ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کی بحالی کیخلاف فیصلہ محفوظ‌

لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کے اختیارات بحالی کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ میں ڈپٹی سپیکر کے اختیارات بحالی کے حوالے سےمسلم لیگ ق کی جانب سے درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ڈپٹی سپیکر وزیراعلٰی پنجاب کا انتخاب نہیں کروا سکتے کیونکہ وہ جانبدار ہیں لہذا عدالت سنگل بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔

ڈپٹی سپیکر دوست مزاری نے عدالت کے روبرو موقف اپنایا کہ سپیکر صاحب نے غیر قانونی طور پر میرے اختیارات واپس لیے تھے، تمام کام آئین اور قانون کے مطابق ہی کیے۔ مسلم لیگ ق کے وکیل نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر اپنا جھکاؤ ایک امیدوار کی طرف ظاہر کر چکے ہیں اس لیے وہ جانبدار نہیں رہے۔ ڈپٹی سپیکر بضد ہیں کہ اجلاس کی صدارت وہ ہی کریں گے۔ مسلم لیگ ن کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے عدالت کو بتایا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے سپریم کورٹ میں بیان دیا کہ چھ اپریل کو ووٹنگ ہو گی۔

اس کے بعد میڈیا سے پتا چلا کہ اجلاس 16 اپریل تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی تھی اس کے باوجود انہوں نے اجلاس کی صدارت کی اور بعد میں استعفیٰ دیا۔ سپریم کورٹ نے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو کسی قسم کا فیصلہ کرنے سے روک دیا تھا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کے وکیل علی ظفر ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ ڈپٹی سپیکر کی عدم موجودگی میں اسمبلی کے پینل کا چیئرمین اجلاس کی صدارت کرے گا۔

عمران خان کو روکا نہ گیا تو پاکستان تقسیم ہو جائے گا

انہوں نے بتایا کہ وزیراعلٰی کے عہدے کے لیے سپیکر خود بھی امیدوار ہیں جبکہ ڈپٹی سپیکر کے خلاف پی ٹی آئی نے عدم اعتماد کی تحریک پیش کر رکھی ہے۔ ڈپٹی سپیکر متنازع ہیں اور اجلاس کی صدارت نہیں کرسکتے۔ یہ بھی پڑھیں:افسر و ملازمین کیلئے بڑی خبر، عید پر ڈبل تنخواہ ملے گی جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دیے کہ ہم نے دیکھنا ہے کہ اجلاس طلب کرتے وقت ڈپٹی سپیکر کی بدنیتی تھی یا نہیں۔

ہم نے آئین و قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے ڈپٹی سپیکر کے اختیارات بحال کرنے سے متعلق دائر اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

Related Articles

Back to top button