علی وزیر19 لاکھ روپے نہ ہونے کے باعث رہائی نہ پا سکے

پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی بغاوت کے چوتھے کیس میں بھی ضمانت منظور ہونے کے باوجود رہائی اس وجہ سے نہیں ہو پائی کہ ان کے پاس اپنے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کیلئے 19 لاکھ روپے کی رقم موجود نہیں تھی۔ جنوبی وزیرستان سے منتخب رکن قومی اسمبلی 31 دسمبر2020 سے کراچی سینٹرل جیل میں قید ہیں، ان کے وکیل قادر خان نے بتایا کہ بغاوت کے چوتھے مقدمے میں بھی ضمانت ہوجانے کے باوجود ان کو رہا نہیں کیا جا سکا کیونکہ وہ اپنے خلاف درج چاروں مقدمات میں ضمانت کی رقم کا بندوبست نہیں کرسکے، جوکہ مجموعی طور پر 19 لاکھ روپے بنتی ہے۔ سنٹرل جیل کے اندر جوڈیشل کمپلیکس میں مقدمے کی سماعت کرنے والے انسدد دہشت گردی عدالت کے جج نے 13 ستمبر 2022 کو ضمانت کا فیصلہ سنایا تھا۔ جج نے ایم این اے کی ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی، ان پر 2018 میں بوٹ بیسن تھانے میں لوگوں کو ریاستی اداروں کے خلاف اُکسانے اور بدنام کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو کراچی کے سہراب گوٹھ اور شاہ لطیف تھانوں میں درج بغاوت کے 3 دیگر مقدمات میں بھی بعد از گرفتاری ضمانت مل چکی ہے، لیکن کل ضمانت کی رقم 19 لاکھ روپے بنتی ہے۔ وکیل کے مطابق ضمانت کی رقم کا بندوبست کرنے میں کچھ دن لگ سکتے ہیں، اور تب تک علی وزیر کو جیل میں ہی رہنا پڑے گا۔

علی وزیر19 لاکھ روپے نہ ہونے کے باعث رہائی نہ پا سکے

علی وزیر کو دسمبر 2020 میں پشاور پولیس نے آرمی پبلک سکول حملے کے متاثرہ والدین کے احتجاجی دھرنے سے گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں پشاور کی مقامی عدالت نے علی وزیرکوسندھ پولیس کے حوالے کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔ اس دوران عمران حکومت کی فراغت اور شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے کے بعد وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے قومی سلامتی کمیٹی کے ایک اجلاس میں آرمی چیف سے علی وزیر کو معاف کرنے کی بات کی۔ اس پر آرمی چیف نے کہا سیاستدان ہمارے نام لے کر بات کرتے ہیں لیکن فوج کو گالی دینا ناقابل قبول ہے، انہوں نے کہا کہ علی وزیر کو معافی مانگنا پڑے گی۔ تاہم وہ معافی مانگنے کو تیار نہ ہوئے اور ابھی تک جیل میں بند ہیں۔ دوسری جانب فوج کے بنائے ہوئے عمران خان صبح و شام فوج کو گالیاں دیتے ہیں اور دندناتے پھرتے ہیں لیکن کسی میں اتنی جرات نہیں کہ انکو بھی علی وزیر کی طرح جیل میں ڈال سکیں۔

اب علی وزیر کی چاروں کیسز میں ضمانت ہو چکی ہے اور ضمانتی مچلکے جمع کروانے کے لیے پیسے اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ علی وزیرکی پہلے کیس میں ضمانت سپریم کورٹ نے نومبر2021 میں منظور کی تھی۔ یہ کیس سہراب گوٹھ تھانے کی حدود میں ایک ریلی میں اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے جرم میں درج کیا گیا تھا۔ اسکے بعد سندھ ہائی کورٹ نے 11 مئی 2022 کو شاہ فیصل ٹاؤن میں ریلی سے خطاب کے دوران ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے الزام میں گرفتار علی وزیر کی ضمانت منظور کی تھی۔

بعد ازاں، کراچی پولیس نے ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر پر پی ڈی ایم رہنماؤں کے خلاف شاہ لطیف ٹاؤن پولیس سٹیشن میں درج تیسرے مقدمے میں علی وزیر کو گرفتار کیا تھا، اسکے بعد جولائی 2022 میں کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے علی وزیر کو ریاستی اداروں کو بدنام کرنے اور عوام کو اُکسانے کے خلاف تیسرے کیس میں بھی ان کی ضمانت منظور کر لی تھی۔

Related Articles

Back to top button