شہباز شریف ISI کو سکریننگ کا اختیار دینے پر ڈٹ گئے

وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایس آئی کو سرکاری افسران کی سکریننگ کا اختیار دینے کے فیصلے پر ہونے والی تنقید کو نظر انداز کرتے ہوئے اس پر عمل درآمد کے لیے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے، چنانچہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تمام وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کو ہدایت کی ہے کہ اپنے ملحقہ محکموں کو اس فیصلے سے باقاعدہ آگاہ کر دیں۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے یہ ہدایت ایک مراسلے میں جاری کی ہے جو چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز کے علاوہ، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹریز، چیئرمین نیب، ڈی جی انٹیلی جینس بیورو، اور سیکرٹریز قومی اسمبلی اور سینیٹ کو بھیج دیا گیا۔ یاد رہے کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر اب تمام اہم سرکاری تقرریوں، تعیناتیوں، اور ترقیوں کیلئے آئی ایس آئی کو اسپیشل vetting ویٹنگ ایجنسی مقرر کر دیا گیا ہے۔ پہلے سرکاری ملازمین کی ویٹنگ کا کام انٹیلی جنس بیورو یعنی آئی بھی کرتی تھی۔ لیکن اب وزیر اعظم شہباز شریف نے سویلین اتھارٹی کا جنازہ نکالتے ہوئے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹر سروسز انٹیلی جنس کو خصوصی تصدیقی ایجنسی کا اختیار دے دیا ہے۔ اب آئی ایس آئی کو تمام پبلک آفس ہولڈرز بشمول منتخب اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی اور سینٹ کی سکریننگ کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ تاہم یہ فیصلہ شدید عوامی تنقید کی زد میں ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب فوجی قیادت اپنے ادارے کو غیر سیاسی کرنے کے دعوے کرتی ہے جبکہ دوسری جانب فوج کی خفیہ ایجنسی منتخب اراکین پارلیمنٹ اور سرکاری ملازمین کی سکریننگ کا اختیار بھی حاصل کر رہی ہے جو کہ کھلا تضاد ہے۔

آئی ایس آئی کو ویٹنگ ایجنسی قرار دینے کا نوٹیفیکیشن اسٹیبلشمنٹ ڈویژن پہلے ہی جاری کرچکا ہے جسکے تحت سویلین اداروں میں تعیناتی اور تقرری کے لیے افسران کی جانچ پڑتال اور معلومات کی فراہمی کے لیے انٹیلی جنس بیورو سے اختیارات لے کر فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کو دے دیے گے ہیں۔ اب تمام اہم عہدوں پر پوسٹنگز آئی ایس آئی کی فراہم کردہ رپورٹ کی بنیاد پر ہوں گی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سویلین انٹیلی جنس اداروں میں افسران اپنے ہی ساتھیوں کی کارکردگی کی جانچ پڑتال کرتے ہیں اور بعض معاملات میں گڑبڑ ہونے کے باوجود انہیں کلیئرنس دے دی جاتی ہے جب کہ آئی ایس آئی پر کوئی شخص یا ادارہ اثر انداز نہیں ہوگا۔ دوسری جانب بعض تجزیہ کار حکومت کے اس فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ملک کے سویلین افسران کو مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا جب کہ پاکستان کے سویلین انٹیلی جنس ادارے بھی کمزور ہو جائیں گے۔

وزارتِ داخلہ کے سابق سیکریٹری تسنیم نورانی کا کہنا ہے کہ ہر ادارے کا اپنا دائرہ کار ہوتا ہے۔ اگر آپ آئی ایس آئی کو شامل کریں گے تو سول اور ملٹری اداروں کے درمیان فرق ختم ہو جائے گا کیوں کہ انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس اب بھی آتی ہیں، جن میں آئی بی اور اسپیشل برانچ شامل ہیں۔ آئی ایس آئی کو سول افسران کی جانچ پڑتال اور اس حوالے سے رپورٹ کے اختیار پر تسنیم نورانی نے کہا کہ اگر ایک ادارے کو اسپیشل ویٹنگ ادارہ قرار دے دیا جائے گا اور اس کو سرکاری طور پر اجازت دے دی جائے گی تو اس کی کسی رپورٹ کو رد کرنا سلیکشن بورڈ، پبلک سروس کمیشن اور پروموشن بورڈ کے لیے آسان نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی سول اداروں کی تجاویز فوج کے ایک ادارے کے ساتھ دیں گے تو فوج کی رپورٹ کو رد کرنا مشکل ہوگا۔ اس عمل سے ایک ادارے کو زیادہ بااختیار بنا دیا جائے گا۔ پروموشن بورڈ یا ایک ادارے کے سربراہ کا کام کیا رہ جائے گا کہ اگر آئی ایس آئی کی رپورٹ منفی ہوئی تو کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایس آئی کی رپورٹ کا کوئی اپیل سسٹم نہیں ہے۔ کوئی نظرثانی کا نظام نہیں ہے۔ یہ صرف انٹیلی جنس رپورٹ ہے جس پر کوئی جواز بھی پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر کسی افسر کی مزید تحقیق کرنا ضروری سمجھ رہے ہیں تو اس کے اپنے اداروں کے اندر مزید کوئی نظام بنایا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے سینیٹ کے سابق چیئرمین اور پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی کا کہنا تھا کہ اس عمل سے ایک ادارے کے ہاتھ میں زیادہ اختیارات آجائیں گے۔ ایک ہی ادارے کو طاقت کا مرکز بنا دیا جائے گا اور سوچ یہ ہوگی کہ باقی ادارے درست کام نہیں کررہے تو اس سے نقصان ہوگا۔ ہر ادارے کا اپنا کردار ہے لیکن سول اداروں کو فوج کے اداروں سے منسلک کریں گے تو بہتری کا امکان کم ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کرتے ہوئے جواز دیا جا رہا ہے کہ سابقہ دور حکومت میں بھی یہی طریقہ کار اپنایا جاتا تھا لیکن اب ہم نے اس کو قانونی شکل دے دی ہے۔ رضا ربانی نے کہا کہ سوال تو یہ ہے کہ اگر عمران حکومت ماضی میں غلط پالیسیاں اپنائے ہوئی تھی تو کیا انہیں آگے لے کر چلنا ضروری ہے۔

شہباز شریف کے اس فیصلے پر تنقید کرنے والے سرکاری افسران کا کہنا ہے کہ ماضی میں سول انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس کے بارے میں کچھ نہ کچھ آگاہی ہو جاتی تھی اور بعض سینئر افسران بتا دیتے تھے کہ انٹیلی جنس ادارے سے کیا اعتراض سامنے آیا ہے لیکن فوج کے اداروں میں خفیہ نظام ہے، اور ان کی رپورٹس کے خفیہ ہونے کی وجہ سے متعلقہ افسر کو کچھ بھی آگاہی نہیں ہوتی اور اسے پروموشن یا سلیکشن سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ لیکن فوج کے سابق افسر بریگیڈیئر ریٹائرڈ حارث نواز اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ انکا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کی طرف سے رپورٹس دینا کوئی نیا عمل نہیں ہے۔ ماضی میں بھی اسی طرح آئی ایس آئی کی طرف سے تمام افسران اور اہم تعیناتیوں پر رپورٹس دی جاتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ جتنے افسران کی ترقی ہوتی ہے، چاہے وہ فوج میں ہوں یا ان کا تعلق سول بیورو کریسی سے ہو۔ ان کے ماضی، سیاسی وابستگی، کام کرنے کے طریقۂ کار کے بارے میں آئی ایس آئی کی مکمل رپورٹ دی جاتی تھی۔ انہوں نے فوج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایس آئی کی آرمی میں ترقی کے حوالے سے رپورٹ تو اور بھی سخت ہوتی ہے جہاں ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی دونوں اس بارے میں مکمل تفصیلات فراہم کرتی ہیں۔

ان کے خیال میں اس عمل سے بہتری آئے گی کہ لوگ کچھ ڈریں گے تو سہی۔ وہ دیکھ سکیں گے کہ ان لوگوں نے ماضی میں کیا غلطی کی ہے۔ حارث نواز نے کہا کہ پہلے بھی سلیکشن تمام ادارے ہی کرتے ہیں اور حکومت انہیں تعینات کرتی ہے۔ آئی ایس آئی کی رپورٹس کے بعد بھی پروموشن بورڈز یا پبلک سروس کمیشن کا کام ہے کہ وہ اس رپورٹ کو اہمیت دیں یا نہ دیں کیوں کہ ان بورڈز میں کوئی بھی آئی ایس آئی کا یا فوج کا افسر نہیں ہوتا۔ صرف ایک رپورٹ ساتھ لگی ہوتی ہے جس میں ان کی ماضی، کرپشن، قواعد کی خلاف ورزی یا سیاسی وابستگی کے حوالے سے بتایا جاتا ہے۔ ان کے بقول ایسے میں ان افسران کی مرضی ہے کہ وہ اس افسر کو ترقی دیں یا نہ دیں۔ اس سے کسی ادارے کا اختیار کم ہونے کا مسئلہ نہیں ہے۔

سول اداروں سے یہ اختیار لینے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سول ادارے براہِ راست حکومت کے ماتحت ہوتے ہیں۔ حکومت کے اثر میں ہوتے ہیں۔ وہیں حکومت میں بیٹھے لوگ اپنی انٹیلی جنس اپنے دوست افسروں سے کلیئر کرا لیتے ہیں۔ فوج میں ایئرفورس، نیوی یا آرمی کے افسران سب کی پروموشن یا اسٹاف کالج یا وارکورس سے پہلے اسکروٹنی آئی ایس آئی کرتی ہے اور یہ ادارہ کسی بھی طرح اثر انداز نہیں ہوتا۔

تاہم پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ خدا کے واسطے ایسا نہ کریں۔ شہید بے نظیر بھٹو نے ایسا کرنے سے 1996 میں انکار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل سے تمام سول بیوروکریسی آئی ایس آئی کے ماتحت کر دی جائے گی۔ اس فیصلے سے سول بیورو کریسی میں یک طرفہ تبدیلی آ جائے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ایسا اتحادی حکومت نے کیا ہے؟ برائے مہربانی اس پر نظرِ ثانی کی جائے۔

Related Articles

Back to top button