صدرعلوی امریکی سفیر کے کاغذات نامزدگی وصول کرنے سے انکاری

صدر عارف علوی نے اپنے جنونی قائد عمران خان کے ایما پر شہباز شریف کی حکومت کو ناکام بنانے کی خاطر آخری حد تک جاتے ہوئے ایسی حرکتیں شروع کر دی ہیں جن سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مکمل طور پر ختم ہو سکتے ہیں۔ اطلاع یہ ہے کہ پاکستان میں تعینات ہونے والے امریکہ کے نئے سفیر ڈونلڈبلوم کو اپنے کاغذات نامزدگی صدر کے سامنے پیش کرنے کی تقریب کے انعقاد میں ایوان صدر کی جانب سے جان بوجھ کر تاخیر سے کام لیا جارہا ہے جو حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث بن رہی ہے۔

امریکہ مخالف نوم چومسکی نے عمران کا سازشی بیانیہ رد کر دیا

اس حوالے سے سینئر صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ پارلیمانی جمہوریت کی مسلمہ روایات کو ڈھٹائی سے نظر انداز کرتے ہوئے صدر عارف علوی اپنے قائد عمران خان سے وفاداری بشرط استواری نبھائے چلے جارہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں پیش ہوئی تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد قائم ہوئی شہباز حکومت پارلیمان کے ذریعے صدر کا مواخذہ کرنے کی قوت سے محروم ہے لہٰذا سر جھکا کر صدر علوی کے ہاتھوں ذلیل ہوئے جانے کے سوا اس کے پاس کوئی اور راستہ ہی موجود نہیں۔ لیکن اب ایک ایسا مقام آچکا ہے جہاں عارف علوی اپنی جماعت کے چیئرمین عمران خان کے ساتھ وفاداری نبھانے کو ڈٹے رہے تو اس کا خمیازہ حکومت کو نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان کو بھگتنا ہوگا کیونکہ معاملہ دنیا کی واحد سپر طاقت کہلانے والے امریکہ کے ساتھ روایتی سفارتی تعلقات بچانے سے متعلق ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیہ میں نصرت جاوید بتاتے ہیں کہ عمران خان کے دور اقتدار میں امریکہ نے کئی مہینوں تک پاکستان میں اپنا سفیر ہی تعینا ت نہیں کیا تھا۔ بالآخر بائیڈن انتظامیہ نے اپنے ایک تجربہ کار افسر ڈونلڈ بلوم کی تقرری کا فیصلہ کیا۔ امریکی صدر کی جانب سے ہوئی سفارتی تقرری کی وہاں کی پارلیمان سے منظوری لازمی ہے۔ اس کے حصول کے لئے نامزد کردہ سفیر کو ایک خصوصی کمیٹی کے روبرو پیش ہو کر بے تحاشہ سوالات کاجواب دینا ہوتا ہے۔ ڈونلڈ بلوم اس مرحلے سے گزر کر رواں برس 11 اپریل کو بطور سفیر اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھاچکے ہیں۔ باقاعدہ تعیناتی کے بعد وہ گزشتہ ماہ کے وسط میں اسلام آباد بھی پہنچ گئے۔

بقول نصرت جاوید، سفارتی روایات کے مطابق جب کسی ملک کا سفیر اسلام آباد پہنچ جاتاہے تو اس کے چند ہی دن بعد ایوان صدر میں تقریب منعقد ہوتی ہے۔ سرکاری ٹی وی پر خبروں میں عوام نے اکثر دیکھا ہوگا کہ یہ تقریب درباروں سے مختص تزک واحتشام سے برپا ہوتی ہے۔مہمان سفیر کی ایوان صدر آمد پر بگل بجائے جاتے ہیں۔ اس کے بعد موصوف کو بگھی میں بٹھاکر ایوان صدر کے مرکزی دروازے تک لایا جاتا ہے۔ وہاں سے سفیر کو صدر کے روبرو پیش کرنے کے لیے لے جایا جاتا ہے اور وہ کورنش بجا کر اپنے کاغذات نامزدگی مہمان ریاست کے سربراہ کی خدمت میں پیش کرتا ہے۔ جب تک یہ تقریب منعقد نہ ہوجائے اور نیا سفیر اپنے کاغذات نامزدگی صدر کے روبرو پیش نہ کر دے تب تک اسکی تعیناتی کو ”باقاعدہ“ تصور نہیں کیا جاتا۔ سادہ لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ اس کا رتبہ ”سرکاری“ نہیں بلکہ بنیادی طورپر کاغذات نامزدگی کی منظوری کے ”منتظر“ شخص جیسا ہی رہتا ہے۔ مہمان ملک کی حکومت سے سرکاری معاملات طے کرنا سفارتی روایات کے مطابق اس کا ”اختیار“ تصور نہیں ہوتا۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ واشنگٹن میں اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد امریکی وزارت خارجہ کے نمائندہ کی حیثیت میں گزشتہ ماہ اسلام آباد پہنچنے والے ڈونلڈبلوم کو تاہم ابھی تک ایوان صدر سے کاغذات نامزدگی پیش کرنے کے لئے ایوان صدر میں مدعو نہیں کیا گیا اور نہ ہی تاخیر کی کوئی وجہ بتائی جا رہی ہے حالانکہ دو ماہ گزر چکے ہیں۔ اگر تاخیر واقعتا ًدانستہ برتی جارہی ہے تو اس کے ذمہ دار صدر عارف علوی ہیں یا وزارت خارجہ، یہ سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ نصرت کہتے ہیں کہ اس تاخیر کا بنیادی سبب صدر علوی ہیں۔ ان کے قائد عمران خان نے مارچ کے اختتام میں اسلام آباد میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایک لفافہ لہرایا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ واشنگٹن میں تعینات ہمارے پاکستانی سفیر کو امریکی وزارت خارجہ کے ایک افسر ڈونلڈلو نے باقاعدہ”تڑی“ لگائی تھی۔ اسے دھمکی دی گئی کہ اگر عمران حکومت نے امریکہ کے ساتھ اپنا رویہ نہ بدلا تو اسے تبدیل کردیا جائے گا۔ امریکہ نے بقول عمران انہیں جو دھمکی آمیز پیغام بھیجا تھا اسے سرکاری مراسلے کی صورت ہمارے سفیر نے قلم بلند کرکے اسلام آباد بھیج دیا۔ اس مراسلے کے وصول ہونے کے چند ہی دن بعد عمران حکومت تحریک عدم اعتماد کی بدولت گھر بھیج دی گئی۔ وزارت عظمیٰ سے فارغ ہوجانے کے بعد عمران خان شدت و تواتر سے یہ دعویٰ کئے چلے جارہے ہیں کہ ان کی فراغت کا واحد سبب ”امریکی سازش“ تھی۔ انکا کہنا ہے کہ ہمارے ”چور اور لٹیرے“ سیاستدانوں کے علاوہ ریاستی اداروں کے کئی ”میر جعفروں“ نے بھی مبینہ سازش کو بروئے کار لانے کے لئے ا مریکہ کی غلامانہ معاونت کا کردار ادا کیا۔

نصرت بتاتے ہیں کہ غیر ملکوں میں تعینات ہمارے سفیر اہم معاملات کی بابت جو ”مراسلہ“ خفیہ زبان میں اسلام آباد بھیجتے ہیں اسے ”قومی راز“ قرار دیا جاتا ہے۔ ہماری ریاست و حکومت کے پانچ سے زیادہ افراد کو ایسے مراسلے کے مندرجات کی تفصیلات کا ہرگز علم نہیں ہوتا۔ 9 اپریل کی رات تحریک عدم اعتماد پر گنتی سے چند گھنٹے قبل تاہم عمران نے ان دنوں کی وفاقی کابینہ کا اجلاس بلوا کر ”دھمکی آمیز“ مراسلے کی نقل سپیکر قومی اسمبلی کو بھجوانے کا فیصلہ کیا۔ 3 اپریل کی رات مراسلے کی بنیاد پر قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے وزیر اعظم کے خلاف پیش ہوئی تحریک عدم اعتماد کو ”مسترد“ کردیا تھاجس کے بعد عمران خان نے صدر علوی کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے بعد نئے انتخاب کروانے کی تجویز پیش کردی۔ سپریم کورٹ نے البتہ ان تمام فیصلوں کو ”غیر آئینی“ ٹھہرادیا اور تحریک عدم اعتماد پر ہر صورت گنتی کا تقاضاکیا۔ دماغ کی دہی بناتے اس بحران کے بعد بالآخر وہ گنتی ہوگئی تو عمران خان ہمارے وزیر اعظم نہ رہے۔

نصرت کہتے ہیں کہ عمران خان کی طرح عارف علوی بھی تاہم ”مراسلے“ کو بھولے نہیں ہیں۔ بطور صدر انہوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو دھمکی آمیز مراسلے کی نقل بھیج رکھی ہے اور درخواست کی ہے کہ وہ اسکے مندرجات کا جائزہ لیتے ہوئے کوئی فیصلہ سنائیں۔ عزت مآب چیف جسٹس نے اگرچہ ابھی تک اس ضمن میں کوئی پیش رفت نہیں دکھائی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے یہ طے کئے بغیر کہ عمران حکومت واقعتاً ”امریکی سازش“ کے ذریعے ہٹائی گئی تھی یا نہیں عارف علوی حال ہی میں تعینات ہوئے امریکی سفیر کو کاغذات نامزدگی پیش کرنے کی تقریب کے لئے مدعو کرنے کو ٹال رہے ہیں۔ اگر ڈونلڈ بلوم تام جھام کے ساتھ بگھی میں بیٹھ کر ایوان صدر پہنچ گئے اور صدر عارف علوی نے ان سے ہنستے مسکراتے کاغذات نامزدگی وصول کرلئے تو عمران خان کے جانثار ان کے لگائے شخص سے ناراض ہوجائیں گے۔ انہیں یہ بات ہضم نہیں ہوگی کہ اسی ملک کے سفیر کو بہت چائو سے ایوان صدر مدعو کرنے کے بعد اس سے کاغذات نامزدگی ہنستے مسکراتے ہوئے وصول کئے جارہے ہیں جس نے عمران حکومت کو فارغ کرنے کی ”سازش“ رچائی تھی۔

نصرت جاوید کے بقول ڈونلڈ بلوم کو لہٰذا نجانے مزید کتنے دن تک انتظار کرنا ہوگا۔ ممکنہ انتظار غالباًانہیں یہ پیغام بھی موثر انداز میں پہنچا دے گا کہ پاکستان اب ”غلام“ ملک نہیں رہا اور عمران خان کی ولولہ انگیز قیادت میں ”حقیقی آزادی“ کے سفر پر گامزن ہو چکا ہے۔

Related Articles

Back to top button