ق لیگ کا اگلے الیکشن میں ن لیگ سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا امکان


گجرات کے دونوں چوہدری خاندانوں کا اب قاف لیگ میں اکٹھے رہنا ممکن نہیں رہا اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ اگلے الیکشن میں چوہدری شجاعت حسین کی زیر قیادت قاف لیگ کی نواز شریف کی جماعت سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو جائے۔ باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پرویز الہی اور شجاعت حسین کے خاندانوں کے مابین اختلافات اتنے بڑھ چکے ہیں کہ اب ان کا ایک جماعت میں اکٹھے رہنا ممکن نہیں اور اگلے انتخابات میں ان کے راستے جدا ہو کر رہیں گے۔ ذرائع نے مزید دعویٰ کیا کہ چوہدری شجاعت حسین کے صاحبزادے سالک حسین اگلا الیکشن چکوال کی بجائے گجرات سے اپنے والد کی سیٹ پر لڑیں گے کیونکہ چکوال میں انہیں چودھری پرویزالٰہی کی حمایت حاصل تھی جو اب برقرار نہیں رہے گی۔

گجرات کے دونوں چوہدری خاندانوں کے مابین بڑھتے ہوئے اختلافات تب کھل کر سامنے آگئے جب بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں مسلم لیگ قاف کے سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی نے کہا ہے کہ شہباز شریف نے شجاعت حسین کے چھوٹے بیٹے شافع حسین کو اپنا مشیر لگانے کی جھوٹی امید دلوائی ہوئی ہے اسی لیے یہ خاندان ان کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔ لیکن انھیں یہ نہیں معلوم کہ وہاں سے انھیں کچھ نہیں ملنا۔ پرویز الٰہی نے اپنی پارٹی کے صدر شجاعت کے بیٹے سالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسے چکوال سے قومی اسمبلی کی سیٹ میں نے نکلوا کر دی جبکہ اب ان کے حلقے والے انھیں ڈھونڈتے ہیں کہ وہ جیتنے کے بعد کہاں چلے گئے۔

مسلم لیگ قاف میں بڑھتے ہوئے اختلافات بارے چوہدری پرویز الہی کا کہنا تھا کہ ہم کسی پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کر رہے اور نہ ہی کوئی کہیں جا رہا ہے۔ میری شجاعت حسین سے بات ہوئی ہے اور انھوں نے کہا ہے کہ وہ کوئی ایسا فیصلہ نہیں کریں گے جو مناسب نہ ہو۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’ایسا نہیں ہو سکتا کہ جس کا جو دل کرے وہ اپنی مرضی سے فیصلہ کرے۔ لیکن دوسری جانب مسلم لیگ ق میں اندرونی اختلافات اور تقسیم کی خبروں کو تقویت تب ملی جب مسلم لیگ ق کے سنیئر رہنما چوہدری وجاہت حسین کے بیٹے حسین الٰہی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ کرتے ہوئے پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل شجاعت حسین کے بیٹے سالک حسین اور پارٹی کے جنرل سیکرٹری طارق بشیر چیمہ شہباز شریف کی اتحادی حکومت کی حمایت کر چکے ہیں۔

اس ایشو پر سینئیر صحافی ماجد نظامی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر دیکھا جائے تو چوہدری پرویز الہی کے بیٹے سیاست میں خاصے سرگرام ہیں اور اپنے علاقے کے لوگوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ جب کہ دوسری جانب شجاعت حسین کے دونوں بیٹے عملی طور پر سیاسی میدان میں اتنے متحرک نہیں ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ معاشی طور پر بھی مونس الہیٰ زیادہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ اس لیے اگر سیاسی مستقبل کی بات کریں تو ابھی مونس الہی اور حسین الہیٰ کا پلڑا زیادہ بھاری نظر آتا ہے۔ ماجد نظامی نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپس میں گجرات کے دونوں چوہدری خاندانوں کی راہیں ہمیشہ کے لیے جدا ہونے والی ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ کسی اور پارٹی میں شمولیت اختیار کرتے ہیں یا نہیں۔

اس سوال پر کہ کیا اگلے الیکشن میں مسلم لیگ ن سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ قاف لیگ کے لیے سود مند ثابت ہو سکتی یے؟ ماجد نظامی کا کہنا تھا کہ تاریخ پر نظر دوڑائیں تو گجرات کے حلقوں میں آپس کی لڑایاں اس چیز کی اجازت نہیں دیتی ہیں کیونکہ دھڑے کی سیاست کے پیچھے انھوں نے سالوں سے دشمنیاں پال رکھی ہیں۔ اس لیے اگر مسلم لیگ ق اگلے الیکشن میں مسلم لیگ ن کی طرف جاتی ہے تو یہ سیاسی خودکشی کرنے کے مترادف ہوگا۔‘

یاد رہے کہ چوہدری شجاعت اور پرویز کے خاندانوں نے پچھلی چار دہائیوں میں اکٹھے مل کر سیاست کی ہے۔ چوہدری شجاعت حسین کے والد چوہدری ظہور الٰہی تھے جبکہ انکے چھوٹے بھائی منظور الٰہی کے بیٹے پرویز الٰہی ہیں۔ دونوں کزنز نے شروع دن سے اپنے سیاسی طور طریقے وضع کر لیے۔ چوہدری شجاعت نے قومی اسمبلی کی سیاست میں قدم رکھا تو چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب کی سیاست کو اپنا ہدف بنایا۔ 80 کی دہائی میں دائیں بازو کی سیاست کرتے کرتے دونوں کزن بالآخر مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم پر پہنچ گئے۔ چوہدری شجاعت، نواز شریف حکومت کے دو مرتبہ وزیر داخلہ رہے جبکہ پرویز الٰہی کی نظریں پنجاب کی وزارت اعلٰی پر تھیں۔

چوہدری شجاعت اور پرویز الٰہی نے ظہور الٰہی کی سیاست کو دوام بخشا اور جلد ہی ملک کے اکم فیصلہ سازوں میں شمار ہونے لگے۔ 1997 کے الیکشن میں پہلی مرتبہ پرویز الٰہی کی شریف خاندان سے دلی عداوت اس وقت شروع ہوئی جب نواز شریف نے شہباز شریف کو پنجاب کا وزیراعلٰی بنا دیا۔ پرویز الٰہی خود کو وزارت اعلیٰ کا امیدوار سمجھتے تھے۔‘ پرویز الٰہی کا یہ خواب جنرل مشرف کے مارشل لا دور میں پورا ہوا۔ مشرف نے شریف حکومت ختم کی تو انہیں سیاسی سہارا پنجاب کے چوہدریوں نے دیا اور مسلم لیگ ق کی بنیادی رکھی اور پورے پانچ سال ملک کے حکمران رہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس خاندان میں فیصلہ سازی کی طاقت ہمیشہ چوہدری شجاعت کے پاس رہی اور کبھی بھی ان کے درمیان سیاسی اختلاف نہیں دیکھا گیا۔ چوہدری خاندان کے درمیان موجود سیاسی اختلاف کا پس منظر ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال سے جڑا ہوا ہے۔

سیاسی پنڈت یہ رائے رکھتے ہیں کہ اس کی وجہ اس خاندان کی نوجوان نسل ہے کیونکہ اب عملی طور پر مونس الہی باپ بن چکا ہے اور تمام سیاسی فیصلے کر کے پرویز الہی کے سر تھوپ دیتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آصف زرداری اور شہباز شریف کو آخری لمحے دھوکہ دے کر عمران سے ہاتھ ملانے کا فیصلہ بھی پرویز الہی کا نہیں بلکہ مونس الہی کا تھا جس پر شجاعت حسین کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا اور یوں پارٹی ٹوٹ گئی۔

یاد رہے کہ چوہدری خاندان کی اب تیسری نسل سیاست میں ہے۔ مونس الٰہی جو کہ چوہدری پرویز الٰہی کے بیٹے ہیں وہ دو مرتبہ 2008 اور 2013 میں پنجاب اسمبلی کے ممبر رہے ہیں جبکہ موجودہ قومی اسمبلی کے ممبر 2018 کا الیکشن جیت کر بنے۔ اس خاندان کے دوسرے نوجوان سالک حسین ہیں جو شجاعت حسین کے بیٹے ہیں اور اس وقت شہباز شریف حکومت کے وزیر ہیں۔ انہوں نے سیاست میں قدم ہی 2018 میں رکھا اور حلقہ این اے 65 چکوال سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔
چوہدری خاندان کے سیاست میں تیسرے نوجوان حسین الٰہی ہیں جو شجاعت حسین اور پرویز الٰہی کے تیسرے بھائی وجاہت حسین کے بیٹے ہیں۔ وجاہت نے سیاست میں قدم 2002 میں رکھا اور مسلسل دو بار انتخابات جیت کر ممبر قومی اسمبلی رہے، تاہم 2013 میں وہ الیکشن ہار گئے۔ 2018 میں انہوں نے خود الیکشن لڑنے کے بجائے اپنے بیٹے حسین الٰہی کو سیاست میں آگے کیا اور یوں وہ پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ لیکن اس دوران چوہدری خاندان کی سیاسی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اتنی بڑی سیاسی تقسیم کا تاثر سامنے آیا ہو جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط تر ہوتا چلا جارہا ہے۔

Related Articles

Back to top button