صدرعارف علوی کی شہباز شریف پر حملے کی تیاریاں


اسلام آباد میں افواہیں گرم ہیں کہ چارحکومتی اتحادی جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف سے اظہار ناراضی کے بعد عمرانڈو بریگیڈ کے سرغنہ صدر عارف علوی اب اس انتظار میں ہیں کہ کوئی ایک بھی اتحادی جماعت حکومت سے باہر آئے تو وہ فوری طور پر شہباز شریف کو بطور وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لینے کے لئے کہہ دیں تاکہ ایک نیا آئینی بحران کھڑا ہو جائے اور نئے انتخابات کا راستہ ہموار ہو جائے۔

یاد رہے کہ چار اہم ترین حکومتی اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم، بلوچستان عوامی پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اورجمعیت علماء اسلام نے گیارہ ہفتے قبل وجود میں آنے والی حکومت کے ساتھ اظہارِ ناراضی کردیا ہے جس کے بعد اس کا وجود خطرے میں پڑتا نظر آتا ہے۔ حکمران اتحاد میں دراڑیں تب واضح ہوئیں جب یکے بعد دیگرے ان اتحادی جماعتوں نے قومی اسمبلی میں حکمران مسلم لیگ نواز (ن) کے ’رویےکی تبدیلی‘ پرغصے کا اظہار کیا اور اس پر سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ سے قبل کیے جانے والے وعدوں سے پیچھے ہٹنے کا الزام لگایا۔ سب سے زیادہ جارحانہ مؤقف مولانا فضل الرحمان کی جمعیت علمائے اسلام نے اختیار کیا، جو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اتحاد کی اہم جماعتوں میں سے ایک اور مسلم لیگ (ن) اور کی کلیدی شراکت دار ہے۔

دوسری جانب ایم کیو ایم بھی ناراض ہے اور اسکا الزام ہے کہ سندھ اور وفاق میں حکومتی اتحادی ہونے کے باوجود صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے اس کے ساتھ کیے گئے وعدوں کا پاس نہیں کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایم کیو ایم کے ساتھ کیے گئے معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے ایک کمیٹی تو بنا دی ہے لیکن متحدہ کے اپنے اندر اتنے اختلافات ہیں کہ اس کا حکومت کے ساتھ چلنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ کچھ ایسے ہی معاملات بلوچستان عوامی پارٹی عرف باپ کے ہیں جو اپنے ساتھ ہونے والے وعدوں کی پاسداری نہ ہونے پر وزیراعظم شہباز شریف سے نالاں ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی نے تو کھل کر حکومت سے علیحدہ ہونے کی دھمکی دے دی ہے۔

اس صورتحال میں اسلام آباد میں افواہیں گرم ہیں کہ صدر علوی کسی بھی وقت اپنے شکست خوردہ کپتان کے ایما پر شہباز شریف کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہہ سکتے ہیں۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق دس سے زائد اتحادیوں پر مشتمل شہباز حکومت کو آخری دھچکا دینے کے لیے مناسب وقت کا انتظار کیا جارہا ہے اور جیسے ہی کوئی اتحادی حکومت کا ساتھ چھوڑے گا عارف علوی شہباز شریف پر حملہ آور ہو جائیں گے۔ اس حملے کا مقصد قبل از وقت انتخابات کے انعقاد کے لیے سیاسی بحران پیدا کرنا ہے۔

سینئر صحافی انصار عباسی کے مطابق جب انہوں نے اس معاملے پر فواد چوہدری سے رابطہ کیا تو انہوں نے شہباز شریف کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر پارٹی کے اندر مشاورت کی تصدیق کی۔انہوں نے بتایا کہ چند ہفتوں میں پی ٹی آئی صدر عارف علوی سے باضابطہ طور پر مطالبہ کرے گی کہ وہ وزیر اعظم شہباز شریف سے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے کہیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کے کچھ اتحادیوں سے رابطے میں ہے۔

شہباز شریف حکومت میں اہم اتحادیوں کے خلاف اے این پی اور ایم کیو ایم کے غصے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر کی طرف سے وزیر اعظم کو دو ہفتوں میں اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہا جا سکتا ہے۔

اس کیس میں آئین کا آرٹیکل 91(7) متعلقہ ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم، صدر کی خوشنودی کے دوران عہدے پر فائز رہے گا لیکن صدر اس شق کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال نہیں کرے گا تاوقت یہ کہ اسے اطمینان نہ ہو کہ وزیراعظم کو قومی اسمبلی کے ارکان کی اکثریت کا اعتماد حاصل نہیں ہے۔جس صورت میں وہ قومی اسمبلی کو طلب کرے گا اور وزیراعظم کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا حکم دے گا۔

اس ضمن میں جب سابق چیئرمین سینیٹ اور آئینی ماہر وسیم سجاد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے وضاحت کی کہ جب صدر، وزیراعظم سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہتا ہے تو اسے ایوان کے مجموعی ارکان کی اکثریت کا ووٹ لینے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ جو موجود ہوتے ہیں ان کی اکثریت کا ووٹ لینا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے انتخاب کے لیے مجموعی ارکان کی اکثریت سے ووٹ لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم، آرٹیکل 91(7) میں صرف موجود ارکان کی اکثریت کا ووٹ لینا ہوتا ہے۔

آرٹیکل 91(4) وزیراعظم کے انتخاب سے متعلق ہے۔ اس آرٹیکل میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ مجموعی ارکان کی اکثریت کا ووٹ، آرٹیکل 91(4) میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم قومی اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد کی اکثریت رائے دہی کے ذریعے نامزد کیا جائے گا۔ مگر شرط یہ ہے کہ اگر کوئی رکن پہلی رائے شماری میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے پہلے دو اراکین کے درمیان میں دوسری رائے شماری کا انعقاد کیا جائے گا اور وہ رکن جو موجود اراکین کی اکثریت رائے دہی حاصل کرلیتا ہے اس کا منتخب وزیراعظم کے طور پر اعلان کیا جائے گا۔ مزید شرط یہ ہے کہ اگر دو یا زائد اراکین کی جانب سے حاصل کردہ ووٹ کی تعداد مساوی ہوجائے تو ان کے درمیان مزید رائے شماری کا انعقاد کیا جائے گا، تاوقتیکہ ان میں سے کوئی ایک سب سے زیادہ حق رائے دہی حاصل نہ کرلے۔ تاہم حکومتی ذرائع کا دعوی ٰہے کہ اگر صدر عارف علوی وزیر اعظم شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہتے ہیں تو وہ آسانی سے یہ ووٹ لینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

Related Articles

Back to top button