کیا پولیس رپورٹ کے بعد عمران پر توہین عدالت لگے گی؟


اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر اکبر ناصر خان نے 25 مئی کو شروع ہو کر 26 مئی کو ختم ہونے والے عمران خان کے آزادی مارچ سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرواتے ہوئے بتایا ہے کہ پی ٹی آئی کے ورکرز عدالتی احکامات کے برعکس اپنی قیادت کی ہدایت پر ڈی چوک پہنچ گئے تھے۔ مظاہرین کو قیادت کی جانب سے رکاوٹیں ہٹانے اور پولیس کے ساتھ مزاحمت کی ترغیب دی گئی، مظاہرین مسلح تھے جنہوں نے پولیس اور رینجرز پر پتھراؤ کیا اور ان پر گاڑیاں بھی چڑھائیں۔ مظاہرین نے کنٹینرز ہٹانے کے لیے بھاری مشینری استعمال کی اور تین سو سے زائد درختوں کو جلا دیا گیا۔

آئی جی اسلام آباد کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کی ڈی چوک پر آمد کے واقعات کی تفصیل بتائی گئی ہے۔ عمران کی جانب سے لانگ مارچ کے دوران عدالتی حکم کے برعکس ڈی چوک پہنچنے کے معاملے پر آئی جی اسلام آباد نے عدالتی 7 سوالات کے جوابات سپریم کورٹ میں جمع کروائے ہیں جن کی بنیاد پر عدالت نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت عمران خان کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتی ہے یا نہیں کیونکہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ میں سے ایک جج جسٹس یحیی آفریدی پہلے ہی میں عمران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا کہہ چکے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے انٹر سروسز انٹیلی جنس اور انٹیلی جنس بیورو کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں بھی یہی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 25 اور 26 مئی کے روز پارٹی قیادت کے حکم پر پی ٹی آئی کے مظاہرین عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈی چوک پہنچے اور ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ائی جی اسلام آباد کی رپورٹ کے ساتھ زخمیوں اور گرفتار کیے گئے افراد کی فہرست بھی عدالت عظمیٰ میں جمع کروائی گئی ہے۔ رپورٹ میں پی ٹی آئی کے کارکنان کی جانب سے گرین بیلٹ پر موجود درختوں کو جلانے کے ویڈیو کلپ بھی جمع کروائے گئے ہیں۔ اپنے ورکرز کو ڈی چوک پر پہنچ کر انتظار کرنے کے حوالے سے عمران خان کی تقاریر کے ویڈیو کلپس بھی رپورٹ کا حصہ ہیں، پی ٹی آئی ورکرز کے احتجاج اور ڈی چوک داخلوں سے متعلق ویڈیوز بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔

آئی جی اسلام آباد کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی نے اسلام آباد انتظامیہ کو 23 مئی کو سرینگر ہائی وی پر احتجاج کی درخوست دی، اسلام آباد انتظامیہ نے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر من و عن عمل کیا، تحفظ کے لیے ریڈ زون جانے والے راستے بند کر دیے گئے، لیکن سپریم کورٹ کے حکم کے بعد پولیس، رینجرز اور ایف سی کو مظاہرین کے خلاف ایکشن سے روک دیا گیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مظاہرین کے گروپ ڈی چوک کی جانب جانا شروع ہو گئے، مظاہرین کو قیادت کی جانب سے رکاوٹیں ہٹانے اور پولیس کے ساتھ مزاحمت کی ترغیب دی گئی، مظاہرین مسلح تھے،مظاہرین نے پولیس اور رینجرز پر پتھراؤ بھی کیا۔ آئی جی کی رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے پولیس پر گاڑیاں بھی چڑھائیں، ان کی جانب سے کنٹینرز ہٹانے کے لیے بھاری مشینری کو استعمال کیا گیا اور درختوں کو جلا دیا گیا۔ آئی جی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران اسماعیل، سیف نیازی، زرتاج گل اور دیگر کی قیادت میں دو ہزار مظاہرین ریڈ زون کی رکاوٹیں ہٹانے کی متعدد کوششیں کرتے ہوئے ریڈ زون میں داخل ہوئے، مظاہرین کو ہٹانے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مظاہرین پارٹی قیادت کے احکامات کے تحت منظم انداز میں ریڈ زون میں داخل ہوئے۔ رپورٹ کےمطابق عمران خان نے 6 بج کر 50 منٹ پر کارکنان کو ڈی چوک پہنچنے کا کہا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈی چوک پہنچنے کے لیے فواد چوہدری، سیف نیازی، زرتاج گل نے کارکنان کو ریڈ زون پہنچنے کے لیے اکسایا، سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جاری بیانات میں کارکنوں کو عمران خان کے استقبال کے لیے ریڈ زون پہنچنے کا کہا گیا۔ اپنی رپورٹ میں آئی جی اسلام آباد نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ انتظامیہ کی جانب سے سوشل میڈیا اور میڈیا پر اعلانات کیے گئے کہ مظاہرین ریڈ زون سے دور رہیں، مظاہرین کی جانب سے ریڈ زون میں داخلے کی کوششوں کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے گئے، مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کے باعث 23 سییکورٹی اہلکار زخمی ہوئے، پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال سے ہر حد تک گریز کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی خدشات بڑھنے پر آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو طلب کیا گیا، 2 سو سے تین سومظاہرین کنٹینرز ہٹا کر ریڈ زون میں داخل ہوئے، مظاہرین کو جی نائین اور ایچ نائین کے درمیان واقع جلسہ گاہ پہنچنے کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں تھی، مظاہرین ڈی چوک جانے والی رکاوٹوں کو عبور کر کے ریڈ زون میں داخل ہوئے، مظاہرین میں سے کوئی بھی مختص کردہ جلسہ گاہ نہ پہنچا۔

Related Articles

Back to top button