اسٹیبلشمنٹ کی تخلیق اس کے اپنے گلے کیسے پڑ گئی؟


معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ پاکستانی سیاست میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ اسٹیبلشمنٹ کی تخلیق اپنے ہی خالق کے گلے پڑ گئی ہو۔ اس سے پہلے اسٹیبلشمنٹ نے پرائیویٹ ملیشاز بنائیں جو بعد میں ان کے لئے دردِ سر بن گئیں۔ اس نے افغانستان میں طالبان کو سپورٹ کیا اور پھر وہ بھی اسکے گلے پڑ گے۔ اسی اسٹیبلشمینٹ نے بے نظیر بھٹو کے خلاف نواز شریف کی سرپرستی کی اور بعد میں وہی میاں صاحب اسٹیبلشمنٹ کے گلے کی ہڈی بن گئے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ حقیقت میں پاکستانی فوج اور اس کی ایجنسیاں ایک روز بھی سیاست اور سفارت سے لاتعلق نہیں رہیں، لیکن اس کی جو قیمت مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، اور قوم پرست اور مذہبی جماعتوں نے ادا کی وہ بہت بھاری تھی۔ ان سب کو سیاسی منظرنامے سے آؤٹ کرنے اور عمران خان کو پہلے لیڈر اور پھر وزیر اعظم بنوانے کے لیے اداروں نے جو کاوشیں کیں، ماضی میں ان کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

بقول صافی، پی ٹی آئی اپنے آغاز کے وقت گولڈ سمتھ کا پراجیکٹ تھا لیکن 2010 میں اسے ہماری اسٹیبلشمنٹ نے گود لے لیا۔ آئی ایس آئی نے تب پی ٹی آئی میں لوگوں کو مجبور کر کے شامل کرایا۔ عمران خان کو سرمایہ داروں سے پیسے دلوائے، پھر کپتان سے دھرنے کروائےاور پولیٹکل مینجمنٹ کی گئی۔ نیب کو بدترین طریقے سے استعمال کیا گیا۔ عدالتوں سے نواز شریف اور مریم نواز کو سزائیں دلوائی گئیں۔ پیپلز پارٹی کے خلاف بھی اسی طرح کے اقدامات کئے گئے۔ فارن فنڈنگ کیس بھی اتنے برسوں اسٹیبلشمنٹ نے ہی منطقی انجام تک پہنچنے نہیں دیا ورنہ عمران خان الیکشن سے قبل ہی نااہل ہوجاتے۔

سلیم صافی کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود عمران خان 2018 کا الیکشن نہیں جیت سکتے تھے چنانچہ تب کے چیف الیکشن کمشنر سردار رضا اور سیکرٹری بابر یعقوب کے ذریعے آر ٹی ایس سسٹم فیل کروایا گیا۔ پھر باوردی سپاہیوں کے ذریعے پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکال کر ان سے پی ٹی آئی کے حق میں مہریں لگوائی گئیں۔ چنانچہ عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت وزیراعظم بنوایا اور یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ تب کے ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور نے عمران کے حق میں نہ صرف’’ و تعزمن تشا و تذل من تشا‘‘ کا ٹویٹ کیا بلکہ میڈیا کو ہدایت کی کہ وہ چھ ماہ تک خان کی حکومت کے خلاف کوئی منفی خبر شائع یا نشر نہ کریں۔ لیکن روایتی احسان فراموشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عمران اور ان کی اہلیہ کی ہدایت پر پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ٹرولز نے فوج اور فوجی قیادت کا حیران کر ڈالا۔ عمران کی سپورٹ کی وجہ سے پہلے چار سال تخ فوج کو اسٹیبلشمینٹ مخالف جماعتوں کی طرف سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور اب پی ٹی آئی نے اس پر تنقید کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

سلیم صافی کا کہنا ہے کہ مین اسٹریم میڈیا سے منسلک وہ اینکرز اور تجزیہ کار جو آئی ایس پی آر کی برکت سے اپنی دکان چلارہے تھے، انہیں عمران خان نے فوج کے خلاف کھڑا کردیا۔عمران سے مفادات اور ہدایات لینے والی میڈیا آرگنائزیشنز ، میڈیا پرسنز اور ٹرولز نے عسکری اداروں کی وہ کردار کشی کی کہ الامان الحفیظ۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ شہداء کو بھی نہیں بخشا گیا۔ لیکن عمران کے فالورز یہ سب کچھ سویلین بالادستی کے لیے نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کو بلیک میل کرنے کے لئے کر رہے ہیں تاکہ وہ دوبارہ انہیں گود لے لے اور ان کے لیے ماضی کی طرح غیر آئینی اقدامات کرے۔ تاہم اس مرتبہ فوجی قیادت نے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا بریگیڈ کی جانب سے پھیلائی گئی گندگی پر جس صبر اور وسیع القلبی کا مظاہرہ کیا وہ حیران کن ہے۔ وہ میڈیا ادارے اور میڈیا پرسن جنکی ساری دکانداری فوج کی سرپرستی کی مرہون منت تھی، فوج کے بارے میں ایسی گندہ زبان استعمال کرنے لگے کہ اگر فوج ماضی کا رویہ اپناتی تو وہ اب تک اپنے چینلوں سمیت غائب ہوچکے ہوتے۔ لیکن ان میں سے کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
 اسی طرح پی ٹی آئی کے قاسم سوری جیسے لوگ جو بغیر سرپرستی کے یونین کونسل کے ممبر نہیں بن سکتے، انہیں بھی عمران کی شہہ پر ہی پاکستانی فوج اور اسکے میزائل پروگرام کا مذاق اڑانے کی ہمت ہوئی۔ 

لیکن سلیم صافی کہتے ہیں کہ ایک جانب عمران خان کی پی ٹی آئی یہ سب کرتی رہی اور دوسری جانب کوئی دن ایسا نہیں گزرا جب خان صاحب نے منت ترلے کیلئے فوجی قیادت یا ان کے کسی نمائندے کے پاس کوئی بندہ نہ بھیجا ہو۔ لیکن جب فوجی قیادت اپنے آئینی رول تک محدود رہنے پر مصر رہی تو پی ٹی آئی کا یوتھیا بریگیڈ فوج کے بارے میں گراوٹ کی اس انتہا تک گر گیا کہ کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز اور انکے ساتھیوں کی ہیلی کاپٹر حادثے میں شہادت کو بھی اپنے گندے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا۔ انتہائی لغو اور من گھڑت تھیوریز نکالیں اور شہدا کے بارے میں ایسی غلیظ زبان استعمال کی کہ ان کے ورثا کی فیملیز بالخصوص اور فوج کی بالعموم شدید دل آزاری ہوئ ۔ یہی وجہ تھی کہ جب عمرانڈو صدر علوی نے شہدا کے جنازے میں شرکت کی خواہش ظاہر کی تو انہیں لواحقین کے غم و غصے کے پیش نظر شرکت سے منع کر دیا گیا۔ دوسری طرف وزیر اعظم شہباز شریف اور وزرا جنازے میں شریک ہوئے۔

سلیم صافی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے اب ملکی سلامتی کے ساتھ نیا کھلواڑ شروع کردیا ہے اور سوشل میڈیا پر یہ بات پھیلانے لگی ہے کہ القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کو جس امریکی ڈرون نے کابل میں نشانہ بنایا وہ پاکستان کی زمینی حدود سے گیا تھا حالانکہ خود افغان طالبان نے ایسا کوئی الزام نہیں لگایا۔ غالب امکان یہ ہے کہ وہ ڈرون کرغزستان سے اڑ کر آیا تھا۔ اب جہاں تک ہوائی کاریڈور یا پھر سرویلنس والے ڈرونز کے پاکستانی سرزمین سے گزرنے کا معاملہ ہے تو پی ٹی آئی کے یہ احمق یہ حقیقت بھول جاتے ہیں کہ امریکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جس قرارداد کے تحت افغانستان میں آیا تھا، وہ اپنی جگہ پر موجود ہے اور اس قرارداد کی رو سے ہر ملک افغانستان کے معاملے میں امریکہ کے ساتھ تعاون کا پابند ہے۔ یہ کاریڈور فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے دور میں امریکہ کو دیا گیا تھا۔ عمران خان کے دور میں بھی امریکیوں کو یہ سہولت حاصل تھی اور انکی حکومت میں بھی امریکہ افغانستان تک جانے کیلئے اور سرویلنس ڈرون لیجانے کی سہولت سے استفادہ کررہا تھا، لیکن بطور وزیر اعظم نہ عمران خان نے اسے روکا اور نہ شیریں مزاری جیسے اس کے خلاف بولے، لیکن اب سیاست چمکانے کے کے لیے عمران اور انکے ساتھی یہ غلط تاثر دے کر افغان طالبان کو پاکستان کا دشمن بنانے پر تلے ہوئے ہیں کہ ڈاکٹر ظواہری پر حملہ کرنے کیلئے ڈرون پاکستان سے آیا یا پھر پاکستان کے راستے سے اڑا ہوا گیا۔

سلیم صافی کے مطابق دوسری طرف نہ صرف عمران نے امریکہ سے صلح کیلئے اپنا نمائندہ امریکہ بھیجا ہوا ہے بلکہ امریکی سفیر نے عمران خان کے قریب سمجھے جانے والے خیبرپختونخواہ کے وزیر اعلی محمود خان سے ملاقات کرتے ہوئے ان کی حکومت کو گاڑیوں کا تحفہ بھی دیا۔ ایسے میں یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ عمران خان کی سیاست منافقت سے عبارت ہے۔

Related Articles

Back to top button