ریٹائرڈ جرنیل کس کے کہنے پر گند ڈال رہے ہیں؟

ایک مرتبہ جب سابق فوجی سربراہ جنرل موسیٰ خان سے پوچھا گیا کہ جرنیل سیاست دانوں سے نفرت کیوں کرتے ہیں تو انہوں نے بتایا تھا کہ فوجی افسران کی ساری زندگی اپنے سینئرز کا حکم مانتے یا کسی کو حکم دیتے گزرتی ہے، اسی لئے سیاست کی Give and Take وردی والوں کی سمجھ سے باہر ہوتی ہے۔ چونکہ وردی والوں کو اختلاف رائے ہضم نہیں ہوتا اور صرف دشمن سے لڑنا آتا ہے، اس لئے جب سیاستدان یا حکمران جرنیلوں سے کسی ایشو پر اختلاف کرتے ہیں تو وہ اسے دشمنی سمجھ کر نبھانے نکل پڑتے ہیں۔

امریکا کے لیے اسامہ کی مخبری کرنے والا افسر اب کہاں ہے؟

کچھ ایسی صورتحال 7 جون کے روز اسلام آباد میں عمران خان کے حمایتی ریٹائرڈ جرنیلوں کی تنظیم ویٹرنز سوسائٹی آف پاکستان کی پریس کانفرنس کے دوران رونما ہوئی۔ یاد رہے کہ ریٹائرڈ جرنیلوں کی اس تنظیم کی قیادت ماضی میں سیاست میں ملوث ہونے کی وجہ سے آرمی چیف نہ بنائے جانے والے لیفٹیننٹ جنرل علی قلی خان اور متنازعہ ترین جرنیل سمجھے جانے والے سابق سیکریٹری دفاع آصف یاسین ملک کر رہے ہیں۔ اس پریس کانفرنس کے دوران جب چند سینئر صحافیوں نے ریٹائرڈ جرنیلوں سے سوالات کرنے کی کوشش کی تو انہیں اجازت نہیں ملی اور جواب دیا گیا کہ اس پریس کانفرنس میں سوالات نہیں کیے جائیں گے۔

لیکن پریس کانفرنس ختم ہونے کے بعد جب مطیع اللہ جان اور اعزاز سید نے سوال کرنے پر اصرار کیا تو عمرانڈو جرنیل سمجھے جانے والےسابق کور کمانڈر راولپنڈی علی قلی خان نے سوالات لینے کا اعلان کر دیا۔ لیکن جب سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے پہلے سوال کے لئے مائیک آگے بڑھایا تو ریٹائرڈ جرنیلوں اور انکی بیگمات نے مطیع اللہ جان کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی اور انہیں سوال کرنے سے روک دیا گیا۔ وہاں موجود تحریکِ انصاف کے ایک کارکن نے ان پر لیگی رہنما مریم نواز کا چمچہ ہونے کا الزام لگانا شروع کر دیا۔ لیکن صحافی بضد رہے کہ مطیع اللہ جان ہی سوال کریں گے کیونکہ یہ ان کا استحقاق ہے، مگر نعرے جاری رہے اور پریس کانفرنس بغیر سوالات کے ختم کر دی گئی۔ اس موقع پر چند ریٹائرڈ جرنیلوں نے اعزاز سید اور مطیع اللہ جان سے الجھنے کی کوشش بھی کی۔ اس دوران جب معروف تحقیقاتی صحافی اعزاز سید نے علی قلی خان اور آصف یاسین ملک سے چند سوالات کیے تو دونوں منہ چھپا کر ادھر ادھر نکل گئے۔ لیکن جب اعزاز سید نے عاصم یاسین کا پیچھا کیا اور ان سے پوچھا کہ انہوں نے مئی 2011 میں اسامہ بن لادن کی امریکیوں کے ہاتھوں ایبٹ آباد میں ہلاکت کے بعد بطور کور کمانڈر پشاور اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے استعفیٰ کیوں نہیں دیا تھا تو انہوں نے جواب میں دھمکیاں دینی شروع کر دیں اور اعزاز سید کو کہا کہ تم اپنی جنازے کی تیاری کرو۔

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ یہ ریٹائرڈ فوجی افسران ہیں کون اور کیا ان کی تنظیم کی کوئی لیگل حیثیت ہے بھی یا نہیں۔ عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تنظیم کی کوئی لیگل حیثیت نہیں اور بنیادی طور پر یہ تحریک انصاف کی ایک ذیلی تنظیم لگتی ہے۔ انفرادی طور پر اگر دیکھا جائے تو ان کی قیادت کرنے والے افسران میں سے زیادہ تر کا تعلق براہِ راست تحریک انصاف سے ہے۔

ویٹیرنز سوسائٹی آف پاکستان کے کرتا دھرتا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین ملک عمران خان کے ایک قریبی دوست کے سسر ہیں اور تحریک انصاف کے باقاعدہ رکن ہیں۔ مئی 2011 میں جب امریکی اسپیشل فورسز نے ایبٹ آباد پر حملہ کرکے اسامہ بن لادن کو ان کے کمپاؤنڈ میں قتل کیا تو آصف یاسین کورکمانڈر پشاور تھے۔ موصوف اس واردات کے وقت نیند کے مزے لے رہے تھے حالانکہ بقول شخصے جب سویلینز سو رہے ہوتے ہیں تو فوجی بھائی جاگ رہے ہوتے ہیں۔ اس واردات کے بعد کور کمانڈر پشاور سے استعفیٰ لینے کا مطالبہ ہوا تھا لیکن نہ تو تب کے آئی ایس آئی سربراہ احمد شجاع پاشا مستعفی ہوئے اور نہ ہی آصف یاسین ملک۔ ان دونوں شخصیات کو فوج میں سیاسی جرنیل قرار دیا جاتا تھا۔ ظلم یہ ہے کہ امریکی حملے کے وقت پاکستان کا دفاع کرنے میں ناکام رہنے والے آصف یاسین ملک کو بعد ازاں 2012 میں پاکستان کا سیکرٹری دفاع مقرر کر دیا گیا۔

اسی طرح جنرل (ر) علی قلی خان بھی تحریکِ انصاف کے 2012 سے اعلانیہ رکن ہیں۔ موصوف 1998 میں جنرل جہانگیر کرامت کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے وقت سینئر ترین جرنیل تھے لیکن ان کو سیاسی جرنیل سمجھتے ہوئے نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف لگا دیا تھا جولی سے زیادہ سیاسی نکلے اور 1999 میں اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ سینئر صحافی وسیم عباسی کے مطابق ویٹرنز سوسائٹی آف پاکستان کے کرتا دھرتا علی قلی خان خٹک اس وقت اپنے بیٹے خالد قلی خان خٹک کو PTI کے ٹکٹ کے لئے تیار کر رہے ہیں اور اسی لئے عمران کے حق میں پریس کانفرنسز کر کے اپنی وفاداری کا یقین دلا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ ان کے صاحبزادے جنوبی خیبر پختونخوا کے پی ٹی آئی چیپٹر کے سیکرٹری جنرل بھی ہیں۔

اسی طرح ویٹرنز سوسائٹی آف پاکستان کے ایک اور اہم رہنما بریگیڈیئر (ر) سیمسن سائمن شیرف بھی PTI کے رکن ہیں۔ عمران خان کے مطابق 35 پنکچرز والی خبر بھی ان تک سائمن نے ہی پہنچائی تھی جو بعد میں جھوٹی نکلی۔ آپ کو وہ حامد میر کے انٹرویو میں حیرت انگیز لمحہ تو یاد ہی ہوگا جب عمران خان نے 35 پنکچر کی بابت سوال کا جواب دیتے ہوئے یکایک کہہ دیا تھا کہ وہ تو سیاسی بات تھی۔ اتفاق دیکھیے کہ یہی سیمسن شیرف تھے جو وقت ٹی وی پر مطیع اللہ جان ہی کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ حقیقت پہلی بار سامنے لائے تھے کہ 2014 میں عمران خان کے دھرنے کے پیچھے جنرل (ر) ظہیر الاسلام تھے اور نواز شریف کے پاس ان کی آڈیو ریکارڈنگز موجود تھیں جو کہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو سنوائی گئیں اور انہوں نے فوری طور پر حکم دیا کہ اس دھرنے کی حمایت میں جو بھی افسران ملوث ہیں وہ خود کو اس سے دور کر لیں۔

Related Articles

Back to top button