بحریہ ٹائون کے بینک کی فروخت کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا

پاکستان کے سب سے بڑے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر بحریہ ٹاؤن کے ذیلی ادارے سکارٹس انویسٹمنٹ بینک لمیٹڈ کی فروخت کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے، بتایا گیا ہے کہ ٹرانزیکشن میں ’’عدم پیش رفت‘‘ کے باعث، تین سرمایہ کاروں کے ایک گروپ نے باضابطہ طور پر سکارٹس انویسٹمینٹ بینک کے 50 فیصد سے زائد شیئرز نہ خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تینوں سرمایہ کاروں نے مارچ میں اعلان کیا تھا کہ وہ مشکلات کے شکار انویسٹمنٹ بینک میں مینجمنٹ کنٹرول کے ساتھ 50 فیصد سے زیادہ شیئرز خریدیں گے، اس ڈیل کے مطابق عمران خان کے قریبی ساتھی اور معروف بزنس مین عبدالکریم ڈھیڈی کے ملکیتی ادارے اے کے ڈی سیکیورٹیز کو میاں جاوید اختر، میاں ذیشان جاوید اور محمد علی کاظمی کی جانب سے مشترکہ طور پر کی گئی پیشکش کے نتیجے میں منیجر کے طور پر کام کرنا تھا، اس ڈیل میں ابتدائی دو ممکنہ سرمایہ کار تجارت، تعمیرات، زراعت اور درآمد اور برآمد کے کاروبار سے منسلک ہیں جبکہ تیسرے ممکنہ سرمایہ کمرشل بینکنگ، انشورنس، ٹریژری، ٹریڈ فنانس، لیزنگ اور انویسٹمنٹ بینکنگ کے شعبے میں کاروبار کرتے ہیں۔
2022 کے آغاز سے سرمایہ کاری بینک میں شیئرز خریدنے کا اعلان دوسری مرتبہ واپس لیا گیا ہے، اس سے قبل، جنوری، مارچ کی سہ ماہی میں بھی کی گئی آفر کے منیجر ایم منیر ایم احمد خانانی سیکیورٹیز لمیٹڈ نے بھی ممکنہ سرمایہ کار کی جانب سے کیا گیا اعلان واپس لے لیا تھا۔

چیف جسٹس کی نئے عدالتی سال پرتقررمایوس کن قراردیدی

یاد رہے کہ بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ نے 27 مئی 2022 کو سکارٹس انویسٹمنٹ بینک لمیٹڈ کے ذریعے سرمایہ کاروں کو بتایا کہ وہ تین سرمایہ کاروں کے گروپ کو بینک کے شیئرز فروخت کرنے کا اب بھی خواہش مند ہے، اگرچہ شیئرز کی فروخت اور خریداری کا معاہدہ پہلے ہی ختم ہو گیا تھا۔ یکم مئی کو، بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ کے ملک ریاض حسین کی جانب سے دستخط کیے گئے نوٹس میں کہا گیا تھا کہ ممکنہ سرمایہ کاروں کو معاہدے سے قبل کچھ شرائط کو پورا کرنے کی ضرورت ہے، نوٹس کے مطابق خریداروں نے مطلوبہ ریگولیٹری اپروول کے حصول اور پیشگی شرائط کو پورا کرنے کے لیے کوئی پیش رفت نہیں کی۔ زیادہ تر کمرشل بینک بحریہ ٹاؤن کی جائیدادوں کیلئے ہوم لون نہیں دیتے، بینکوں کی جانب سے اس عدم ادائیگی کی وجہ بحریہ ٹاؤن کی زمینوں کی متنازع حیثیت ہے، تاہم ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کا ذیلی ادارہ ہونے کی حیثیت سے سکارٹس انویسٹمنٹ بینک بحریہ ٹاؤن میں گھر کے خریداروں کو طویل مدتی فنانسنگ فراہم کرنے کے لیے تیار تھا۔ بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ اسکارٹس انویسٹمنٹ بینک کے 87.9 فیصد کا مالک ہے جب کہ عوام اور ‘دیگر’ سرمایہ کار بالترتیب 10.2 اور 1.8 فیصد کے شیئر ہولڈرز ہیں، بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ اسکارٹس انویسٹمنٹ بینک کے حصص کی قیمت پیر کو 4.36 فیصد کم ہو کر 5روپے27 پیسے پر آگئی، موجودہ حصص کی قیمت پر مبنی بینک کی کل مالیت 71 کروڑ 46 لاکھ روپے ہے۔
سالانہ مالیاتی اکاؤنٹس کے مطابق بینک نے 2020-21 میں اپنی ’’کل آمدنی‘‘ کا 27 فیصد سے زیادہ ہاؤس فنانس کے ذریعے کمایا۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق بینک 2016 سے خسارے میں چل رہا ہے، 2020-21 میں اس کا نیٹ لوس 81 کروڑ 14 روپے تھا۔

Related Articles

Back to top button