جنرل باجوہ نے اسمبلی کی بحالی رکوانے کی سازش کی

تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع نے جنرل قمر باجوہ کی جانب سے عمران خان کو دھوکہ دینے اور ان کیساتھ ڈبل گیم کھیلنے کی تفصیل بے نقاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ سابق آرمی چیف اپنے وعدے کے مطابق نہ تو تحریک عدم اعتماد رکوا پائے اور نہ ہی قومی اسمبلی کو بحال ہونے سے روک سکے حالانکہ انہوں نے اس حوالے سے خان صاحب کو یقین دہانیاں کروائی تھیں۔ یاد رہے کہ عمران خان نے ایک حالیہ انٹرویو میں جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینے کے فیصلے کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں معصومیت میں ان کی باتوں کا یقین کرتا رہا اور وہ میرے ساتھ ڈبل گیم کھیلتے ہوئے مجھے دھوکہ دیتے رہے۔ عمران نے یہ بھی کہا کہ انہیں نکالنے کا فیصلہ تب ہی ہوگیا تھا جب فیض حمید کو ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹایا گیا۔

عمران خان کی جانب سے جنرل باجوہ کی مبینہ ڈبل گیم کی تفصیل دیتے ہوئے تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع نے بتایا کہ کپتان کے خلاف سازش کا آغاز تب ہوا جب نئے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نے ایک ملاقات میں بلاول بھٹو اور شہباز شریف کو یقین دہانی کروائی کہ فوج سیاست میں مکمل طور پر نیوٹرل ہو چکی ہے۔ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ یہ یقین دہانی جنرل باجوہ کے ایماء پر کروائی گئی جو چاہتے تھے کہ اپوزیشن جماعتیں عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد لے آئیں۔

اس کی بنیادی وجہ جنرل باجوہ کو ملنے والی یہ اطلاعات تھیں کہ عمران نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری پر کھڑے ہونے والے تنازعے کے بعد انہیں وقت سے پہلے بطور آرمی چیف فارغ کرنے کا ذہن بنا چکے ہیں اور وہ مارچ یا اپریل میں انہیں اسی قانون کے تحت فارغ کر دیں گے جس کے تحت انہیں توسیع دی گئی تھی۔ ڈی جی آئی ایس آئی کی جانب سے فوج کے غیر سیاسی ہوجانے کی یقین دہانی کے فوری بعد پی ڈی ایم کی اتحادی جماعتوں نے عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا۔

بتایا جاتا ہے کہ پہلے تو عمران کو اس بات کا یقین ہی نہیں تھا کہ پی ڈی ایم ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا پائے گی، لیکن جب کپتان کے ساتھی ممبران قومی اسمبلی باغی ہونا شروع ہوئے تو انہیں معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا اور انہوں جنرل باجوہ سے رابطہ کر کے مدد مانگی۔ تب تک فیض حمید کا تبادلہ ہو چکا تھا اور ندیم انجم صرف آرمی چیف کی سنتے تھے۔ تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جنرل باجوہ نے عمران کو یقین دہانی کروائی کہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد نہیں آئے گی کیونکہ فوج جمہوریت کا تسلسل چاہتے ہے۔

 لیکن جب عمران نے اس حوالے مداخلت کا تقاضہ کیا تو آرمی چیف نے بتایا کہ ایسا ممکن نہیں کیونکہ فوج غیر سیاسی ہونے کا اعلان کر چکی ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ جب تحریک عدم اعتماد داخل کروا دی گئی تو عمران نے دوبارہ آرمی چیف کو بنی گالا بلا کر مدد مانگی اور گلہ کیا کہ انکی جماعت کے باغی اراکین کو خفیہ ہاتھوں کی جانب سے پی ڈی ایم کی طرف دھکیل جا رہا ہے۔ تاہم جنرل باجوہ نے اس تاثر کی تردید کی اور عمران خان کو تسلی دی کہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کسی صورت کامیاب نہیں ہوگی۔ باجوہ نے یہ بھی کہا کہ آج دن تک کوئی بھی وزیر اعظم تحریک عدم اعتماد کے ذریعے گھر نہیں گیا اور وہ بھی نہیں جائیں گے۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ عمران نے ان باتوں کے بعد باجوہ کو درخواست کی کہ وہ پی ڈی ایم والوں سے ملاقات کرکے انہیں تحریک عدم اعتماد واپس لینے پر مجبور کریں، اس دوران معاملہ تک زیادہ سیریس ہو گیا جب پی ٹی آئی کے 20 اراکین اسمبلی نے بغاوت کرتے ہوئے باقاعدہ عمران کا ساتھ چھوڑنے کا اعلان کر دیا اور سندھ ہاؤس میں مقیم ہوگئے۔ اس کے بعد جب عمران کی دو اتحادی جماعتوں نے بھی ان کا ساتھ چھوڑنے کا اعلان کیا تو انہیں اپنی حکومت گرتی ہوئی نظر آنے لگی۔

چنانچہ انہوں نے باجوہ کو دوبارہ ملاقات کے لیے بنی گالا بلایا اور ان سے مدد مانگی۔ جنرل باجوہ نے خان صاحب کو بتایا کہ اپوزیشن جماعتیں ان کے کہنے میں نہیں اور نہ ہی وہ سیاست میں دخل اندازی کر سکتے ہیں، ہاں ایسا ضرور ہو سکتا ہے کہ اگر وزیراعظم استعفی دینے پر راضی ہو جائیں تو پی ڈی ایم تحریک عدم اعتماد واپس لے کر فوری نہیں الیکشن پر اتفاق کر جائے۔

پی ٹی آئی کے ذرائع بتاتے ہیں کہ خان صاحب نے مجبوری کے عالم میں یہ تجویز قبول کر لی، تاہم جب جنرل باجوہ نے پی ڈی ایم کی قیادت کو یہ تجویز دی تو اسے سختی سے مسترد کر دیا گیا۔ معاملہ اب جنرل باجوہ کے ہاتھ سے بھی نکل چکا تھا۔ باجوہ کا اصل منصوبہ تو یہی تھا کہ وہ اپوزیشن کے ذریعے عمران کو ڈرا دھمکا کر اپنی برطرفی کا امکان ختم کردیں گے اور عمران دوبارہ ان کے دام میں آ جائیں گے لیکن اپوزیشن جماعتیں بپھر چکی تھیں۔

اس دوران تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا دن قریب آ گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس تمام عرصے میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید عمران کے قریبی مشیر کا کردار ادا کرتے رہے۔ چنانچہ یہ فیصلہ ہوا کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے پہلے ہی قومی اسمبلی توڑ دی جائے۔ اس دوران فیض حمید نے بطور عدلیہ کے سابقہ ہینڈلر بندیال سے یہ یقین دہانی حاصل کرنے کی کوشش بھی کی کہ قومی اسمبلی ٹوٹنے کی صورت میں اسے بحال نہیں کیا جائے گا۔ اس معاملے پر جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید دونوں مسلسل رابطے میں تھے۔ اس دوران 23 مارچ کو فوج کے بڑے کھانے کی تقریب میں جنرل باجوہ نے سابقہ اور موجودہ فوج حضرات کے تحفظات کو ایڈریس کرتے ہوئے انہیں آف دی ریکارڈ یقین دہانی کروائی کہ عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد کسی بھی صورت کامیاب نہیں ہوگی۔

چنانچہ جب بار بار کی تاخیر کے بعد 3 اپریل 2022 کو عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا گیا تو قاسم سوری نے ووٹنگ سے پہلے ہی عدم اعتماد کی قرارداد کو غیر آئینی قرار دے کر مسترد کر دیا، اس کے فوری بعد عمران خان نے بطور وزیر اعظم صدر علوی کو قومی اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس دے دی اور انہوں نے اس پر عمل کر دیا، اصل منصوبہ یہ تھا کہ قومی اسمبلی کو بحال نہیں ہونے دیا جائے گا اور معاملہ نئے الیکشن کی جانب لے جایا جائے گا۔

اس ایشو پر جنرل باجوہ اور عمران ایک ہی صفحے پر تھے۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے ڈپٹی سپیکر کی جانب سے  تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرنے اور قومی اسمبلی توڑنے پر ازخود نوٹس لے لیا، عدالت اس معاملے پر جلد از جلد فیصلہ کرنا چاہتی تھی، عمران کو قومی اسمبلی کی بحالی کا خدشہ پیدا ہوا تو انہوں نے فواد چوہدری کے ذریعے جنرل باجوہ سے پیغام رسانی کا سلسلہ شروع کر دیا۔ تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ جنرل باجوہ نے قومی اسمبلی بحال ہونے سے ایک رات پہلے فواد چوہدری کے ذریعے عمران کو یہ یقین دہانی کروا دی تھی کہ صبح اسمبلی کسی صورت بحال نہیں ہوگی اور معاملہ نئے الیکشن کی جانب جائے گا۔

ذرائع کے مطابق جنرل باجوہ نے عمران کو پیغام بھجوایا تھا کہ ان کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے ساتھ ملاقات ہو چکی ہے اور یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ توڑی گئی اسمبلی بحال نہیں ہو گی۔ جواب میں بندیال نے یقین دہانی کروائی کہ وہ ساتھی ججوں کو اس معاملے میں اپنے ساتھ ملانے کی پوری کوشش کریں گے۔ لیکن ایک مرتبہ پھر جنرل باجوہ کی یقین دہانی غلط ثابت ہوئی اور قومی اسمبلی بحال ہو گئی۔

دوسری جانب جنرل باجوہ کے قریبی ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے دونوں مرتبہ عمران کو جو یقین دہانیاں کروائیں ان پر عمل درآمد کے لیے پورا زور لگایا گیا لیکن معاملات ان کے ہاتھ سے نکل چکے تھے۔ پہلی بار اپوزیشن جماعتوں نے تحریک عدم اعتماد واپس لینے سے صاف انکار کر دیا اور دوسری مرتبہ بندیال کے ساتھی ججوں نے قومی اسمبلی بحال نہ کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جنرل باجوہ نے تو 7 اپریل 2022 کی صبح تک بھرپور کوشش کی کہ قومی اسمبلی بحال نہ ہو لیکن پانچ رکنی بینچ کے چار جج پہلے ہی اسمبلی بحالی کا ذہن بنا چکے تھے کیونکہ انکے خیال میں ڈپٹی سپیکر کے رولنگ اور عمران کی صدر علوی کو دی گئی ایڈوائس، دونوں مکمل طور پر غیر آئینی تھے، سپریم کورٹ نے نہ صرف عمران کو ان کے عہدے پر بحال کر دیا بلکہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا حکم بھی جاری کر دیا۔

خیال رہے کہ جسٹس بندیال نے قومی اسمبلی کی بحالی کا متفقہ فیصلہ جاری کرنے سے پہلے شہباز شریف اور بلاول بھٹو کو روسٹرم پر بلا کر پنچائتی سٹائل میں انہیں نئے الیکشن کے انعقاد پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تاکہ قومی اسمبلی بحال نہ ہو لیکن دونوں کا موقف تھا کہ یہاں معاملہ آئین شکنی کا ہے لہٰذا اس پر فیصلہ سنایا جائے۔ اس کے باوجود چیف جسٹس نے سیکرٹری الیکشن کمیشن کو طلب کرلیا اور پوچھا کہ اگر نئے الیکشن کروانا ہوں تو کتنے عرصے میں ہو سکتے ہیں؟

پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی کیوں تحلیل نہیں کریں گے؟

جواب میں عدالت کو بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن کو عام انتخابات کے انعقاد کے لیے کم از کم سات مہینے چاہئیں، لہٰذا چیف جسٹس کے پاس کوئی راستہ باقی نہ بچا اور انہیں اپنے چار ساتھی ججز سے اتفاق کرتے ہوئے قومی اسمبلی بحال کرنے کا حکم نامہ جاری کرنا پڑا، یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الحسن شامل تھے۔

Related Articles

Back to top button