آئندہ بجٹ میں پاک فوج کیلئے 83 ارب روپے کا اضافہ

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پاکستانی کی مسلح افواج کے لیے 14 کھرب 53 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے جو کہ رواں مالی سال کے لیے مختص شدہ 13 کھرب 70 ارب روپے سے تقریباً 83 ارب روپے یا 6 فیصد زیادہ ہوں گے۔

پاکستان میں پانی کا بحران سنگین ،22سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

تاہم عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں اوسطاً 11.3 فیصد مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے دفاعی بجٹ میں 136 ارب روپے کا اضافہ متوقع تھا، اس لحاظ سے مسلح افواج کو مہنگائی سے نمٹنے کے لیے درکار رقم سے تقریباً 53 ارب روپے کم ملیں گے۔ دفاعی اخراجات کے اثرات کی پیمائش مجموعی بجٹ میں دفاعی خدمات کے حصے اور جی ڈی پی کے فیصد کے طور پر کی جاتی ہے۔ کُل اخراجات میں حصہ بتاتا ہے کہ مسلح افواج کے لیے کتنی رقم وقف کی جارہی ہے، ماہرین معاشیات کے مطابق دفاعی بجٹ کو جی ڈی پی کے فیصد کے طور پر شمار کرنا ملکی معیشت پر اس کے بوجھ کی نشاندہی کرتا ہے۔

ان اعداد و شمار کے مطابق دفاعی بجٹ کُل اخراجات کا تقریباً 16 فیصد ہوگا جو کہ اختتام پذیر ہونے والے رواں مالی سال سے ملتا جلتا ہے، تاہم جی ڈی پی کے لحاظ سے اس کا حصہ رواں مالی سال کے 2.54 فیصد سے کم ہو کر آئندہ مالی سال میں 2.2 فیصد رہ جائے گا۔ دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ رقم میں ہونے والے اضافے کا بڑا حصہ زیادہ تر تنخواہوں او پینشن کے لیے مختص کیا جائے گا۔

بجٹ کے دیگر حصوں کو سول ورکس کے لیے مختص کیا جاتا ہے جو ملٹری انفراسٹرکچر کی ترقی اور بہتری کا کام کرتے ہیں، اس کے علاوہ مادی اثاثوں کی خریداری بھی اس میں شامل ہے جس میں اسلحہ اور گولہ بارود کی مقامی خریداری اور کچھ درآمدات اور متعلقہ اخراجات ہوتے ہیں، جبکہ آپریٹنگ اخراجات کا حصہ بھی اس میں شامل ہے جو ٹرانسپورٹ، راشن، تربیت اور علاج کے اخراجات کو پورا کرتے ہیں۔

عسکری ذرائع نے بتایا کہ فی فوجی پاکستانی خرچ تقریباً ساڑھے 26 لاکھ روپے سالانہ ہے جو کہ بھارت کے خرچ کا ایک تہائی بھی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج اور ان کے فلاحی اداروں نے اختتام پذیر ہونے والے رواں مالی سال میں 935 ارب روپے ٹیکس ادا کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فوج کے لیے مختص کیے جانے والے کورونا الاؤنس میں سے 50 کروڑ روپے کی بچت کی گئی جو کہ حکومت کو لوٹا دیے گئے۔

عسکری ذرائع کے مطابق عام طور پر پاکستانی افواج کے بارے میں تاثر یہ لیا جاتا ہے کہ شاید سول محکموں کی نسبت فوج میں سرکاری افسران کی تنخواہیں اور مراعات زیادہ ہیں۔ لیکن ذرائع کے مطابق گریڈ 17 کا ملازم جو سیکنڈ لیفٹیننٹ سے کیپٹن تک ہوتا ہے، اُس کی تنخواہ جو اکاؤنٹ میں آتی ہے وہ 70 سے 75 ہزار تک ہوتی ہے۔ گھر کا کرایہ تنخواہ میں سے کٹ جاتا ہے اس کے علاوہ ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی میں پلاٹ کی مد میں مخصوص رقم بھی تنخواہ سے ہی کٹتی ہے۔ یہ پلاٹ ریٹائرمنٹ کے بعد ملتا ہے اور پلاٹ کی جو باقی رقم رہ جاتی ہے وہ یکمشت ادا کرنا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ یوٹیلٹی بل خود ادا کرنے ہوتے ہیں۔ سرکاری کاموں کے لیےگاڑی بھی زیر استعمال ہوتی ہے اس کے علاوہ ایک عدد ملازم بھی مل جاتا ہے جسے بیٹ مین کہا جاتا ہے جس کی تنخواہ حکومت پاکستان ادا کرتی ہے۔ اصل مراعات مفت میڈیکل کی سہولت ہے۔

اسی طرح گریڈ 18 کے افسر کے اکاؤنٹ میں 85 ہزار روپے آتے ہیں جبکہ باقی سہولیات جو اوپر بیان کی ہیں ایک جیسی ہیں۔ سپاہی کی تنخواہ 20 ہزار سے شروع ہوتی ہے جو وقت اور رینک کے ساتھ بڑھتی رہتی ہے جبکہ کھانا، رہائش اور میڈیکل مفت ہوتا ہے۔

Related Articles

Back to top button