90 فیصد کورکمانڈرز نے مارشل لاء کی مخالفت کردی

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے دعوی کیا ہے کہ 9 نومبر کو ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس میں جب مارشل لاء لگانے کی آپشن زیر بحث آئی تو وہاں موجود 90 فیصد جرنیلوں نے اسکی کھل کر مخالفت کی۔ انکا کہنا تھا کہ مارشل لا کی حمایت صرف دو یا تین جرنیلوں نے کی۔ تاہم عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ کور کمانڈرز کانفرنس میں ایسی کوئی غیر آئینی تجویز زیر بحث آنے کا امکان ہی پیدا نہیں ہوتا چونکہ آئین میں اس کی گنجائش ہی نہیں۔ لہذا فضول کہانیاں گھڑنے سے گریز کیا جائے۔

دوسری جانب نجم سیٹھی کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے جنرل باجوہ نے کہا کہ میں توسیع نہیں لینا چاہتا۔ انکے اس اعلان کا خیرمقدم کیا گیا۔ تاہم یہ حالیہ تاریخ میں پہلی کور کمانڈرز کانفرنس تھی جس کا کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔ لیکن اس کانفرنس کے اگلے روز فوجی ترجمان نے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے بتایا کہ جنرل قمر باجوہ نے اپنے الوداعی دورہ شروع کر دیے ہیں۔ اس سے پہلے نجم سیٹھی مسلسل یہ دعوی کر رہے تھے کہ جنرل قمر باجوہ ریٹائر نہیں ہوں گے اور اپنے عہدے میں توسیع حاصل کر لیں گے۔ اپنے تازہ تجزیے میں بھی نجم سیٹھی کا یہی کہنا ہے کہ شہباز شریف نے اپنے بڑے بھائی نواز شریف کے سامنے قمر جاوید باجوہ کے عہدے میں چند ماہ کی توسیع کی تجویز رکھی ہو گی لیکن انہوں نے تسلیم نہیں کی ہوگی۔

نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ نئے آرمی چیف کے لئے تین سب سے سینئر جرنیلوں کے نام حکومت کو بھیجے جانے پر کور کمانڈرز کانفرنس میں اتفاق کیا گیا۔ اسکے علاوہ کانفرنس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اگر حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین مذاکرات کے لئے فوج کی مدد طلب کی جاتی ہے تو سہولت کار کا کردار ادا کیا جا سکتا ہے مگر فریقین میں سے کسی پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا جائے گا۔ لیکن دوسری جانب عسکری ذرائع کا اصرار ہے کہ کور کمانڈرز کانفرنس میں ایسی کوئی تجویز زیر بحث نہیں آئی کیونکہ فوجی قیادت پہلے ہی غیر سیاسی ہونے کا اعلان کر چکی ہے۔

نیا دور ٹی وی کے پروگرام ‘خبر سے آگے‘ میں سیٹھی کا کہنا تھا کہ اس اجلاس سے اہم ترین خبر یہ نکلی کہ نئے آرمی چیف کے لئے تین سب سے سینیئر جرنیلوں کے نام حکومت کو بھیجے جانے پر کمانڈرز نے اتفاق کیا ہے۔ مگر یہ تین نام 18 نومبر کے بعد بھیجے جائیں گے کیونکہ 18 نومبر کو ایک سینیئر جنرل وسیم اشرف نے ریٹائر ہونا ہے۔ یہ نام ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھیجے جائیں گے تاکہ امیدواروں کی تعداد تین تک محدود رکھی جا سکے۔ اس کانفرنس میں یہ فیصلہ بھی ہوا کہ اگر پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے گڑبڑ پیدا ہوتی ہے اور حکومت فوج کو بلاتی ہے تو ہم حکومت کیساتھ کھڑے ہوں گے مگر کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جس سے فوج کے ادارے پر انگلیاں اٹھیں۔

نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے شہباز شریف کے ذریعے نواز شریف کو کچھ مشورے ضرور دیئے ہوں گے لیکن وہ اپنی مرضی کا ہی فیصلہ کریں گے۔ نواز شریف نے نہبتو پہلے کبھی ڈکٹیشن لی ہے اور نہ اب لیں گے۔ نجم نے کہا کہ وہ شہباز اور نواز ملاقات میں موجود تو نہیں لیکن ان کی چڑیا کے مطابق جلد الیکشن کی تجویز پر نواز شریف کا مؤقف یہی ہے گا کہ موجودہ حکومت مدت پوری کرے تاکہ معیشت کو بہتر بنا کر اگلے الیکشن میں عزت کیساتھ اترا جا سکے جائیں ورنہ الیکشن جیتنا مشکل ہو جائے گا۔ سیٹھی نے بتایا کہ ماضی میں بھی نواز شریف نے اسٹیبلشمینٹ کو یہی جوابی پیغام دیا تھا کہ کہ انھیں دھمکی دے کر کوئی بات نہیں منوائی جا سکتی اور اگر کوئی حکومت کو ختم کرنا چاہتا ہے تو ہمیں نکال دے، خود حکومت نہیں چھوڑیں گے۔

عمران خان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ انکے خیال میں اگر مارشل لاء لگتا ہے تو تین سے 6 ماہ بعد ختم جائے گا اور الیکشن کروا کر فوج واپس بیرکوں میں چلی جائے گی۔ فوج سوچ رہی ہے کہ بہتر یہی ہے کہ سیاست سے نکل جائے اور دوبارہ سے عوام کے دلوں میں جگہ بنائے۔ انہون نے کہا کہ آج کل سپریم کورٹ کا بھی اسی طرح کا رویہ بن رہا ہے۔ اس کیے امکانات ہیں کہ ہماری لولی لنگڑی جمہوریت اس بحران سے بھی نکل جائے گی اور جب عمران کو احساس ہو گیا کہ دال نہیں گل رہی تو وہ بھی پارلیمنٹ میں واپس چلے جائیں گے۔ ویوے بھی خان صاحب جھوٹ بول بول کر اور بڑھکیں مار مار کر تھک چکے ہیں۔

Related Articles

Back to top button