فل کورٹ نہ بنانے کا فیصلہ دینے والے”تھری ایڈئیٹس” کیوں کہلائے؟


سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے حکومتی اتحادی جماعتوں کی فل کورٹ بنانے کی درخواست مسترد کئے جانے کو سوشل میڈیا پر “تھری ایڈیئٹس” کا فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں پاکستانی عدلیہ کے ماتھے پر لگا داغ اور بھی نمایاں ہو جائے گا۔ عدالتی فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یے سوشل میڈیا ناقدین یاد دلاتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو عمران خان کی جانب سے ترقیاتی فنڈز کے اجرا بارے ایک کیس میں ان کے اپنے لیے گے سوموٹو کے بینچ سے صرف اس لیے ہٹا دیا تھا کہ ان کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ عمران کے حوالے سے جانبدار تھے لیکن اب خود چیف جسٹس عمر عطا بندیال سمیت سپریم کورٹ کے تین ججز ایک ایسے بینچ بنانا کر فیصلہ دینے پر بضد ہیں جس پر تمام سیاسی جماعتیں اور قانون دانوں کی اکثریت عدم اعتماد کا اظہار کر چکی ہے۔

یاد رہے کہ جسٹس گلزار نے اپنے فیصلے میں یہ آبزرویشن دی تھی کہ چونکہ بینچ کے ایک رکن جسٹس فائز عیسیٰ نے ذاتی حیثیت میں وزیر اعظم کے خلاف اپنے دفاع میں ایک پٹیشن دائر کر رکھی ہے، اس لیے غیر جانبداری کے اصولوں کا تقاضا یہی ہے کہ انھیں ایسے معاملات کی سماعت نہیں کرنی چاہیے جو کہ وزیراعظم عمران خان سے متعلق ہوں۔

تھری ایڈئیٹس کے ناقدین کا کہنا ہے کہ غیرجانبداری کے اسی اصول کے تحت سپریم کورٹ کے تینوں جج چونکہ پچھلے کئی برسوں سے مسلم لیگی قیادت کے خلاف فیصلے دیتے چلے آئے ہیں لہٰذا ان کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کے معاملے میں فل کورٹ نہ بنانا اور خود فیصلہ کرنے پر اصرار کرنا، سراسر نا انصافی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ویسے بھی پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کے فیصلے پر جو کنفیوژن پیدا ہوئی ہے اس کی وجہ بھی سپریم کورٹ کا 17 مئی 2022 کا ایک فیصلہ ہے جو آئین کی تشریح کی بجائے دوبارہ آئین لکھنے کے مترادف تھا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کی رولنگ کے خلاف کیس کی سماعت کے لیے فل کورٹ بینچ تشکیل دینے کی حکمران اتحاد کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد قانونی ماہرین کی آرا اس اس بات پر منقسم اور مختلف نظر آئیں کہ اس معاملے کو مزید غور سے جانچنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔ متعدد قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کے سیاسی اور معاشی استحکام کو خطرات سے دوچار کرنے والے بحران سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے دائر کردہ صدارتی ریفرنس میں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے جس میں اس نے کہا تھا کہ منحرف اراکین کے ووٹ شمار نہیں کیے جائیں گے۔ یاد رہے کہ اس سلسلے میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن پہلے ہی ایک پٹیشن دائر کر چکی ہے جو پچھلے کئی ماہ سے زیر التوا ہے اور ابھی تک اس کا تفصیلی فیصلہ بھی نہیں لکھا گیا۔

معروف قانون دان سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے والے قانون سازوں کے ووٹوں کو شمار نہ کرنے کا حکم نہیں دیتی تو موجودہ بحران پیدا ہی نہ ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے آئین کی تشریح کرنے کی بجائے آئین میں ترمیم کر دی جو کہ اس کا اختیار نہیں تھا۔ اس فیصلے کے خلاف دائر نظرثانی کی درخواستوں کا حوالہ دیتے ہوئے سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ عدالت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر تو سکتی ہے لیکن نظر ثانی کے امکانات بہت کم ہیں، کیونکہ جن ججوں نے پہلے فیصلہ جاری کیا تھا وہ جج نظرثانی کی درخواستوں کی سماعت کریں گے۔ اسی طرح کے خیالات اور رائے کا اظہار جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی نے بھی کیا، انہوں نے کہا کہ عدالت کو چاہیے کہ وہ زیر بحث آرٹیکل کی اپنی تشریح پر نظر ثانی کرے اور فیصلے سے پیدا ہونے والی پچیدہ اور گنجلک صورتحال کو دور کرے۔ انہوں نے عدالت کو مشورہ دیا کہ وہ نظرثانی کی درخواستوں اور پی ٹی آئی کے 20 ڈی سیٹ ایم پی ایز کی جانب سے دائر ہونے والی درخواستوں کو یکجا کرے اور ان کی سماعت کے لیے فل کورٹ بینچ تشکیل دے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما اور معروف قانون دان فاروق نائیک نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی اور پارٹی سربراہ کے کردار کو آرٹیکل 63اے میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ انہوں نےصدارتی ریفرنس میں عدالت عظمیٰ کے 3-2 کے فیصلے کو آئین کو دوبارہ لکھنے کے مترادف قرار دیا۔

دوسری جانب سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان عرفان قادر نے کہا ہے کہ حکومتی اتحادی جماعتوں کے پاس سپریم کورٹ کی جانب سے فل کورٹ بنانے کی درخواست رد کیے جانے کے بعد بائیکاٹ کے علاوہ کوئی اور راستہ باقی نہیں بچا تھا۔ انہوں نے کہا کہ فل کورٹ بنانے کی درخواست مسترد کئے جانے کے خلاف ہم نے نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کی ضد نے عدلیہ کے ساکھ کو داؤ پر لگا دیا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ عدالت کیا فیصلہ دینا چاہتی ہے۔

Related Articles

Back to top button