جنرل باجوہ اورعمران خان کی خفیہ ملاقات میں کیا ہوا؟


ایک طرف صدر عارف علوی کی جانب سے حکومت اور اپوزیشن کے مابین مفاہمت کی کوششیں جاری ہیں تو دوسری طرف یہ خبر آئی ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق وزیراعظم عمران خان کے مابین صدر عارف علوی کی موجودگی میں ہونے والی ایک خفیہ ملاقات صرف 15 منٹ بعد ہی تلخی پر اختتام پذیر ہو گئی۔ ماضی میں ریاستی اداروں کے غیض و غضب کا نشانہ بننے والے دو سینئر صحافیوں اسد علی طور اور عمران شفقت نے اپنے وی لاگز میں دعوی ٰکیا ہے کہ یہ ملاقات عارف علوی کی کوششوں سے ہوئی لیکن عمران خان کے جارحانہ رویے کی وجہ سے فورا ًہی تلخی پر ختم ہو گئی۔ تاہم عسکری ذرائع اس حوالے سے کوئی تبصرہ کرنے سے انکاری ہیں۔ دوسری جانب باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے اس میٹنگ کی ناکامی کے بعد جنرل باجوہ کو راضی کرنے کے لئے کامران خان کو دیئے گئے انٹرویو میں آرمی چیف کو اگلے عام انتخابات تک برقرار رکھنے کی تجویز دے ڈالی۔ تاہم بتایا جا رہا ہے کہ خان صاحب کا یہ ہتھکنڈا بھی رائیگاں گیا ہے چونکہ جنرل باجوہ کسی صورت مزید توسیع لینے کے حق میں نہیں ہیں۔

یاد رہے کہ یہ تجویز دینے سے پہلے عمران نے ایک بھرے جلسے میں اعلان کیا تھا کہ وہ نواز شریف اور آصف علی زرداری کو کسی بھی صورت نیا آرمی چیف تعینات کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ عمران کے اس بیان پر فوجی ترجمان نے سخت رد عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ آرمی چیف کی تعیناتی کے حساس معاملے کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب صدر عارف علوی موجودہ حکومت، تحریک انصاف اور فوجی قیادت کے مابین مفاہمت کی کوششوں میں مصروف ہیں جس کا بنیادی مقصد عمران اور ان کی جماعت کو ریلیف فراہم کرنا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے عمران خان اور جنرل باجوہ کے مابین جو ملاقات کروائی اس کا بنیادی مقصد بھی کپتان کے لئے ہر طرف بند ہوتے ہوئے دروازوں کو کھولنا ہے۔

حامد میر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر علوی سے سوال ہوا کہ کیا ایوان صدر موجودہ سیاسی کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے کوئی کردار ادا کر کر رہا ہے اور کیا پاکستانی عوام اس سلسلے میں کسی اچھی خبر کی توقع کر سکتے ہیں؟ صدر علوی نے اس کا جواب کچھ یوں دیا کہ ’میں پیشگوئی نہیں کروں گا مگر میں یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ میں پُرامید ہوں۔ ہر اچھی کوشش میں اللہ برکت ڈالتا ہے۔‘ صدر کے اس انٹرویو کے چند روز بعد عمران خان نے ’دنیا‘ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کافی اہم ہے اور اس کا اختیار نئی منتخب حکومت کو ہونا چاہیے۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی تو نومبر میں ہونی ہے مگر الیکشن اس کے بعد، تو اس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ’اس کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ ملک کی بہتری کے لیے اگر اس کی پرووژن نکل سکتی ہے، وکیلوں نے مجھے بتایا ہے کہ اس کی پرووژن نکل سکتی ہے کہ جب الیکٹڈ حکومت آئے وہ فیصلہ کرے۔‘

ان حالیہ بیانات کے بعد سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا پاکستان واقعی کسی سیاسی مفاہمت کی طرف بڑھ رہا ہے اور کیا اس مفاہمت کے نتیجے میں عمران نااہلی اور گرفتاری سے بچ جائیں گے۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ ’میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا کہ صدر علوی کے توسط سے کچھ اہم ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ لیکن سیاسی فریقین میں سے کون کس سے اور کہاں ملا ہے، اس سوال کا واضح جواب دینے پر کوئی تیار نہیں۔ لیکن عمران خان کی طرف سے فوج کے سربراہ کی مدت میں اضافے کی بالواسطہ تجویز کو ’مؤقف میں لچک دکھانے‘ سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور اسے انہی رابطوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیراعظم کے سابق معاونِ خصوصی بیرسٹر ظفر اللہ خان اس امکان کو درست نہیں سمجھتے۔ انھوں نے کہا کہ ’تحریک انصاف کے ساتھ مختلف سطح پر مذاکرات کا مجھے کافی تجربہ ہے۔ بات چیت میں ہمارے درمیان اتفاق ہو جاتا تھا لیکن اتفاق کے بعد یہ لوگ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ یہ بات ہم خان صاحب سے نہیں کہہ سکتے۔‘

اس تجربے کی بنیاد پر اُن کا خیال ہے کہ صدر عارف علوی جو کوشش کر رہے ہیں، اس کے زیادہ نتیجہ خیز ہونے کا امکان کم ہے۔ حامد میر بھی اس تاثر کی تائید کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ’یہ ملاقاتیں مثبت نتائج پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکیں گی، اس کے لیے دعا ہی کی جا سکتی ہے۔‘

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’صدر عارف علوی کی طرف سے مفاہمت کی کوشش چند غیر معمولی واقعات کے بعد سامنے آئی ہے۔ ان میں سے ایک فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ ہے اور دوسرا شہباز گل کی گفتگو جس کے بارے میں تاثر ہے کہ اس کے ذریعے فوج میں بغاوت برپا کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسکے علاوہ توہین عدالت اور توہین الیکشن کمیشن کے کیسز بھی بہت سیریس نوعیت کے ہیں اور ان کے نتائج نہایت سنگین اور دور رس ہو سکتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایسے میں بظاہر صدر علوی کی بنیادی کوشش بے تحاشہ مشکلات میں پھنسے ہوئے عمران خان کو ریسکیو کرنے کی ہے۔

تاہم حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اب جب عمران ہر جانب سے مشکلات میں پھنس چکے ہیں تو صدر عارف علوی کی کوششوں کو مفاہمت کی کوششیں قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ ان کا مقصد عمران کو ریسکیو کرنا ہے۔ حکومتی حلقے یاد دلاتے ہیں کہ یہ وہی عارف علوی ہیں جنہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کی کابینہ سے حلف لینے سے انکار کر دیا تھا۔ اسکے بعد انہوں نے پنجاب میں گورنر کے تقرر میں بھی رکاوٹ ڈالی۔ لیکن بعد میں جب پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے تو ایوان صدر میں ان کا حلف لینے پر بھی تیار ہو گئے جو تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ ایسے میں حکومتی حلقے کہتے ہیں کہ صدر علوی کی جانب سے کی جانے والی کوششیں یکطرفہ ثابت ہونگی کیونکہ اب عمران خان کے احتساب کی باری ہے لہذا اب مفاہمت اور غلط فہمیاں دور کرنے کا چورن بکنے والا نہیں۔

Related Articles

Back to top button