ارشد شریف کے قتل میں ملوث بھائیوں کا بزنس خطرے میں

کینیا میں پاکستانی صحافی ارشد شریف کے قتل کے بعد ان کے میزبان دونوں مشتبہ بھائیوں وقار احمد اور خرم احمد کا بزنس خطرے میں پڑ گیا ہے کیونکہ امریکی محکمہ خارجہ نے ماگاڈی میں واقع ایمو ڈمپ کیونیا شوٹنگ رینج کے ساتھ 4 لاکھ ڈالرز کا تربیتی معاہدہ منسوخ کر دیا ہے۔

لندن میں مقیم سینئر صحافی مرتضی علی شاہ کے مطابق امریکی انتظامیہ نے اپنا تربیتی معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ تب کیا جب ارشد شریف کے قتل نے وقار اور ان کے بزنس پارٹنر جمشید خان کے ملکیتی ایمو ڈمپ نامی انٹرٹینمنٹ کمپلیکس کو مشکوک بنا دیا جہاں پر ایک شوٹنگ رینج بھی واقع ہے۔ قتل سے پہلے آخری 36 گھنٹے ارشد شریف نے اسی شوٹنگ رینج پر بسر کیے تھے۔

ملک بھر سے قافلے لانگ مارچ کیلئے راولپنڈی کی جانب گامزن

بتایا جاتا ہے کہ وقار احمد اور خرم احمد کا تعلق کراچی سے ہے اور خرم قتل کے وقت ارشد شریف کی گاڑی چلا رہے تھے لیکن معجزانہ طور پر وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔ وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ خان ان دونوں بھائیوں کو ارشد شریف کے قتل میں ملوث قرار دے چکے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ انہیں انٹرپول کے ذریعے پاکستان لاکر شامل تفتیش کیا جائے۔

ذرائع نے بتایا کہ ایمو ڈمپ نے شوٹنگ رینج پر انسداد دہشت گردی کی تربیت کے لیے امریکی محکمہ خارجہ کے ساتھ تربیتی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ یہ معاہدہ یو ایس انٹرنیشنل کریمنل انویسٹیگیٹو ٹریننگ اسسٹنس پروگرام اور امریکی محکمہ خارجہ کے بیورو آف انٹرنیشنل نارکوٹکس اینڈ لا انفورسمنٹ افیئرز کا حصہ تھا۔ یہ تربیت مقامی پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیت کو مضبوط کرنے اور بین الاقوامی جرائم، غیر قانونی منشیات اور عدم استحکام کے انسداد کے لیے دی جاتی ہے۔

مرتضیٰ علی شاہ کے مطابق جس رات ارشد شریف نے اس شوٹنگ رینج پر قیام کیا، اس رات امریکی انسٹرکٹرز بھی وہاں موجود تھے اور اگلے دن 23 اگست کو رات گئے تک وہیں موجود رہے۔

اپنی ویب سائٹ پر، امریکی محکمہ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ کینیا کی نیشنل پولیس کو ایک مشترکہ پروگرام کے ذریعے ایمو ڈمپ پر تربیت دی جاتی تھی۔ اس پروگرام کا مقصد ان غیر ملکی اداروں کے عملے کو تربیت دینا ہے جو انسانی حقوق کا تحفظ کرتے ہیں، بدعنوانی کا مقابلہ کرتے ہیں، اور بین الاقوامی جرائم اور دہشت گردی کے خطرے کو کم کرتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ارشد کی زندگی کی آخری رات ایمو ڈمپ شوٹنگ رینج میں دس امریکی انسٹرکٹرز اور امریکی نیشنل ٹرینیز موجود تھے جنہوں نے رات کا کھانا ایک ساتھ کھایا اور ایکدوسرے کے ساتھ گھل مل گئے۔

ارشد شریف نے 22 اکتوبر کی رات خرم احمد کے ساتھ یہاں پہنچنے کے بعد اپنی زندگی کا آخری ڈیڈھ دن اسی مقام پر گزارا تھا۔ لیکن قتل کے بعد اب اس شوٹنگ رینج کو بند کر دیا گیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے علاوہ بھی کئی غیر ملکی فرموں نے ایمو ڈمپ سائٹ کے ساتھ تربیتی معاہدے ختم کر دیے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ ارشد شریف کے قتل کے فوراً بعد، مقامی پولیس نے سائٹ کے مالکان سے تمام کارروائیاں روکنے کو کہا تھا۔ وقار، خرم اور انکے 50 فیصد۔کے بزنس پارٹنر پاکستانی شہری جمشید خان نے سات سال قبل ایمو ڈمپ رینج بطور کاروبار شروع کی تھی۔ اسکی ویب سائٹ کے مطابق، یہ سائٹ تفریحی سرگرمیاں فراہم کرتی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ شوٹنگ کی جگہ کا انتظام بنیادی طور پر وقار احمد، ان کی اہلیہ مورین اور جمشید خان کرتے ہیں۔

دوسری جانب م فیکٹ فوکس ویب سائٹ کے ایڈیٹر احمد نورانی سے بات کرتے ہوئے جمشید خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ارشد شریف کو کینیا کی فوج نے قتل کیا تھا اور۔پولیس کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل سروس یونٹ یا جی ایس یو جس نے ارشد شریف کو قتل کیا وہ کینیا کی فوج کا حصہ تھا، اور اسکا کینیا پولیس سے کوئی تعلق نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جس جگہ قتل ہوا اسکے قریب ہی جنرل سروس یونٹ کی ایک ٹیم موجود تھی جس نے ارشد کو گولیاں ماریں۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ کینیا کی پولیس ارشد شریف کے قتل میں پاکستانی تحقیقاتی ٹیم سے تعاون نہیں کر رہی۔

پاکستانی تفتیش کاروں نے کینیا کے حکام سے تحریری طور پر کہا ہے کہ قتل کے وقت ایمو ڈمپ ٹریننگ کیمپ میں تربیت حاصل کرنے والے انسٹرکٹرز اور ٹرینرز کے نام اور رابطے کی تفصیلات فراہم کریں۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ایمو ڈمپ کے مالکان اسلحے کی تجارت بھی کرتے ہیں اور اسلحہ ساز کمپنیوں کے ساتھ کام بھی کرتے ہیں۔

لہٰذا وہ کینیا میں کافی اثر رسوخ رکھتے ہیں اور اسی لیے کینیا پولیس نے ابھی تک انہیں ارشد شریف کے قتل کیس میں شامل تفتیش نہیں کیا۔

Related Articles

Back to top button