کیا جنرل باجوہ فیملی کی ٹیکس ریٹرنزکا لیک ہوناغیرقانونی ہے؟


چھ برس تک آرمی چیف کے عہدے پر تعینات رہنے والے جنرل قمر جاوید باوجوہ کے اہلِ خانہ کی 12 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس تفصیلات اور اثاثے منظر عام پر آنے کے بعد یہ بحث جاری ہے کہ یہ کس نے کیا ہے؟ اور کیا یہ عمل قانونی اور اخلاقی اعتبار سے درست ہے؟ یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ کیا اہم عہدوں پر تعینات افراد کے اثاثے عوام کو ظاہر نہیں کیے جانے چاہئیں؟

یہ تفصیلات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت ختم ہونے میں چند ہی دن باقی ہیں اور وہ 29 نومبر کو اپنے منصب سے ریٹائر ہو جائیں گے۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ جنرل باجوہ کے اثاثوں کی تفصیلات لیک ہونے میں سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ مشہور تحقیقاتی ویب سائٹ ‘فیکٹ فوکس’ پر شائع رپورٹ میں آرمی چیف اور ان کے اہلِ خانہ کے اثاثہ جات سے متعلق تفصیلات سامنے لائی گئی تھیں۔ خیال رہے کہ جنرل باوجوہ یا ان کے اہلِ خانہ نے فیکٹ فوکس کی رپورٹ کی تاحال تردید نہیں کی اور نہ ہی پاکستانی فوج کی جانب سے اس حوالے سے کوئی ردِعمل سامنے آیا ہے۔

پاکستان میں ماضی میں بھی اہم عہدوں پر تعینات افراد اور ان کے اہلِ خانہ کے اثاثوں اور ٹیکس کی معلومات عام کی جاتی رہی ہیں۔ ٹیکس قوانین کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی کے ٹیکس ریکارڈ کا لیک ہونا، اداروں کی لاپرواہی کا عکاس ہے جو کہ کسی کی ذاتی اور حساس معلومات کو محفوظ رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔ٹیکس قوانین کے ماہر کہتے ہیں کہ زیادہ قابلِ تشویش بات یہ ہے کہ اس تحقیقاتی رپورٹ میں جنرل باجوہ کے اہلِ خانہ یعنی ان کی بیوی، بچوں حتی کہ بہن اور بہو کے اثاثے اور ٹیکس تفصیلات بھی عام کی گئی ہیں جو کہ کسی صورت درست نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی رائے میں اہم ریاستی و حکومتی عہدوں پر تعینات افراد چاہے وہ فوج کے سربراہ ہوں، ججز ہوں یا وفاقی سیکریٹری ان کے اثاثے ظاہر کیے جانے چاہئیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی بیوی، بیٹی، بہو اور بہن کے اثاثے بھی عام کیے جائیں۔ ٹیکس ماہرین کے مطابق کسی شخص کی اپنی ذمے داریاں اور شخصی آزادی ہے اور زیرِ کفالت افراد کی بھی اپنی تعریف ہے جس کے تحت ضروری نہیں ہے کہ بالغ بچے اور ملازمت پیشہ بیوی زیرِ کفالت میں آئیں۔

ایف بی آر کے سابق چیئرمین عبداللہ یوسف کہتے ہیں کہ ٹیکس معلومات صرف ٹیکس مقاصد کے لیے استعمال کی جاسکتی ہیں اور انہیں کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی بنا پر عوامی منتخب نمائندوں کے علاوہ کسی کی ٹیکس تفصیلات جاری نہیں کی جاتی نہ ہی انہیں قواعد کے تحت حاصل کیا جاسکتا ہے۔ عبداللہ یوسف کہتے ہیں کہ کوئی بھی شخص چاہے وہ کسی بھی عہدے پر ہو اس کو اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کروانے ہوتے ہیں لیکن ان معلومات کو عام کرنا کسی صورت مناسب نہیں ہے۔وزارتِ خزانہ کے مطابق آرمی چیف کے اہلِ خانہ کا ٹیکس ریکارڈ لیک ہونا ٹیکس قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

پیپلزپارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر سمجھتے ہیں کہ اہم عہدوں پر تعینات افراد کو اپنی نامزدگی سے قبل اور مدت میعاد کے اختتام پر رضاکارانہ طور پر اپنے اثاثہ جات ظاہر کرنے چاہئیں تاکہ معاشرے میں خود احتسابی کے عمل کو پروان چڑھایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہمارے ملک میں قانون صرف اراکین پالیمنٹ کو پابند کرتا ہے کہ وہ اپنے اثاثہ جات کو الیکشن کمیشن میں ظاہر کریں جو کہ عوام کے لیے عام کیے جاتے ہیں۔ فرحت اللہ بابر کے خیال میں سکیورٹی اداروں، ججز اور بیوروکریٹس پر بھی یہ قانون لاگو ہونا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ اہم عہدوں پر تعینات افراد اگر اپنے اثاثے عوام کو ظاہر نہیں کرسکتے تو کم از کم وہ ادارہ جاتی سطح پر انہیں ظاہر کریں تاکہ متعلقہ ادارے دیکھ سکیں کہ کوئی غیر معمولی اضافہ تو نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت قانون کے مطابق بیوروکریسی اپنے اثاثے اپنی متعلقہ وزارت کو ظاہر کرتی ہے۔

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ انہوں نے سینیٹ میں سوال اٹھایا تھا کہ یہ بتایا جائے کہ کیا فوجی افسران بھی اپنے اثاثے ظاہر کرتے ہیں تو اس کا جواب یہ دیا گیا تھا کہ یہ خفیہ اور حساس معاملہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی رائے میں یہ حفیہ اور حساس معاملہ نہیں ہونا چاہیے۔یاد رہے کہ وفاقی کابینہ اور منتخب اراکین پارلیمنٹ کے اثاثوں اور ٹیکس ریکارڈ کی تفصیلات ایف بی آر کی جانب سے باقاعدگی سے ہر سال جاری کی جاتی ہیں۔فرحت اللہ بابر سمجھتے ہیں کہ اس معاملے کا اخلاقی پہلو یہ ہے کہ اگر کسی پر غلط الزام لگایا گیا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اس کی وضاحت کرے اور غلط الزام لگانے والے کے خلاف قانونی کارروائی کرے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آسکیں۔

وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے اہلِ خانہ کے ٹیکس ریکارڈ لیک ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے 24 گھنٹوں میں ذمے داروں کا تعین کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ماہرین یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ملک میں ڈیٹا پروٹیکشن قانون نہ ہونے کے باعث عوامی ڈیٹا رکھنے والے اداروں پر اسے محفوظ رکھنے کی کوئی قانونی بندش نہیں ہے۔ ٹیکس ماہرین کے مطابق صرف 2021 میں دو مرتبہ ایف بی آر کا تمام ڈیٹا چوری ہوا۔ انکا کہنا ہے کہ ہمارے ادارے جو ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں ان پر کوئی قانونی بندش نہیں ہے کہ وہ اس ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کے پابند بنیں کیوں کہ ملک میں ڈیٹا کے تحفظ کا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ یاد رہے کہ ڈیٹا پروٹیکشن بل کا مسودہ 2016 سے پارلیمنٹ میں پیش کیا ہوا ہے جو کہ تاحال منظور نہیں ہوسکا ہے۔ لہٰذا اگر ایف بی آر کا ڈیٹا چوری ہوا ہے تو اس پر قانونی طور پر کوئی سزا نہیں ہے البتہ ادارہ جاتی قواعد کے تحت تفتیش ضرور ہوسکتی ہے۔ ایف بی آر کسی طور بھی کسی ٹیکس فائلر کی تفصیل کسی اور کو نہیں دے سکتا ہے اور اگر کسی نے یہ معلومات فراہم کی ہیں تو اس کے خلاف انتظامی قواعد کے تحت کاروائی بھی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔

Related Articles

Back to top button