اے آر وائی پاکستانی میڈیا کے ماتھے کا داغ کیسے بنا؟

ریاست پاکستان کے صبرکا پیمانہ لبریز ہونے کے بعد بالآخرقومی اداروں پر کیچڑ اچھالنے والے سلمان اقبال کے ملکیتی اے آر وائی نیوز چینل کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے اور پیمرا نے ملک بھر میں اسکی نشریات بند کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔ عمران خان کی اقتدار سے رخصتی کے بعد سے اے آر وائی مسلسل فوج اور ریاست مخالف بے بنیاد پروپیگنڈے میں مصروف تھا اور مروجہ صحافتی اخلاقیات کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے تمام حدیں پھلانگ گیا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عمران خان کے دورحکومت میں ٹیکس چھوٹ حاصل کرنے اور غیر قانونی طور پر کرکٹ میچز دکھانے کے حقوق حاصل کرنے سمیت درجنوں سنگین الزامات کا سامنے کرنے والا اے آروائی رفتہ رفتہ پاکستانی میڈیا کے لئے ایک داغ بن چکا ہے جس نے زرد صحافت میں نئے ریکارڈ قائم کرنے کے بعد اب سیاہ صحافت شروع کر رکھی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس میں رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے عمران خان کے ایما پر اے آر وائی مسلسل اداروں کے خلاف زہر افشانی کر رہا ہے اور صحافت کرنے کی بجائے تحریک انصاف کا پروپیگنڈاٹول بن چکا ہے، چنانچہ فوج اور دیگر ریاستی اداروں کے خلاف ہر جھوٹی کہانی سب سے پہلے اسی چینل پر چلتی ہے۔ اسکے بعد کپتان کے ٹرول بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے یوتھیے اور عمرانڈوز جوق در جوق اس جھوٹ کو برائی کی طرح پھیلانے پر لگ جاتے ہیں۔

ماضی میں اے آر وائے نیوز جیو اور جنگ گروپ کے چیف ایڈیٹر میرشکیل الرحمان کے خلاف جھوٹی خبریں دینے پر برطانوی عدالت میں جھوٹا ثابت ہو کرمعافی مانگنے کےعلاوہ بھاری جرمانہ بھی بھرچکا ہے۔ اے آر وائی برطانیہ میں پچھلے پانچ برس میں جھوٹی خبریں پھیلانے پر ہتک عزت کے 13کیسز ہار چکا ہے جس کے نتیجے میں یہ دیوالیہ بھی ہو گیا تھا۔ نام نہاد ٹی وی چینل بے بنیاد خبریں دینے پر ماضی میں معروف صنعتکار میاں منشا، سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار، سینئر صحافی گل بخاری اور لیگی رہنما ناصر بٹ کے خلاف بھی برطانیہ کی عدالتوں میں مقدمے ہار کر معافیاں مانگ چکا اور جرمانے بھر چکا ہے۔ تاہم پاکستان میں ہتک عزت کے کمزور قانون کی وجہ سے اے آر وائی شتر بے مہار ہوکر زہریلا پروپیگنڈا کرنے میں مصروف تھا لہٰذا اب برے کی دراز ہوتی رسی کھینچتے ہوئے اس کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔

منی لانڈرنگ : مونس الٰہی ایف آئی اے پیش، دو مبینہ فرنٹ مین گرفتار

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے ‘جھوٹا پراپیگنڈا’ کرنے پر اے آروائی کی نشریات کو تاحکم ثانی بند کر دیا ہے۔ پیمرا کے شوکاذ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ARY کی نشریات میں غیر آئینی، انتہائی قابلِ اعتراض، نفرت انگیز، باغیانہ اور مکمل طور پر جھوٹ پر مبنی مواد چلایا گیا جسکا مقصد واضح طور پر افواجِ پاکستان کو بغاوت پر اکسانا تھا اور فوج اور حکومت میں اختلافات پیدا کرناتھا جو کہ سراسر بدنیتی پر مبنی تھا۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ چینل نے اس مواد کے ذریعے وفاقی حکومت پر قطعاً بے بنیاد الزام عائد کیا کہ اس نے حال ہی میں ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہونے والے افسران کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلا کر ان کے خاندانوں کو اذیت پہنچائی۔

پیمرا نے ARY کمیونیکیشن پرائیویٹ لیمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسراورمالک سلمان اقبال کو تین دن کے اندراندر پیش ہو کر جواب دینے کا پابند کیا ہے اور پوچھا ہے کہ کیوں نہ چینل کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے پیمرا آرڈیننس 2002 اور پیمرا ترمیمی ایکٹ کے آرٹیکل 29 اور30 کے تحت اسکے لائسنس کو معطل یا منسوخ کر دیا جائے۔

صحافتی اخلاقیات کی دھجیاں بکھیرنے والے اے آر وائی کی جانب سے یہ خبر دی گئی تھی کہ پاک فوج کی حالیہ شہادتوں پر مسلم لیگ ن نے پی ٹی آئی اور عمران خان کے خلاف منظم مہم چلائی تھی۔ حکومتی میڈیا سیل کا پہلا کام عمران اور پی ٹی آئی کو فوج مخالف ثابت کرنا ہے۔ اے آر وائی پر یہ خبر بھی دی گئی تھی کہ 27 جون 2022 کو مسلم لیگ ن اور حکومتی میڈیا سیل سے عمران خان کو فوج مخالف سیاستدان ثابت کرنے کا بیانیہ بنایا جا رہا تھا۔تحریکِ انصاف کےکارکنان کی جانب سے ہیلی کاپٹر حادثے میں ایک لیفٹیننٹ جنرل اور ایک بریگیڈیئر کی شہادت کے بعد مذموم مہم سامنے آنے کے بعد ARY نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ سب لوگ دراصل ن لیگ کے کارکنان تھے اور انہوں نے پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس بنا کر شہدا کے خلاف مہم چلائی تاکہ پی ٹی آئی کو بدنام کیا جا سکے۔ چینل نے البتہ اپنے اس دعوے کے حق میں شواہد اور ثبوت کے نام پر کوئی ڈاکٹرڈ کلپ تک پیش نہیں کیا تھا۔ اس خبر پر ایکشن لیتے ہوئے پیمرا نے کیبل آپریٹرز کو اے آر وائی کی نشریات بند کرنے کے احکامات جاری کئے۔

ایسے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ اے آر وائی نیوز چینل اب پاکستانی میڈیا کے ماتھے کا داغ بن چکا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اگر پاکستان میں بھی برطانیہ جیسا ہتک عزت کا سخت قانون ہوتا تو اے آر وائی کے مالکان پاکستان میں بھی روزانہ جھوٹی خبریں چلانے پر جرمانے بھرتے اور معافیاں مانگتے، جیسا کہ انہوں نے میر شکیل الرحمان، گل بخاری، اسحق ڈار، ریحام خان اور ناصر بٹ وغیرہ کے کیسوں میں جھوٹ بولنے پر کیا۔ خیال رہے کہ اے آر وائے برطانیہ میں متعدد مرتبہ جھوٹی خبریں چلانے پر ہرجانے بھر چکا ہے۔ یاد رہے کہ 2014 میں جیو نیوز کے خلاف چلائی گئی ایک بے بنیاد مہم کے ثبوت برطانوی عدالت میں پیش نہ کر سکنے کے بعد اے آر وائی پر بھاری جرمانہ عائد کیا گیا تھا جس کے بعد اس نے برطانیہ میں خود کو دیوالیہ قرار دے کر چینل بند کر دیا تھا اور اب وہاں VN News کے نام سے ایک دوسرے چینل کے ذریعے اے آر وائے کی نشریات چلائی جاتی ہیں۔

Related Articles

Back to top button