پاکستان میں توہین مذہب کے قانون کا غلط استعمال کیسے روکا جائے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ پاکستان میں نافذ کردہ توہین مذہب کے قانون کو سنسرشپ کیلئے غلط طریقے سےاستعمال کیا جاتا ہے جس کا مجھے خود بھی تجربہ ہے۔ کئی ریاستی اور غیر ریاستی عناصر نے پاکستان میں میرے خلاف، میرے ٹی وی چینل کیخلاف اور کئی دیگر صحافیوں پر توہین مذہب کے الزامات عائد کیے تاکہ مخالف آواز کو بند کیا جا سکے لیکن اس کے باوجود توہین مذہب انتہائی حساس معاملہ ہے اور ہمیں اس سے نمٹنے کیلئے انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہئے۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی سے تعلق رکھنے والے دو عہدیداروں کے بیانات کی وجہ سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ ایران سے لیکر سعودی عرب تک بھارت کے اسٹریٹجک شراکت دار سمجھے جانے والے ممالک نے بھی مودی سے بذات خود معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ بی جے پی کے رہنماؤں کے دل کو تکلیف پہنچانے والے بیانات کیخلاف صرف پاکستان، بھارت اور بنگلادیش ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں کتنی بڑی ریلیاں نکالی گئیں۔ بھارتی سکیورٹی فورسز نے سخت کریک ڈاؤن کرکے حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔

حامد میر کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ برسوں سے مسلمانوں کیخلاف نفرت آمیز بیانات کے منطقی نتیجے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر مودی معافی مانگ بھی لیں تو یہ بھارت میں مسلمانوں کے مستقبل کو تحفظ دینے کیلئے کافی نہیں، اور اسلاموفوبیا صرف بھارت کا ہی معاملہ نہیں، یہ عالمی مسئلہ ہے۔ امریکا کے شہر بفالو کی سُپر مارکیٹ میں سفید فام انتہا پسندوں کی جانب سے فائرنگ کرکے 10؍ افراد کو ہلاک کرنے کا معاملہ بھی اسلام مخالف اور ساتھ ہی یہود مخالف جذبات سے پُر ہے۔ کینیڈا کے مسلمان اب تک گزشتہ سال اونٹاریو میں قتل کیے گئے چار افراد کی ہلاکت پر نوحہ کناں ہیں۔ آسٹریلیا سے لیکر برازیل تک اسلام کے پیروکاروں کو اسلاموفوبیا جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ میں مغرب میں کئی ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو اس معاملے کو نظر انداز کرنے کو ترجیح دیں گے۔ لیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بلاسفیمی یا توہین مذہب ایک حساس معاملہ ہے۔ مذہبی منافرت پر مبنی بیانات کو روکنے سے اظہار کی آزادی کو نقصان ہوگا۔ لیکن کیا ہم اسے نظر انداز کر سکتے ہیں؟

بقول حامد میر ہالینڈ کے ایک رکن پارلیمنٹ گیرٹ ولڈر نے کھل کر بی جے پی لیڈر نوپوُر شرما کی حضور پاک ﷺ کی شان میں کی جانے والی گستاخی کی حمایت کی ہے۔ ماضی میں ولڈر پر اپنے ہی ملک میں فرد جرم عائد ہو چکی ہے۔ نوپوُر شرما کیلئے ان کی حمایت کو مغرب کے اسلام مخالف عناصر کا مشرق میں ہندو قوم پرستوں کے ساتھ اتحاد سمجھا جا رہا ہے۔ جس وقت بی جے پی عہدیداروں کی جانب سے توہین مذہب پر مبنی بیانات جاری کرنے پر مظاہروں کی خبر پھیلی تو میں اُس وقت برطانیہ میں یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے دورے پر تھا۔ میں نے معروف آکسفورڈ یونین کے مباحثے میں حصہ لیا کہ کس طرح برطانوی سامراج کے دور کے بنائے گئے قوانین آج بھی جنوبی ایشیا کی قسمت کا فیصلہ کر رہے ہیں۔

حامد میر بتاتے ہیں کہ آکسفورڈ یونین ہال میں آج بھی سابق وزیراعظم پاکستان بینظیر بھٹو کی تصویر موجود ہے۔ بحیثیت صدر آکسفورڈ یونین، 70ء کی دہائی میں انہوں نے اسی ہال میں کئی مباحثوں کی صدارت کی تھی۔ اپنی آخری کتاب ری کنسی لیی ایشن Reconciliation میں انہوں نے رابرٹ اسپینسر جیسے امریکی مصنفین پر تنقید کی تھی جو اسلام کیخلاف غلط معلومات پھیلا کر مشرق اور مغرب کیخلاف غلط فہمیاں پیدا کر رہے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ ہی مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی حمایت کی تھی۔ میں نے بھی آکسفورڈ یونین ہال میں یہی کچھ کیا اور کوشش کی کہ دلائل کے ذریعے حمایت حاصل کی جائے۔ میں نے بغاوت کے متعلق قانون (124A) سمیت برطانوی دور کے دیگر قوانین کا حوالہ دیا جنہیں بر صغیر میں 1860ء میں متعارف کرایا گیا تھا اور مطالبہ کیا کہ نو آبادیاتی دور کی اس میراث کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ کئی بھارتی مقررین نے میرے موقف کی حمایت کی۔

آخر میں ایوان نے قرارداد منظور کی کہ ’’برطانوی راج آج بھی زندہ ہے۔‘‘ مباحثے کے بعد بنگلادیش سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ نے مجھ سے پاکستان کے توہین مذہب کیخلاف قوانین پر سوال کیا کہ آپ کی رائے میں نو آبادیاتی دور کے اس قانون کو بھی ختم ہونا چاہئے۔

حامد میر کہتے ہیں کہ میں نے اس طالبہ کو پاکستان میں توہین مذہب کے قانون کا پس منظر سمجھایا۔ میں نے اُسے بتایا کہ کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں نافذ کردہ توہین مذہب کے قانون کو سنسرشپ کیلئے غلط استعمال کیا جاتا ہے جس کا مجھے خود بھی تجربہ ہے۔ کئی ریاستی اور غیر ریاستی عناصر نے پاکستان میں میرے خلاف، میرے ٹی وی چینل کیخلاف اور کئی دیگر صحافیوں پر توہین مذہب کے الزامات عائد کیے تاکہ مخالف آواز کو بند کیا جا سکے لیکن اس کے باوجود توہین مذہب، جسے خصوصاً اسلامو فوبیا جیسے وسیع تر مسئلے کا زہر آلود اظہار سمجھا جاتا ہے، انتہائی حساس معاملہ ہے اور ہمیں اس سے نمٹنے کیلئے انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہئے۔

حامد میر کہتے ہیں کہ مسلم دنیا کے جذبات مجروح کرکے بھارت میں توہین مذہب کے تازہ ترین واقعے کے ذریعے انتہا پسند قوتوں کو مضبوط کیا گیا ہے جو اسلامو فوبیا کا ذمہ دار مغرب کو قرار دیتے ہیں۔ اگر مغربی ممالک نے یوں ہی مسئلے کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری رکھا تو یہ ناسور بن جائے گا۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر اس رجحان کو پھیلنے سے نہ روکا گیا تو انتہا پسندی کی ایک نئی لہر آ سکتی ہے۔ آگے بڑھنے کا ایک طریقہ موجود ہے۔ انکا کہنا ہے کہ عالمی برادری کو نئے اصول اور ضابطے طے کرنا ہوں گے، اور رویوں کے حوالے سے ایک نیا ضابطہ سامنے لانا ہوگا۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ توہین مذہب کے خلاف مرتب کیے جانے والے ضابطہ اخلاق کو اظہار کی آزادی کیخلاف استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ او آئی سی کو چاہئے کہ وہ توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال پر پائی جانے والی تشویش کو دور کرے۔ یہ تشویش صرف مسلم ممالک میں ہی نہیں پائی جاتی۔ دنیا کے چار میں سے ایک ملک میں توہین مذہب کا قانون موجود ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ توازن کے حصول میں کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن بنیادی مسئلہ حل کرنا ضروری ہے۔

Related Articles

Back to top button