اگلے 60 روز میں فیصلہ کن سیاسی تماشہ لگنے والا ہے

معروف صحافی اور تجزیہ کار فہد حسین نے کہا ہے کہ اگلے ساٹھ روز میں فیصلہ کن سیاسی تماشا لگنے والا ہے جس کے بعد آنے والے 60 روز اس سے بھی زیادہ اہم ہوں گے۔ انکا کہنا ہے کہ جب فیصلہ ساز ایک سے زیادہ ہوں تو واقعات کی ترتیب آگے پیچھے ہو سکتی ہے۔ لیکن تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، نواز لیگ اور جمیعت علماء اسلام فضل الرحمن گروپ چاروں اگلے راؤنڈ کی تیاری کرتے ہوئے یہ بات جانتے ہیں کہ اب ہار ہوگی یا جیت، ڈرا کا امکان نہیں۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں فہد حسین کہتے ہیں کہ اس اس مرتبہ داؤ بڑا کھیلا گیا ہے لہذا معرکہ بھی بڑا ہوگا اور کسی ایک کو شکست ہوگی۔یہی وجہ ہے کہ منصوبہ ساز ہر قدم پھونک پھونک کر رکھ رہے ہیں۔ وہ جلد بازی بھی کر سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں ایسی غلطیاں عین ممکن ہیں جن کے بارے میں پہلے سے منصوبہ بندی نہیں کی جا سکتی۔ آج کے تپے ہوئے سیاسی ماحول میں کوئی سیاسی کھلاڑی غلطی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ لیکن غلطی نہ کرنا بھی ممکن نہیں۔ کچھ تو ہونا ہے۔ اسی لئے اگلے 60 دن اہم ہیں۔

فہد حسین کہتے ہیں کہ رمضان کا مقدس مہینہ اپریل کے پہلے ہفتے میں شروع ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سیاسی جنگ کے خاتمے کا بھی وقت ہو جائے گا۔ رمضان ایک وقفہ مہیا کرے گا جس سے یا تو اس لڑائی کا زور ٹوٹ جائے گا یا پھر دونوں جانب سے اگلے معرکے کے لئے مزید زور و شور سے کوشش شروع کر دی جائے گی۔ لیکن سب سے پہلے تو طے شدہ ٹائم ٹیبل ہے۔ نواز لیگ اور پیپلز پارٹی لانگ مارچز کے لئے اپنی اپنی سیاسی قوت کو متحرک کر رہی ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری اس ماہ کے آخر میں کراچی سے اپنی پارٹی کا مارچ شروع کریں گے اور اسے سندھ سے پنجاب کی طرف لے کر آگے بڑھیں گے۔ PTI سندھ کے صدر علی زیدی گھوٹکی سے اسی وقت کراچی کی طرف عوامی جلوس لے کر نکلیں گے۔ ان کا مقصد PPP کی PTI حکومت کے خلاف مہم کا توڑ کرنا ہے۔ اس کے بعد نواز لیگ اور جمعیت علماء اسلام پر مشتمل پی ڈی ایم نے بھی مارچ کے مہینے میں لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔

یہ میدان ایک ایسے موقع پر سجنے جا رہے ہیں جب پارلیمان کے اندر کی کارروائی ٹھنڈی پڑ رہی ہے۔ منی بجٹ کی گہما گہمی ختم ہو چکی ہے اور ساتھ ہی دونوں ایوانوں میں اس دوران حکومت کے خلاف کسی بغاوت کا خوف بھی۔ کچھ نہیں ہو رہا۔ ایسا کوئی اشارہ نہیں مل رہا جس سے لگے کہ یہ مسئلہ اس ماہ دوبارہ سر اٹھائے گا۔ چھوٹے موٹے جھگڑوں کے سوا کسی اہم قانون سازی یا قومی اسمبلی و سینیٹ میں کسی ممکنہ تنازع کے امکان کی غیر موجودگی میں تمام تر توجہ لانگ مارچز کی جنگ پر مرکوز ہوگی۔

تاہم پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی قیادت کی حالیہ صلح صفائی کے بعد اب اس بات کا امکان بھی پیدا ہو گیا ہے کہ لانگ مارچ سے پہلے ہی قومی اسمبلی میں اسپیکر یا وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد آ جائے۔
اس جنگ کا پہلا مرحلہ ان لانگ مارچز سے پہلے ان کی تیاریوں کے دوران شروع ہو جائے گا۔

مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بننے سے کیسے روکنا ہے

دوسرا مرحلہ وہ ہوگا جب بڑی تعداد میں دونوں جانب سے مارچ ایک دوسرے کی سمت میں سندھ کے شہروں اور دیہاتوں سے آگے بڑھیں گے۔ اس مرحلے میں یہ خطرہ بالکل موجود ہے کہ کسی تصادم یا تشدد کے واقعے کے باعث صورتحال خراب ہو جائے۔ یاد رکھیے، سندھ میں پولیس PTI سے نبرد آزما ہوگی۔

پنجاب میں پولیس PPP کے سامنے ہوگی۔ ہر عمل کا ایک بالکل برابر اور متضاد رد عمل ہو سکتا ہے۔ تیسرا مرحلہ تب شروع ہوگا جب PTI کا لانگ مارچ کراچی اور پیپلز پارٹی کا اسلام آباد پہنچ جائے گا۔ پھر وہ کیا کریں گے؟ کیا بلاول ہاؤس کے باہر کراچی میں یا اسلام آباد میں ڈی چوک پر دھرنا ہوگا؟ یہ متوازی پیش آتے واقعات جذبات کو انگیختہ کریں گے اور حرارت پیدا کریں گے جس سے دونوں جماعتوں کی calculation میں ان کے کارکنان چارج ہوں گے۔ چوتھا مرحلہ ان مارچز کے اختتام کا ہوگا اور جن شرائط پر یہ اختتام ہوگا۔ بہت کچھ ہے جو ان چار مرحلوں میں حالات کو خرابی کی سمت لے جا سکتا ہے۔

فہد حسین کا کہنا ہے کہ جب یہ مارچ ختم ہو رہا ہوگا، تو PDM کا مارچ شروع ہو رہا ہوگا۔ جمعیت عمکائے اسلام اور ن لیگ کے اس اتحاد نے 23 مارچ کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس مارچ کے بارے میں بھی بہت سا ابہام ہے، مقاصد کے حوالے سے بھی اور متوقع نتائج کے حوالے سے بھی۔ PDM کے مارچ کو جو بھی

حاصل کرنا ہے اس کے لئے اس کے پاس وقت انتہائی کم ہوگا کیونکہ اپریل کے پہلے ہفتے میں رمضان شروع ہونے جا رہے ہیں۔ یعنی اسے اپنے مقاصد پہلے 10 دن کے اندر اندر حاصل کرنا ہوں گے۔ ان 60 دنوں میں پیش آنے والے واقعات اگلے 60 دنوں کے لئے ماحول بنائیں گے۔ رمضان کا مبارک مہینہ سب کو سانس لینے کا موقع فراہم کرے گا اور پھر بلدیاتی انتخابات سے ایک نئے راؤنڈ کا آغاز ہوگا۔

مارچ 27 کو ہونے والا خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کا انعقاد شاید موسمی حالات کے پیشِ نظر رمضان کے بعد تک کے لئے مؤخر کر دیا جائے۔ اگر PTI خیبر پختونخوا کے دوسرے مرحلے میں بھی شکست کھا گئی، اور پنجاب میں بھی جہاں اس کی مقبولیت کو بڑا دھکا لگا ہے، تو لانگ مارچز میں بچ جانے کے باوجود اس کی پوزیشن انتہائی کمزور ہو جائے گی۔ حکمراں جماعت کا عام انتخابات تک کا سفر اور بھی دشوار گزار ہو جائے گا۔
لہٰذا اگلے 60 روز، اور پھر اس سے اگلے 60 روز میں اچھا خاصہ تماشہ لگے گا۔ تیاری پکڑ لیں۔

Related Articles

Back to top button