زیارت آپریشن میں مشکوک ہلاکتوں کی تحقیقات کا فیصلہ

زیارت آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جانے والے 9 افراد کے بارے میں اس انکشاف کے بعد کہ وہ کافی عرصہ سے لاپتہ تھے اور مبینہ طور پر ایجنسیوں کی تحویل میں تھے، حکومت بلوچستان نے ایک جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کے لیے بلوچستان ہائی کورٹ کو خط لکھ دیا ہے۔
بلوچستان حکومت کے مطابق جوڈیشل کمیشن بلوچستان ٹریبیونل آف انکوائری آرڈیننس 1969 کے تحت قائم کیا جائے گا جس کی سربراہی بلوچستان ہائیکورٹ کے جج کریں گے، صوبائی حکام کے مطابق کمیشن کے سربراہ کی نامزدگی بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کریں گے۔
یاد رہے کہ صوبہ بلوچستان کے شہر زیارت کے قریب رواں ماہ پاکستانی فوج کے ایک افسر اور اُن کے ساتھی کی بازیابی کے لیے کیے جانے والے ناکام آپریشن کے بعد سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک ہونے والے افراد کے بارے میں اس بحث کا آغاز ہوا تھا کہ آیا وہ اس جرم میں ملوث شدت پسند تھے یا پھر گذشتہ کچھ عرصے کے دوران لاپتہ ہونے والے ایسے افراد جن کے اہلِخانہ ان کی تلاش کر رہے تھے جہاں حکومت کی جانب سے ان افراد کو کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے ’دہشتگرد‘ قرار دیا گیا تھا وہیں ان کے اہلِخانہ نے اس حکومتی الزام کو مسترد کیا ہے۔
رواں ماہ 13 اور 14 جولائی کی درمیانی شب ڈی ایچ اے کوئٹہ کے سینیئر افسر لیفٹیننٹ کرنل لئیق بیگ مرزا اور ان کے چچا زاد بھائی عمر جاوید کے اغوا کے بعد سکیورٹی فورسز نے ضلع زیارت میں جو آپریشن کیا، اس میں حکام کے مطابق نو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حکومت عمران خان سے خوفزدہ، آج یا کل گر جائے گی

دونوں مغویوں کی محفوظ بازیابی ممکن نہیں ہو سکی تھی کیونکہ انھیں مبینہ طور پر اغوا کاروں نے ہلاک کر دیا تھا۔ لیفٹیننٹ کرنل لئیق مرزا کے اغوا اور قتل کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی تاہم بازیابی کے لیے کیے گئے آپریشن کے بعد بی ایل اے کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ آپریشن میں تنظیم کا کوئی رکن ہلاک نہیں ہوا۔
اس آپریشن کے حوالے سے پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر جو بیانات جاری کیے گئے، ان میں یہ بتایا گیا تھا کہ اس آپریشن میں کالعدم بی ایل اے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہلاک ہوئے جبکہ سکیورٹی فورسز کا ایک اہلکار بھی مارا گیا۔
بلوچستان کے مشیر برائے داخلہ و قبائلی امور میر ضیاء اللہ لانگو نے بتایا تھا کہ آپریشن میں نو افراد مارے گئے جن میں پانچ کی شناخت شمس، انجینیئر ظہیر، شہزاد بلوچ، مختیار احمد بلوچ اور سالم کریم بخش کے ناموں سے ہوئی۔اُنھوں نے بتایا تھا کہ جن نو افراد کی لاشوں کو کوئٹہ منتقل کیا گیا ان میں سے پانچ کو ان کے رشتے داروں نے شناخت کیا ہے۔
اگرچہ مشیر داخلہ نے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد نو بتائی لیکن بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتے داروں کے تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے دعویٰ کیا تھا کہ آپریشن کے نام پر اس مبینہ ’جعلی مقابلے‘ میں 11 لوگوں کو مارا گیا۔ وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے الزام عائد کیا تھا کہ جن نو افراد کی لاشوں کو زیارت سے کوئٹہ منتقل کیا گیا ان میں سے پانچ کی شناخت ہوئی جو کہ پہلے سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے تھے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی نے اسے ’جعلی مقابلہ‘ قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت سے تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا تھا چنانچہ اب اس مطالبے پر عمل کرتے ہوئے بلوچستان ہائی کورٹ کو صوبائی حکومت کی جانب سے ایک جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کی درخواست کر دی گئی ہے تاکہ سچ سامنے آ سکے۔

Related Articles

Back to top button