پی ٹی آئی کے خفیہ اکاؤنٹ سے 78 کروڑ کی ٹرانزیکشن پکڑی گئی

سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت کے خلاف فارن فنڈنگ کی تحقیقات کرنے والے وفاقی تحقیقاتی ادارے نے تحریک انصاف کے ایک ایسے خفیہ بینک اکاؤنٹ کا سراغ لگایا ہے جس میں 78 کروڑ 70 لاکھ روپے کی بھاری رقم جمع کروا کر نکلوا لی گئی تھی لیکن اسے کسی بھی ریکارڈ میں ظاہر نہیں کیا گیا۔ یہ ہوشربا انکشاف الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اس فیصلے کے تین ہفتے بعد سامنے آیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ممنوعہ ذرائع سے فارن فنڈز حاصل کیے۔ یاد رہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر ایف آئی اے اس وقت تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی تحقیقات کررہی ہے۔ ایف آئی اے کی جانب سے اخک غیر فعال یو جانے والے بینک سے حاصل کردہ دستاویز سے پتا چلتا ہے کہ پی ٹی آئی نے باضابطہ طور پر 4 افراد کو اکاؤنٹ چلانے کی اجازت دی تھی۔ ان ناموں کی فہرست میں فریدالدین احمد بھی شامل ہیں، جو اکتوبر 2022 میں انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس کی جانب سے جاری کردہ آف شور ہولڈنگز اور بڑے لوگوں کی ممکنہ ٹیکس چوری کے حوالے سے پنڈورا پیپرز کے اجرا کے بعد نمایاں ہوئے تھے۔
انکشافات میں یہ بات سامنے آئی کہ فرید الدین احمد کے نام پر دو آف شور کمپنیاں ہاک فیلڈ لمیٹڈ اور لاک گیٹ انویسٹمنٹ رجسٹرڈ ہیں، دستاویزات میں پاکستان میں ان کا پتا 2-زمان پارک، لاہور کے طور پر دکھایا گیا ہے جو پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی ذاتی رہائش گاہ ہے لیکن عمران نے فرید الدین احمد کے ساتھ وابستگی کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ نہ تو وہ اس شخص کو ذاتی طور پر جانتے ہیں اور نہ ہی ان سے کبھی ملاقات ہوئی ہے۔ بعد میں فرید الدین احمد نے بھی عمران سے تعلق اور اپنی آف شور کمپنیوں کے درمیان کسی لنک کی تردید بھی کی تھی لیکن یہنتسلیم کیس تھا کہ ان کا اور عمران خان دونوں کا برکی ورثہ مشترکہ ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے کے مطابق پی ٹی آئی کا ایک اور مجاز اکاؤنٹ ہولڈر شیپس جم کا مالک عمر فاروق عرف گولڈی ہے جو عمران کا قریبی دوست بتایا جاتا ہے جبکہ دیگر دو افراد میں حامد زمان اور رائے عزیز اللہ شامل ہیں۔ ان چار افراد کو پارٹی اکاؤنٹ چلانے کی اجازت دینے کا فیصلہ پی ٹی آئی کے سینٹرل فنانس بورڈ نے بینک اکاؤنٹ کھولنے سے چند روز قبل 26 دسمبر 2012 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت کیا تھا۔ اس نوٹیفکیشن پر پارٹی کے تب کے مرکزی فنانس سیکرٹری سردار اظہر طارق کے دستخط تھے۔

فن لینڈ کی وزیراعظم کا ڈانس ویڈیو کے بعد تصویر کا تنازعہ

باخبر ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کی تحقیقات کے دوران الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ساتھ تقریباً تمام بینکوں نے پی ٹی آئی کی سٹیٹمنٹس اور دیگر مالی تفصیلات شیئر کیں، ان میں پارٹی کو بیرون ملک سے موصول ہونے والے زرمبادلہ کی ترسیلات بھی شامل ہیں، لیکن اس ایک بینک نے الیکشن کمیشن کو کوئی بینک سٹیٹمنٹ نہیں دی تھی کیونکہ اس کا موقف یہ تھا کہ بینک اب غیر فعال ہو چکا ہے۔ لیکن اب اس بینک نے ایف آئی اے کے ساتھ تمام تفصیلات شیئر کی ہیں جس سے پتہ چلا ہے کہ ایک بینک اکاؤنٹ میں 78 کروڑ 70 لاکھ روپے کی بھاری رقم جمع کروا کر نکلوا لی گئی تھی۔

Related Articles

Back to top button