فوج کی ضمنی الیکشن میں پولنگ سٹیشنز سے دور رہنے کی خواہش

معلوم ہوا ہے کہ اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنے کی خاطر عسکری قیادت نے پنجاب اسمبلی کی 20 سیٹوں پر 17 جولائی کو ہونے والے ضمنی الیکشن کے دوران پولنگ سٹیشنز سے دور رہنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور سکیورٹی کی ذمہ داری پولیس کے ذمے لگانے کی تجویز دی ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن کا اصرار ہے کہ پولنگ کے عمل کے دوران دھاندلی روکنے کے لیے پولنگ اسٹیشنز کے اندر سکیورٹی عملے کا ہونا لازمی ہے۔

اس حوالے سے الیکشن کمیشن اپنی ایک ’کوئیک ری ایکشن فورس‘ بنانے کا بھی سوچ رہا ہے جو دھاندلی کی شکایت پر موقع پر

حکومت نے مہنگائی بم پھینکا تو خود بھی اڑ جائے گی

پہنچ کر معاملات کو سنبھالے گی۔ عمر حامد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل کے دوران فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کی درخواست کرتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مراسلہ لکھا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب مسلح افواج کی یہ پالیسی ہے کہ وہ پولنگ اسٹیشنز سے دور رہیں گے، ہم اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرسکتے، لیکن یہ ہماری خواہش ہے کہ فلیگ مارچ اور کیو آر ایف سے زیادہ ہونا چاہیے، اسی وجہ سے ہم نے چیف آف آرمی سٹاف کو خط لکھا تھا۔ عمر حامد خان نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ پالیسی کتنی مضبوط ثابت ہوگی۔

رابطہ کرنے پر الیکشن کمیشن کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی کہ مسلح افواج نے حالیہ مہینوں خیبر پختونخوا میں ہونے والے دونوں ضمنی اور بلدیاتی انتخابات کے دوران سکیورٹی کے حفاظتی انتظامات میں تیسرےدرجے پر پوزیشن لی ہے۔ پولیس حکام، اوران کے بعد پیرا ملٹری فورسز یعنی پاکستان رینجرز اور فرنٹیئر کونسٹیبلری کی جانب سے پہلے اور دوسرےنمبر پر خدمات انجام دی گئیں۔

یاد رہے کہ عام انتخابات 2018 میں الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ اسٹیشنز میں مسلح افواج کو وسیع اختیارات دیے گئے کہ جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کروا کر عمران خان کو برسراقتدار لایا گیا اور فوج سخت تنقید کا نشانہ بنی۔ لہذا اب موجودہ فوجی قیادت الیکشن میں دھاندلی کا کوئی بھی الزام اپنے سر لینے کو تیار نہیں۔ یاد رہے کہ 2018 میں ملک بھر میں سکیورٹی کے انتظامات سنبھالنے کے لیے 3 لاکھ 71 ہزار دستے تعینات کیے گئے تھے جو 2013 کے انتخابات سے 3 گناہ زیادہ تھے۔

Related Articles

Back to top button