حکومت ڈالر کی قلت ختم کرنے میں ناکام کیوں ہے؟

ملک میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قلت روکنے کے لیے تمام تر حکومتی اقدامات بے سود ثابت ہو رہے ہیں کیونکہ اس وقت غیرملکی کرنسی کی بیرون ملک سمگلنگ زور و شور سے جاری ہے۔ کرنسی مارکیٹ میں کاروبار کرنے والے ماہرین کے مطابق اس وقت سرکاری سطح پر دستیاب ڈالر اور مارکیٹ میں خرید و فروخت ہونے والے ڈالر کی قدر میں 25 روپے سے زائد کا فرق دیکھا جا رہا ہے، صرف یہی نہیں بلکہ پاکستان کے مختلف شہروں اور مارکیٹوں میں بھی ڈالر کی الگ الگ قیمت ہے۔ یہ فرق بیرون ممالک سے پیسے بھیجنے والے افراد سمیت اندرون ملک کرنسی کا کاروبار کرنے والے تاجروں کو بینکاری نظام سے ہٹ کر ڈالر کی منتقلی اور خرید و فروخت کی ترغیب کا سبب بن رہا ہے اور اس وجہ سے ملک میں حوالہ ہنڈی کا کاروبار ایک بار پھر عروج پر پہنچ چکا ہے۔

پاکستان کے معاشی مرکز کراچی میں گذشتہ کئی سالوں سے غیر ملکی کرنسی کی خرید و فروخت کا کام کرنے والے ایک ایجنٹ نے اردو نیوز کو بتایا کہ پاکستان میں ڈالر کی قیمت میں عدم استحکام کی وجہ سے نہ صرف بیرون ملک سے حوالہ ہنڈی میں اضافہ ہوا بلکہ اندرون ملک میں بھی ڈالر کی غیر قانونی تجارت بڑھی ہے جس سے بحران میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈالر کی خرید و فروخت کرنے والے ایجنٹ نے بتایا کہ دستاویزی عمل کے بغیر نان بینکنگ چینل کے ذریعے ڈالرز کا کاروبار ایک طرح کی سرمایہ کاری ہے، جس طرح کسی بھی شعبے میں منافع کا سودا کیا جاتا ہے، اسی طرح کرنسی کے کاروبار میں بھی اچھے ریٹ پر فوری ادائیگی کر کے ڈالر خرید لیا جاتا ہے اور پھر جب اس کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کو بیچ دیا جاتا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجے گئے پیسوں میں واضح کمی ہوئی ہے، گزشتہ سال نومبر میں بینکوں کے ذریعے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں 14 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ دسمبر میں اس میں 3.2 فیصد کی مزید کمی ہوئی ہے جس کے بعد ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیادوں پر کمی 19 فیصد ہوگئی۔

یہی نہیں بلکہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بتایا کہ مالی سال 2023 کی پہلی ششماہی میں بیرون ملک سے ترسیلات زر کی مد میں آنے والے 14.1 ارب ڈالر گزشتہ سال کی پہلی ششماہی میں آنے والے فارن ایکسچینج سے 11.1 فیصد کم ہیں، ماہرین کے مطابق یہ کمی اس لیے بھی ہوئی ہے کہ بہت سے بیرون ملک پاکستانیوں نے بینکنگ چینلز کو چھوڑ کر پھر سے حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے اپنے گھر والوں کو پیسے منتقل کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ حوالہ ہنڈی استعمال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بجائے بینک یا کسی اور باضابطہ چینل کے رقم منتقل کرنے کے غیر رجسٹرڈ طریقوں سے لوگوں کے ذریعے انفرادی طور پر رقوم بھیجی جائے، اس طریقہ کار کے تحت بیرون ملک سے رقم بھیجنے والا شخص اس ملک کی کرنسی اپنے کسی جاننے والے شخص کے حوالے کرتا ہے جو اس کے مطلوبہ ملک میں اس کے مطلوبہ فرد کو اس کرنسی جتنی رقم اپنی فیس کاٹ کر ادا کر دیتا ہے۔اس طرح رقم بھیجنے کے لیے نہ تو بینک کی اور نہ ہی کرنسی ایکسچینج کی ضرورت پڑتی ہے۔

اس نظام میں مڈل مین کام کرتے ہیں اور یہ کام زبان کی ضمانت پر کیا جاتا ہے۔ پیسے وصول کرنے والے کو ایک کوڈ دیا جاتا ہے جسے دکھا کر وہ اپنے ملک میں رقم وصول کر سکتے ہیں، اس ذریعے سے بھیجی جانے والی رقم کے استعمال کے بارے میں آگاہی آسان نہیں ہوتی کیونکہ اس رقم کا کہیں باضابطہ ریکارڈ نہیں ہوتا۔ جس ملک سے رقم بھجوائی جاتی ہے وہاں سے مڈل مین دوسرے ملک میں موجود اپنے مقامی مڈل مین سے رابطہ کرتا ہے جہاں یہ رقم پہنچانا ہوتی ہے۔ اس شخص کو بتایا جاتا ہے کہ کتنی رقم بھجوانی ہے اور اس کی منتقلی کے لیے ایک پاس ورڈ تشکیل دیا جاتا ہے۔ پھر پیسے بھیجنے والے کو مڈل مین کی تفصیلات فراہم کی جاتی ہیں اور رقم کی منتقلی کے لیے تشکیل دیئے گئے خفیہ کوڈ کا دوسرا حصہ بتایا جاتا ہے جس سے رقم وصول کرنے والے اصل فرد کی شناخت ہو جاتی ہے اور پھر چند گھنٹوں میں ہی یہ رقم اس شخص تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کام کے لیے مڈل مین اپنا کمیشن لیتا ہے، مختلف ممالک سے کام کرنے والوں کے مختلف کمیشن ریٹ ہوتے ہیں، بڑی رقم کی منتقلی پر پاس ورڈ کسی چیز کی شکل میں بھی ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی بھی کرنسی نوٹ کا آدھا حصہ مڈل مین کے پاس ہوتا ہے اور دوسرا حصہ لین دار کے پاس ہوتا ہے۔ ایک ہی نوٹ ہونے کی وجہ سے نوٹ پر ایک ہی نمبر ہوتا ہے اور پیسے باحفاظت وصول کنندہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ دوسری جانب ایف آئی اے کے مطابق حوالہ ہنڈی کے غیر قانونی کاروبار کے خلاف کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔

اوپن مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر 243 روپے کا ہوگیا

Related Articles

Back to top button