عامر لیاقت نے خودکشی کی یا ہارٹ اٹیک سے موت ہوئی؟

تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی پراسرار موت کے حوالے سے تین ممکنہ وجوہات سامنے آرہی ہیں جن میں ہارٹ اٹیک، جنریٹر کے دھوئیں سے دم گھٹنا اور اوور ڈوز شامل ہیں۔تاہم پولیس حکام خودکشی کا امکان بھی رد نہیں کر رہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ جب کمرے کا دروازہ کھٹکھٹانے پر عامر لیاقت کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا تو ان کے ملازموں نے کمرے کا دروازہ توڑا۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ عامر لیاقت اپنے بیڈ پر بے حس و حرکت پڑے ہوئے تھے لہذا انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے تھوڑی دیر بعد ان کی موت کی تصدیق کر دی۔

عدالتی حکم کے باجود گورنر پنجاب حمزہ شہباز سے حلف لینے سے انکاری

کراچی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی موت کی اصل وجہ ان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ہی سامنے آ سکے گی۔ لیکن ممکنہ طور پر ان کی موت کی تین وجوہات زیر بحث ہیں۔ ان کے گھر کے ملازمین کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات عامر لیاقت حسین کے سینے میں درد تھا چنانچہ انہیں ہسپتال جانے کا مشورہ دیا گیا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ اس سے پہلے بھی پچھلے کچھ ماہ کے دوران ڈاکٹر عامر لیاقت حسین طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے تین مرتبہ ہسپتال میں داخل ہوئے تھے لیکن انہوں نے دل کی بیماری کے حوالے سے کبھی کوئی بات نہیں کی۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ عامر لیاقت کی موت کی دوسری ممکنہ وجہ کمرے میں جنریٹر کا دھواں بھر جانا بھی ہو سکتی ہے کیونکہ جب ان کے گھر کا معائنہ کیا گیا تو جنریٹر ان کے کمرے کے باہر رکھا ہوا پایا گیا جس کا دھواں باہر نکالنے کا کوئی سسٹم نہیں بنایا گیا تھا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی موت کی تیسری ممکنہ وسیلہ اوور ڈوز بھی ہو سکتی ہے چونکہ اس حوالے سے ان کی تیسری بیوی واضح الزامات لگا چکی ہیں۔

لیکن موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے پر ہی پتہ چل سکے گی۔

ڈاکٹروں کے مطابق عامر لیاقت کو جب جناح ہسپتال لایا گیا تو وہ مردہ حالت میں تھے۔ یاد رہے کہ حالیہ ہفتوں میں وہ دانیہ شاہ سے اپنی تیسری شادی کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازعے کی زد میں تھے، جس کے بعد انھوں نے پاکستان چھوڑنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ اگلے چند روز میں عمرہ ادا کرنے کی خاطر سعودی عرب جانے والے تھے اور تیاریوں میں مصروف تھے لیکن فرشتہ اجل نے انہیں اس کی مہلت نہیں دی۔ یاد رہے کہ نئی صدی کے اوائل میں مذہبی ٹی وی پروگرام ’عالم آن لائن‘ سے شہرت پانے والے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے 2018 میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر انتخاب جیت کر قومی اسمبلی میں نشست حاصل کی تھی۔ عامر لیاقت حسین نے 2002 کے عام انتخابات میں بھی ایم کیو ایم کی ٹکٹ پر قومی اسمبلی کی نشست پر کامیابی حاصل کی اور انھیں مشرف کے دور حکومت میں مذہبی امور کا وزیر بنایا گیا۔

جولائی 2007 میں عامر لیاقت حسین نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کا یہ استعفیٰ تب سامنے آیا جب انھوں نے انڈین مصنف سلمان رشدی کو ٹی وی پروگرام میں ’واجب القتل‘ قرار دیا تھا۔ اگلے سال یعنی 2008 میں ایم کیو ایم نے عامر لیاقت کو پارٹی سے نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ عامر لیاقت حسین نے ایک طویل عرصے تک سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی اور 2016 میں ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی متنازع تقریر سے چند روز قبل وہ دوبارہ سرگرم ہوئے۔ جب 22 اگست 2016 کو رینجرز نے ڈاکٹر فاروق ستار اور خواجہ اظہار الحسن کو حراست میں لیا تو عامر لیاقت کو بھی اسی روز گرفتار کیا گیا تھا اور رہائی کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار کی پہلی پریس کانفرنس میں وہ بھی موجود تھے لیکن بعد میں دوبارہ غیر متحرک ہو گئے۔ عامر لیاقت حسین کی تحریک انصاف میں شمولیت کی خبریں سنہ 2017 میں سامنے آئی تھیں۔ ان کی اپنی ٹویٹس کے باوجود اعلان سامنے نہیں آیا تھا مگر بالآخر وہ پارٹی میں شامل ہو گئے تھے۔ پارٹی میں شمولیت کے وقت بھی عامر لیاقت کو پی ٹی آئی کے کچھ حامیوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

سال 2018 میں عامر لیاقت حسین نے عمران کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ’میرا آخری مقام پی ٹی آئی تھا۔‘ وہ 2018 کے انتخابات میں این اے 245 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ عامر لیاقت حسین پاکستان کے تقریباً ہر بڑے نیوز چینل سے وابستہ رہے ہیں اور ان کے پروگرام زیادہ تر تنازعات سے بھرپور رہے ہیں جس کے اثرات ان کے سیاسی کریئر پر بھی پڑے۔

پاکستان کے میڈیا گروپ جنگ پبلیکیشن نے جب اپنے نیوز چینل جیو کا آغاز کیا تو عامر لیاقت بطور نیوز کاسٹر سامنے آئے، اس کے بعد انھوں نے عالم آن لائن کے نام سے ایک مذہبی پروگرام شروع کیا۔ ایک پروگرام میں انھوں نے احمدی کمیونٹی کو غیر مسلم قرار دیتے ہوئے ان کا قتل جائز قرار دیا تھا، اسی ہفتے سندھ میں احمدی کمیونٹی کے دو افراد ہلاک ہوئے، ان کے اس بیان پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تنقید کی تھی۔

جہاد اور خودکش حملوں کے حوالے سے ان کے متنازع بیانات پر کچھ مذہبی حلقے ان سے ناراض بھی رہے۔ سال 2005 میں جامعہ بنوریہ کے ایک استاد کی ہلاکت پر جب وہ تعزیت کے لیے پہنچے تھے تو اُنھیں طلبہ نے یرغمال بنا لیا تھا۔ عامر لیاقت جیو کے علاوہ اے آر وائی، ایکسپریس، بول ٹی وی اور 24 نیوز سے وابستہ رہے، رمضان کی خصوصی نشریات کے دوران وہ ہاٹ پراپرٹی تصور کیے جاتے ہیں، جیو پر رمضان ٹرانسمیشن کے ایک پروگرام میں انھوں نے چھیپا فاؤنڈیشن کے سربراہ رمضان چھیپا سے ایک لاوارث بچہ لے کر ایک جوڑے کو دیا تھا جس وجہ سے بھی انھیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

رمضان ٹرانسمیشن کے پروگرام ’انعام گھر‘ میں ان کے بعض جملے اور حرکات کو بھی ناپسندیدگی سے دیکھا جاتا تھا، پاکستان الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی نے 2016 میں اس پروگرام کو تین روز کے لیے روک دیا تھا۔ بول چینل پر ان کے پروگرام ’ایسا نہیں چلے گا‘ میں انھوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں اور بلاگرز پر ذاتی حملے بھی کیے، پیمرا نے شہریوں کی شکایات پر یہ پروگرام بند کر دیا اور انھیں عوام سے معذرت کی ہدایت جاری کی۔

اپنی موت سے کچھ عرصہ پہلے عامر لیاقت حسین اپنی تیسری شادی کے بعد تنازع میں الجھ گئے تھے اور شدید ذہنی پریشانیوں میں گھر گئے تھے۔ انہوں نے پہلی شادی ڈاکٹر بشریٰ اقبال سے کی تھی جبکہ دوسری شادی طوبیٰ انور سے ہوئی۔ لیکن طوبیٰ سے شادی کے بعد انہوں نے بشریٰ کو طلاق دے دی تھی۔ لیکن توبیٰ کی جانب سے خلع حاصل کرنے کے اگلے ہی روز عامر لیاقت حسین نے دانیہ شاہ سے شادی کرلی تھی۔ لیکن یہ شادی صرف تین مہینے چل سکی جس کے بعد دانیہ شاہ نے خلع کا دعویٰ دائر کر دیا۔ دانیہ نے عامر لیاقت حسین پر تشدد کے الزامات لگائے تھے جنہیں رد کرتے ہوئے عامر لیاقت نے سوشل میڈیا پر کچھ آڈیوز اپ لوڈ کرتے ہوئے اپنی تیسری بیوی کے کیریکٹر پر سوالات اٹھائے تھے۔ عامر لیاقت کی اس حرکت کے ردعمل میں دانیہ شاہ نے ان کی کچھ عریاں ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیں۔ اس واقعے کے بعد سے عامر لیاقت اپنے گھر کی حد تک محدود ہو چکے تھے اور پاکستان چھوڑنے کا اعلان کر چکے تھے۔ اس دوران انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے اپنی تینوں بیویوں کو مخاطب کیا تھا اور کہا تھا کہ تم نے میرے ساتھ بہت زیادتی کی ہے اور میرا اللہ ہی تمہیں پوچھے گا۔

Related Articles

Back to top button