پی ٹی اے انٹرنیٹ کیساتھ کیا چھیڑ چھاڑ کرنے والی ہے؟


پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ملک بھر میں انٹرنیٹ پر غیر قانونی مواد کو بلاک کرنے کے لئے سینٹرلائزڈ ڈی این ایس کنٹرول کی پالیسی نافذ کرنے جا رہی ہے جسے ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والے انٹرنیٹ پر حملے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ اسکے علاوہ انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں نے بھی اس حکومتی پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، انکا کہنا ہے کہ حکومت نے اتنا بڑا فیصلہ انٹرنیٹ سروس پرووائڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر کیا گیا جو قابل قبول نہیں۔
دوسری جانب پی ٹی اے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان الیکٹرانک کرائمز ریگولیٹری اٹھارٹی یعنی پہلا آرڈیننس کے سیکشن 37 کے تحت محض غیر قانونی مواد کو بلاک کرنے کے لیے خود کار نظام کا نفاذ کیا گیا ہے، پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ہم نے ایسا سنٹرلائزڈ ڈی این ایس کنٹرول نافذ نہیں کیا جہاں ریزولوشن سینٹرلائزڈ ہوگی بلکہ تمام ریزولوشن انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز کی سطح پر ہو گی۔پی ٹی آئی کی اس تردید کے باوجود سوشل میڈیا پر اکثر افراد اس بارے میں سوالات پوچھ رہے ہیں اور یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا اگر ایسی کوئی پالیسی نافذ کی جاتی ہے تو اس کے اثرات عام صارف پر کیا ہو سکتے ہیں۔
ایلگزر ٹیکنالوجی میں سینئر منیجر آئی ٹی کامران خان نے ڈی این ایس بارے بتایا کہ جب بھی کسی ویب سائٹ کی رجسٹریشن ہوتی ہے تو اس سے ایک آئی پی ایڈرس دیا جاتا ہے جو عددی روپ میں ہوتا ہے۔ ایسے اربوں ایڈرس اس وقت موجود ہیں، ایسے میں عام صارف کی آسانی کے لیے اسے ایک نام دیا جاتا ہے جس کی میپنگ ڈومین نیم سسٹم یعنی ڈی ایم ایس سسٹم کہلاتی ہے۔
آپ اسے یوں سمجھ لیں کہ یہ ایک فون ڈائریکٹری ہے جس میں متعدد افراد کے نام اور نمبر درج ہیں۔ مثال کے طور پر گوگل ڈاٹ کام کا آئی پی ایڈرس ہے، اب ظاہر ہے کہ اس نمبر کو یاد رکھنے سے گوگل ڈاٹ کام کو یاد رکھنا زیادہ آسان ہے۔ اگر پی ٹی اے کو کسی بھی ویب سائٹ کو بلاک کرنا ہوتا ہے، تو اس کی درخواست لے کر اسے آئی ایس پیز کے پاس جانا پڑتا ہے جو ڈی این ایس سرور سے اس کا آئی پی ایڈرس ڈھونڈنے سے منع کر دیتی ہیں۔ یعنی اگر ملک میں ٹوئٹر ڈاٹ کام پر پابندی لگ جائے تو دراصل جب آپ اس کا یو آر ایل براؤزر میں لکھیں گے تو ڈی این ایس سرور اس کا آئی پی ایڈرس ڈھونڈ کر ہی نہیں دے گا، نہ ہوگا آئی پی ایڈرس، نہ کھلے گی ویب سائٹ تاہم سینٹرلائزڈ ڈی این ایس کنٹرول کے باعث پی ٹی اے مبینہ طور پر یہ طاقت بھی اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا ہے، یعنی ایک ہی مرکزی ڈی این ایس سرور جو تمام ایسی درخواستوں کے آئی پی ایڈرسز کی مراد پوری کرے۔
ڈیجیٹل حقوق کے حوالے سے سرگرم تنظیم بولو بھی کے شریک بانی اسامہ خلجی کے مطابق یکم جون کو پی ٹی اے کی جانب سے بلائے گئے اجلاس میں ملک کے تمام ٹیلی کام آپریٹرز بھی موجود تھے، ڈیجیٹل رائٹس کی تنظیم بائٹس فار آل کے شہزاد احمد کے مطابق اگر آج پی ٹی اے یہ کہہ رہی ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا، تو ان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا کہ یہ ایک ہفتے کے بعد ایسا کریں گے یا نہیں کیونکہ ہمیں نہیں معلوم۔ شہزاد احمد نے بتایا کہ میرا نہیں خیال اس سے کوئی فرق پڑتا ہے، ہم انھیں 2010 سے بتا رہے ہیں کہ آپ انٹرنیٹ کو کنٹرول نہیں کر سکتے، آپ لوگوں کی انٹرنیٹ کے ذمہ دارانہ استعمال کی جانب توجہ دلوائیں نہ کہ ہر چیز پر پابندی عائد کرنا شروع کر دیں، سینٹرلائزڈ ڈی این ایس کنٹرول کے باوجود بھی مواد پر مکمل پابندی لگانا ممکن نہیں۔
انٹرنیٹ کا ایک بہت بڑا حصہ جہاں ایسے غیر قانونی کام ہوتے ہیں وہ تو ہماری نظروں سے اوجھل ہیں، اور جو انٹرنیٹ ہماری نظروں کے سامنے ہے، اس کی تو پہلے ہی نگرانی ہوتی ہے تو اگر اس پر پابندی عائد ہوگی تو لوگ وی پی اینز کا استعمال کر لیں گے، پاکستان میں انٹرنیٹ تک رسائی کتنی محدود ہوگی، اس کا دارومدار اس بات پر بھی ہے کہ پی ٹی اے کے ارادے کیا ہیں۔

Related Articles

Back to top button