داسو میں چینی انجینئرز پر خود کش حملہ تحریک طالبان نے کیا

معلوم ہوا ہے کہ جولائی 2021 میں صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقے اپر کوہستان میں داسو ڈیم پراجیکٹ پر کام کرنے والے چینی انجینیئرز پر خود کش حملہ تحریک طالبان پاکستان کے سوات چیپٹر نے کیا تھا جس میں 13 افراد مارے گے تھے جن میں نو چینی شہری، دو ایف سی اہلکار اور دو مقامی افراد شامل تھے۔ اس سے پہلے یہ خیال کیا جارہا تھا کہ حملہ چینی عسکریت پسند گروپ ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ نے کیا تھا۔ اس حملے کی تفتیش کرنے والی ٹیم کے مطابق تمام ملزمان کا تعلق سوات کے علاقے سے تھا۔ واردات ایک خود کش بمبار کے ذریعے ڈالی گئی جس نے اپنی گاڑی چینی انجینئرز کی بس سے ٹکرا دی تھی۔ خود کش حملہ آور کم عمر تھا جس کا شناختی کارڈ بھی نہیں بنا ہوا تھا، چنانچہ حملہ آور کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کی گئی۔ بمبار کا تعلق بھی سوات سے نکلا۔

14 نومبر 2022 کو ایبٹ آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے داسو حملے میں ملوث دو ملزمان کو سزائے موت اور جرمانے کی سزائیں سنائیں جبکہ چار ملزماں کو بری کر دیا۔ واضح رہے کہ اس حملے میں نامزد چار ملزمان ابھی تک مفرور ہیں۔ ڈی آئی جی ہزارہ ذیشان اصغر کے مطابق بری کیے جانے والے ملزمان کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں اپیلیں دائر کی جائیں گی۔ یاد رہے کہ داسو میں چینی باشندوں پر ہونے والا خودکش حملے کے بعد پاکستان اور چین کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے اور اس نے اپنی تمام تعمیراتی عملے کو واپس بلا لیا تھا۔

کیس کی تحقیقات کے حوالے سے ڈی آئی جی ہزارہ پولیس ذیشان اصغر نے بتایا کہ خیبر پختونخوا پولیس اور حساس اداروں کی محنت رنگ لائی۔ انہوں نے کہا کہ ’پہلی بار تمام تر سائنسی خطوط پر تفتیش اور حساس اداروں کی معلومات کی فراہمی اور تعاون سے خودکش حملہ آور کے ساتھ ساتھ اصل ماسٹر مائینڈز تک کو نہ صرف گرفتار کیا گیا بلکہ انصاف کے کٹہرے میں ملوث افراد کوسب سے بڑی سزا یعنی سزائے موت سنا دی گئی۔

گو کہ چینی باشندوں پر ماضی میں بھی حملے ہوئے ہیں لیکن اس حملے میں چینی باشندوں کا جانی نقصان زیادہ ہوا۔ چنانچہ چین نے بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا اور اپنی خصوصی ٹیمیں بھیجیں۔ تاہم حکومت پاکستان نے ان کو یقین دہانی کرائی کہ اصل ملزمان تک ضرور پہنچا جائے گا اور ان کے خلاف ٹھوس بنیادوں پر کارروائی کی جائے گی۔ پاکستانی انٹیلی جنس اداروں اور پختونخوا پولیس کے لیے یہ ایک عالمی چیلنج بن چکا تھا۔ حساس اداروں نے تفتیش کا آغاز جائے وقوعہ سے ہی کیا۔ 14 جولائی 2021 کو جیسے ہی حملے کے بعد حساس اداروں کے اہلکار وہاں پہنچے تو جائے وقوعہ سے خون کے دھبوں سے لے کر گاڑی اور کپڑوں کے ٹکڑوں کو محفوظ کیا گیا۔سب سے پہلے تو بارود کے ذرات، دھماکے کی شدت اور گاڑیوں کے پرزوں سے جانچا گیا کہ دھماکہ ہنڈا موٹر کار کے ذریعہ کیا گیا۔ اس کے ٹکڑوں اور جائے وقوعہ پر انسانی جسم کے اعضا سے معلوم ہوا کہ دھماکہ خودکش تھا۔

اس حملے کی تحقیقات کرنے والے ایک اعلی پولیس افسر نے بتایا کہ ’ڈیم جس شاہراہ پر قائم ہے وہاں کی سی سی ٹی وی فوٹیج جمع کی گئی۔ اس فوٹیج میں اسی ہنڈا کار کا پیچھا کیا گیا۔ بالآخر ایک جگہ پر اس گاڑی کے فرنٹ نمبر پلیٹ تک حساس ادارے پہنچے۔ جائے وقوعہ سے اکھٹے کیے گئے کار کے ٹکڑوں اور فوٹیج میں ایک سرخ رنگ کا سٹکر ملا۔ سٹکر پر کسی شوروم کا ذکر تھا۔ لیکن سٹکر واضح نظر نہیں آ رہا تھا۔ اسی سٹکر میں کہانی پھنسی ہوئی تھی۔ تاہم یہ مشکل جدید ٹیکنالوجی نے حل کر دی۔ جب سٹکر واضح ہوا تو اس کے اوپر لکھا تھا ’چمن 2 شوروم‘۔ بس پھر کیا تھا بلوچستان سے لے کر گلگت تک چمن 2 شو روم کی تلاش شروع ہوئی۔ یہ تلاش ملاکنڈ چکدرہ پر اس وقت ختم ہوئی جب وہاں شو روم مل گیا۔ شوروم کے مالکان کو گاڑی کی تصاویر دکھائی گئیں جو فارنزک ٹیم نے انتہائی محنت سے تیار کی تھیں۔ شو روم کے ریکارڈ کو جانچہ گیا تو معلوم ہوا کہ سید محمد ولد خائیستہ محمد نے یہ گاڑی شو روم سے لی تھی۔ اس کے حلیے اور موبائل نمبر سے سید محمد کی تلاش شروع ہوئی تو جلد ہی حساس اداروں کو معلوم ہوا کہ اسکا اصل نام تو محمد حسین ولد عبدالرحیم ہے اور وہ سوات تحصیل مٹہ کے علاقہ سپین پوڑہ کا رہائشی ہے۔

محمد حسین کو سی ٹی ڈی اور سادہ کپڑوں میں ملبوس حساس ادارے کے اہلکاروں نے اٹھا لیا جب تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ گاڑی کی فراہمی اور رابطوں میں اس کے ساتھ محمد ایاز اور فضل ہادی بھی تھے، ان کو بھی ٹریس کرکے گرفتار کیا گیا۔ پولیس تفتیش کے مطابق ان تینوں سے الگ الگ پوچھ گچھ کی گئی تو واقعے کی تصویر بننی شروع ہو گئی۔ اس کے بعد ان کی کہانیوں کو جوڑا گیا۔ معلوم ہوا کہ اس ایک واقعہ کے پیچھے آٹھ اور کردار بھی تھے۔ ان کو حراست میں لینے کے لیے الگ الگ ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ دیگر ملزمان میں محب اللہ عرف عرفان، میاں سید محمد، شوکت علی، عبدالوہاب، عمرزادہ، انور علی، خالد اور طارق عرف ’بٹن خراب‘ شامل تھے۔

پولیس حکام کے مطابق ان میں سے مرکزی ملزمان تو گرفتار کر لیے گئے لیکن طارق بٹن خراب تاحال مفرور ہے۔ دوران تفتیش معلوم ہوا کہ محمد حسین ہی اس حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ اس حملے کے لیے گاڑی سات ماہ پہلے جنوری 2021 کو ہی خریدی گئی تھی اور محمد حسین نے اپنے پاس رکھی تھی۔ دوسری جانب بارود اور حملہ آور کی تیاری طارق عرف بٹن خراب کا کام تھا۔ طارق کو بٹن خراب دو وجہ سے کہا جاتا تھا۔ ایک تو وہ ایک آنکھ سے بھینگا تھا اور مقامی ذرائع کے مطابق ایک بار پہلے اس نے ایک خودکش تیار کیا تھا جس کا بٹن وقت پر کام نہیں کر پایا اس دن سے وہ بٹن خراب کے نام سے معروف ہوا۔

سات جولائی کو وہ خودکش حملہ آور خالد عرف شیخ کو لے کر محمد حسین کے پاس پہنچا۔ خود کش اور بارودی مواد فٹ کرنے کے بعد طارق عرف بٹن خراب واپس افغانستان روانہ ہوا جب کہ باقی افراد نے حملے کی منصوبہ بندی کو آخری شکل دینا شروع کردی۔ تحقیقات کے مطابق ٹھیک ایک ہفتے بعد 14 جولائی کو خالد بارود سے بھری گاڑی لے کر داسو میں چینی انجنیئرز اور مقامی افراد کو لے جانے والی بس سے ٹکرانے میں کامیاب ہوا۔ اس بار بٹن خراب کا بٹن وقت پر کام کر گیا جس سے 13 افراد مارے گئے۔

Related Articles

Back to top button