کیا پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کر سکتی ہے؟


سپریم کورٹ کے متنازع چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے حمزہ شہباز کی جگہ پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کے بعد حکومتی جماعتوں نے عدالت پر اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود کرنے کی قرارداد بھی منظور کر لی ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حکومت سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کر پائے گی؟

سیاسی جماعتوں کے علاوہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور دیگر کئی بارز نے بھی چیف جسٹس کے سوو موٹو نوٹس لینے، کیسز لگانے اور بینچ بنانے کے اختیارات کو محدود کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ چیف جسٹس کی مبینہ شخصی آمریت کو ختم کیا جا سکے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے جوڈیشل اصلاحات کی تجویز دیتے ہوئے عدالتی اصلاحات کے لیے کمیٹی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ایسا نہیں ہوسکتا کہ پاکستان میں دو آئین ہوں۔ لاڈلے کے لیے ایک آئین اور ہمارے لیے دوسرا آئین۔ سپریم کورٹ نے آئین کی تشریح کرنا ہے نہ کہ نیا آئین بنانا ہے۔‘ بلاول نے کہا کہ پارلیمان اپنا کردار ادا کرے ورنہ اسے تالا لگا دیں، ملک میں دو آئین نہیں چل سکتے۔‘
بلاول کی دھواں دار تقریر کے بعد جوڈیشل اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کے لیے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں قرارداد پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ قوانین کی منظوری اور آئین میں ترمیم صرف پارلیمنٹ کا حق ہے۔ آئین، انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کے درمیان اختیارات تقسیم کرتا ہے، ریاست کا کوئی بھی ستون ایک دوسرے کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتا۔

قرارداد کے مطابق آرٹیکل 175 اے کے تحت اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کی توثیق بھی پارلیمنٹ کا اختیار ہے۔ پارلیمان عوامی امنگوں کی نمائندہ ہے اور کسی ادارے کو اپنے اختیارات سے تجاوز کی اجازت نہیں دے گی۔ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر صلاح الدین کا کہنا ہے کہ بینچ تشکیل کرنے کا اختیار پارلیمانی ایکٹ کے تحت چیف جسٹس کی بجائے سینئر ججوں کی مشترکہ کمیٹی یا فل کورٹ کی جانب سے چنے جانے کا ایک طریقہ کار بنایا جا سکتا ہے تاکہ بینچ کی تشکیل کسی ایک فرد کی صوابدید نہ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ کیسز کو فکس کرنے کا اختیار بھی چیف جسٹس کے پاس ہوتا ہے جس وجہ سے ’کچھ کیسز کو رات کے وقت سن لینے‘ کا الزام لگایا جاتا ہے اور ’سالہا سال سے التوا میں پڑے ہوئے کیسز کو سنا نہیں جاتا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اس تضاد کے لیے قانون سازی کی جا سکتی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ازخود نوٹس لینے کے طریقہ کار کی وضاحت بھی کی جا سکتی ہے اور ’یہ وہ چیزیں ہیں جن میں قانون سازی ممکن ہے۔‘

عدالتی اصطلاحات پر گفتگو کرتے ہوئے سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا تھا کہ کہ پچھلے سال ججوں کی تقرری سے متعلق آل پاکستان لائرز کانفرنسز ہوئیں جن میں بتائی گئی ان تین اصلاحات کے علاوہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز کی نامزدگی کے معیار کو شفاف بنانے کے حوالے سے مطالبات کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک یہ صوابدیدی اختیارات محدود نہیں ہوتے تب تک عدلیہ پر ہم خیال افراد کو فروغ دینے کا الزام لگتا رہے گا۔ اس معاملے پر لاہور ہائی کورٹ کا حصہ رہنے والے سابق جسٹس شبر رضا رضوی نے کہا کہ پارلیمان کے پاس آئین میں ترمیم کا اختیار ہے، پارلیمان سپریم کورٹ سے بینچز تشکیل دینے کے اختیار سمیت دیگر اختیارات واپس لینے یا کم کرنا چاہے تو آرٹیکل 191 میں ترمیم کرسکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ آرٹیکل سپریم کورٹ کے روزمرہ کے کام سے متعلق ہے، اور اگر پارلیمان سپریم کورٹ کی تقرریوں کو ٹھیک کرنا چاہتی ہے تو آرٹیکل 175 اے میں تبدیلی کرنی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے موجودہ اختیارات اور قوائد کی اصل ذمہ دار پیپلز پارٹی ہے۔ اس بات کا اعتراف 2020 میں بلاول بھٹو نے ’19ویں ترمیم ہم پر ٹھونسی گئی تھی‘ کا بیان دیتے ہوئے کیا تھا۔

سابق جج شبر رضا رضوی کے مطابق 18ویں ترمیم سے متعلق کمیٹی، جس کے سربراہ رضا ربانی تھے، نے سپریم کورٹ کو اختیارات دیے، اور 18ویں ترمیم میں تسلی نہ ہوئی تو اعلیٰ عدالت نے رضا ربانی کو بلا کر 19ویں ترمیم کے ذریعے تسلی کروا لی۔ انہوں نے کہا: ’بلاول بھٹو، رضا ربانی اور فرحت اللہ بابر سے پوچھا جائے کہ 19ویں ترمیم ان پر کس نے ٹھونسی؟ انکا کہنا تھا کہ جب ایک پارلیمانی پارٹی کا رہنما اتنی بے بسی کا اظہار کرے تو سپریم کورٹ یا باقی اداروں نے مداخلت کرنی ہی ہے۔‘ شبر رضا رضوی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں ججز کے تناسب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کونسل کے نو میں سے چھ ارکان جج ہوں گے تو ججز کی تعیناتی شفاف طریقے سے کیسے کی جا سکتی ہے؟

یاد رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے نو ارکان میں سے چھ میں چیف جسٹس آف پاکستان، چار سینئر سپریم کورٹ کے جج اور سپریم کورٹ کے ایک سابق جج شامل ہیں۔ ان کے علاوہ اس کونسل میں وزیر قانون، اٹارنی جنرل آف پاکستان اور پاکستان بار کونسل کے ایک رکن شامل ہوتے ہیں۔ عرفان قادر کا بھی یہی کہنا تھا کہ جب چھ اور تین کا تناسب ہو تو ججز کی تعیناتی میں شفافیت ممکن نہیں، اور کئی سالوں سے جج اور بار کونسلز اس تناسب کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ پارلیمان قانون سازی اور قانونی اصلاحات کرتے ہوئے اختیارات میں تبدیلی کر سکتی ہے جس میں کیسز فکس کرنا، بینچ تشکیل دینا اور ججز کی تعیناتی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنقید مسلسل کی جا رہی ہے کہ سارے کیسز میں مخصوص ججوں کے بینچ تشکیل دینے کا حق صرف ایک فرد کے پاس نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے کئی ممالک میں بینچ کی تشکیل انسان نہیں بلکہ کمپیوٹر کرتا ہے اور پاکستان میں بھی یہی طریقہ کار اپنا لینا چاہیے۔

Related Articles

Back to top button