نئے آرمی چیف کا سویلین سپریمیسی تسلیم کرنے کا اعلان

نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے فوج کے ادارے کو مکمل غیر سیاسی کرنے کے اعلان پر قائم رہنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں، فوج ایک فائٹنگ فورس ہے اور پروفیشنل ادارہ ہے جو حکومت کی کمان میں اپنے فرائض سر انجام دیتا ہے اور پالیسیاں بنانا بھی اس کا نہیں بلکہ حکومت کا اختیار ہوتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار جنرل عاصم منیر نے جی ایچ کیو راولپنڈی میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ آرمی چیف نے اپنی گفتگو کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا۔ جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ فوج کو غیر سیاسی کرنے کا فیصلہ کسی فرد واحد کا نہیں تھا بلکہ فوج کے ادارے کا تھا اور مکمل اتفاق رائے سے ہوا جو کہ فوج کے اپنے مفاد میں ہے لہٰذا اس پر سختی سے کاربند رہا جائے گا تا کہ ادارے کی ساکھ کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ فوج دستور کی پابند ہے اور آئین کے اندر رہتے ہوئے اپنا پروفیشنل کردار ادا کرے گی تا کہ ادارے کے وقار پر کوئی حرف نہ آئے اور اس کی ساکھ بہتر بنائی جا سکے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ سیاست میں مداخلت نے فوج کے وقار کو مجروح کیا ہے اور اسی لیے ادارے کو مکمل غیر سیاسی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔

ایک سوال پر نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے واضح کیا کہ فوج کا کام حکومت کے فیصلوں کے مطابق اپنے فرائض سر انجام دینا ہے، فوج نہ تو حکومت وقت کو ڈکٹیٹ کرسکتی ہے اور نہ ہی گائیڈ کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ قومی ،اندرونی اورخارجی معاملات پر پالیسیاں بنانا اور فیصلہ سازی کرنا فوج کا نہیں بلکہ حکومت کا اختیار ہے، لیکن مشورے کی گنجائش ہمیشہ موجود ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وارث اس کے عوام ہیں اور حکومت کے منتخب نمائندوں کا اختیار تسلیم کیا جانا چاہئے۔

آرمی چیف سے سوال کیا گیا کہ اگر حکومت آرمی چیف کو ایکسٹینشن دینے کا قانون ختم کرنا چاہے تو ان کا کیا ردعمل ہوگا؟ اس پر جنرل عاصم منیر نے کہا کہ فیصلہ سازی اور قانون سازی حکومت کا اختیار ہے اور فوج کا ادارہ یہ اختیار تسلیم کرتا ہے۔ جب سوال کیا گیا کہ کیا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی طرح فوجی سربراہ بھی سنیارٹی کی بنیاد پر نہیں لگنا چاہیے، تو آرمی چیف نے کہا کہ پہلے بھی یہ قانون سازی حکومت نے ہی کی تھی اور اب بھی یہ حکومت کا ہی اختیار ہے، انکا کہنا تھا کہ فوج حکومت کی جانب سے کی جانے والی قانون سازی پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔

بلوچستان کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے جنرل عاصم منیر نے اتفاق کیا کہ اس مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام کو اپنے نمائندے اور حکومت منتخب کرنے کا پورا اختیار ہونا چاہیے کیوں کہ وہاں کے عوام ہیں اپنے صوبے کے وارث ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اللہ نذر بلوچ جیسے نام نہاد بلوچ قوم پرست افغان پاسپورٹ رکھتے ہیں اور غیر ملکی فنڈنگ وصول کرتے ہیں، تاہم پاکستان میں انہیں مسنگ پرسنز قرار دیا جاتا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے فوجی چیک پوسٹوں کا خاتمہ ان کی اولین ترجیح ہوگی اور صوبے میں امن عامہ کی صورتحال بہتر ہوتے ہی فوجی دستوں کو بھی بلوچستان سے واپس بلا لینا چاہیے۔

تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا کہ یہ فیصلہ حکومت نے کرنا ہے کہ طالبان کے ساتھ لڑنا ہے یا بات چیت کرنی ہے۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ فوج فائٹنگ فورس ہے لہٰذا اگر حکومت اس مسئلے کے فوجی حل کا فیصلہ کرتی ہے تو پاک فوج بیس برس تک بھی طالبان کے خلاف جنگ لڑنے کو تیار ہے۔ یاد رہے کہ تحریک طالبان پاکستان نے پاک فوج کے ساتھ جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز پر حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جنرل عاصم منیر کی پہلی بریفنگ میں ہونے والی گفتگو سے انکے غیر سیاسی عزائم کا اظہار ہو جاتا ہے جو اکہ ایک خوش آئند بات ہے۔  پاکستانی سیاسی جماعتیں گذشتہ دہائیوں کے دوران پاکستان کی فوج پر ملکی سیاست میں مداخلت کے الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔ لیکن فوجی اسٹیبلشمنٹ کے پروجیکٹ عمران خان کی ناکامی کے بعد ادارہ سخت عوامی تنقید کی زد میں ہے۔ چنانچہ سابقہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے اپنے الوداعی خطاب میں فوج کی سیاست میں مداخلت کو ایک سنگین غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب ادارہ غیر سیاسی ہو چکا ہے اور سیاست دان اپنے فیصلے خود کرنے میں آزاد ہیں۔ یاد رہے کہ 2018 کے انتخابات کے بعد تب کی حزبِ اختلاف نے فوج  نے عمران خان کو اقتدار دلانے میں معاونت کے الزامات عائد کیے تھے۔ اس سے قبل 2017 میں سپریم کورٹ کی طرف سے پانامہ کیس میں نااہل قرار دیے جانے اور وزارتِ عظمٰی ختم ہونے کے بعد تب کے وزیرِاعظم نواز شریف نے بھی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور الیکشن میں دھاندلی کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی کیوں تحلیل نہیں کریں گے؟

تاہم فوج کی سیاست میں مداخلت کے حوالے سے بحث سیاسی منظر نامے پر زیادہ نمایاں تب ہوئی جب رواں برس اپریل میں عمران خان کی حکومت اپوزیشن کی جانب سے ایک تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں ختم ہوئی۔ حکومت کیا ختم ہوئی، فوج کے کندھوں پر چڑھ کر اقتدار میں آنے والے عمران خان نے فوج کو ہی نشانے پر رکھ لیا اور اسے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ سابق آرمی چیف قمر باجوہ نے ریٹائرمنٹ سے قبل شہدا کے خاندانوں سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ ’ہماری فوج پر دن رات تنقید کی بنیادی وجہ گذشتہ 70 سالوں میں اسکی سیاست میں مداخلت ہے، جو کہ غیر آئینی ہے اور اب اسے ختم کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ اب اپنی پہلی بریفنگ میں نئے آرمی چیف عاصم منیر نے بھی فوج کو غیر سیاسی کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوج کے لیے خود کو اچانک تبدیل کرنا مشکل ہو گا اور ابھی اس منزل تک پہنچنے میں کافی وقت لگے گا۔

Related Articles

Back to top button