوں کی تعیناتی اور تقرری کا سسٹم بھی بدل دیں گے اور چیف جسٹس کی تعیناتی کا اختیار بھی اپنے ہاتھ میں لے لیں گے۔ یوں حکومت جب چاہے گی کسی بھی جج کو ریفرنس کے بغیر فارغ کر دے گی۔ جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ عمران خان دراصل شام کے صدر بشار الاسد کے فالور ہیں۔

انکا کہنا ہے کہ عمران خان آرمی چیف کی مدت ملازمت سے بھی مطمئن نہیں ہیں اور اکثر کہتے ہین کہ حکومت اگر آئی جی کو ہٹا سکتی ہے تو آرمی چیف کو کیوں نہیں ہٹا سکتی؟ لہٰذاعمران اگلی بار اپنا یہ اختیار استعمال کریں گے۔ وہ وزارت دفاع کا قلم دان بھی اپنے پاس رکھیں گے‘ سیکریٹری دفاع بھی ان کا کوئی قریبی ساتھی ہو گا‘ وہ بنی گالا میں رہائش پذیر ہو گا اور خان صاحب آئی جی کی طرح ہر سال چھ ماہ بعد آرمی چیف بھی بدل دیں گے۔ ڈی جی آئی ایس آئی سے بھی یہی سلوک ہو گا۔ عمران جب چاہیں گے اور جس کو چاہیں گے، یہ ذمے داری دے دیں گے اور جب چاہیں گے واپس بھیی لے لیں گے۔
عمران خان بزنس مینوں‘ چیمبر آف کامرس اور تاجر تنظیموں ںسے بھی خوش نہیں ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ حکومت کو بلیک میل کر کے ٹیکس میں چھوٹ لیتے ہیں لہٰذا یہ انھیں بھی ٹائیٹ کر دیں گے۔ ٹیکس دینا پورے ملک کی ذمے داری ہے چناں چہ حکومت جب چاہے گی اور جتنا چاہے گی ٹیکس وصول کرے گی اور جو شخص حکومت کے اس ارادے میں مزاحم ہو گا سرکار اس سے آہنی ہاتھوں سے نبٹے گی۔

بقول جاوید چودھری، عمران پاکستان کے سفارتی تعلقات کو بھی ’’ری وزٹ‘‘ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ امریکا اور سعودی عرب کی غلامی سے نکلنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم ان کو سلام کریں اور روس کے ساتھ جپھی ڈال لیں۔ گیس، تیل اور گندم روس سے خریدیں اور اگر اس کی پاداش میں عالمی پابندیاں بھی لگ جائیں تو ہم گھاس کھا لیں لیکن غلامی قبول نہ کریں۔ چناں چہ موصوف اگلی بار اقتدار میں آنے کے بعد وسیع پیمانے پر گھاس کا بندوبست کریں گے تاکہ قوم دس پندرہ سال تک اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ خان صاحب چین سے بھی مطمئن نہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے مشکل وقت میں چین سے مدد مانگی لیکن اس نے ہمیں دو بلین ڈالر دے کر ٹرخا دیا۔ اب ہمیں اس سے بھی دور ہو جانا چاہیے، لہٰذا یہ دوسری بار اقتدار میں آ کر ’’سی پیک‘‘ منصوبے کو بھی پیک کر دیں گے۔ یہ میڈیا سے بھی مطمئن نہیں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ میڈیا ان کے خلاف ہر سازش میں شریک ہو جاتا ہے، چناں چہ عمران کی اگلی حکومت میں میڈیا کے پاس صرف دو آپشنز ہوں گے۔ پہلی یہ کہ میڈیا مین اسٹریم سے سوشل میڈیا پر شفٹ ہو جائے تاکہ وہاں مخالف اینکرز اور چینلز کی چھترول کی جا سکے اور دوسرا یہ پی ٹی وی بلکہ پی ٹی آئی بن جائے۔ لیکن اگر چینلز یہ نہیں کرتے تو پھر وہ بھی اپنا دسترخوان لپیٹ لیں۔ ظاہر ہے عمران او قوم کو واقعی ایک قوم بنانا چاہتے ہیں۔ آلو ٹماٹر نہ تو پہلے ان کی ترجیح تھے اور نہ ہی مستقبل میں ہوں گے۔ لہٰذا عمران دو تہائی اکثریت کے بعد بھی آلو‘ ٹماٹر‘ گندم اور چینی کو اللہ کے بھروسے پر چھوڑدیں گے اور صرف اور صرف نیشن بلڈنگ اور نوجوانوں کی کردار سازی پر توجہ دیں گے تاکہ دس پندرہ کروڑ نوجوان مل کر چور چور کے نعرے لگا سکیں۔

بقول جاوید چوہدری، آخری بات یہ ہے کہ اگر دوسری بار بھی کسی نے ان کے خلاف سازش کی یا ان کی حکومت گرانے کی کوشش کی تو نتائج کا ذمے دار وہ خود ہو گا کیوں کہ ایٹم بم کا بٹن براہ راست ان کے ہاتھ میں ہو گا جس کے بعد دنیا میں صرف عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کا یہ گانا رہ جائے گا: ’’جب آئے گا عمران‘ سب کی جان‘ بنے گا نیا پاکستان‘‘۔

Related Articles

Back to top button