اب اپوزیشن سے مذاکرات نیا آرمی چیف آنے کے بعد ہوں گے

باخبر ذرائع نے عمران خان کی جماعت اور شہباز حکومت کے مابین کسی ڈائیلاگ کے امکان کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب اگر کوئی مذاکرات ہوں گے تو وہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے بعد ہی ہوں گے۔ ذرائع نے سینئر صحافی انصار عباسی کے اس دعوے کو رد کیا کہ حکومت اورعمران خان کے مابین مذاکرات کرانے کی ایک آخری کوششں کی جا رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور عمران کے مابین ماضی میں مذاکرات کی کوششیں اسٹیبلشمنٹ نے کی تھیں لیکن عمران خان کی جانب سے الزامات اور گالیوں کی بوچھاڑ کے بعد اب بھائی لوگ ایسی کسی کوشش کا حصہ بننے کو تیار نہیں۔ ویسے بھی ایسی کوئی کوشش فوج کی جانب سے غیر سیاسی رہنے کے عزم کو کمزور کرے گی۔

یاد رہے کہ عمران کی جانب سے جنرل باجوہ کے ساتھ ایوان صدر میں پچھلے ماہ ایک خفیہ ملاقات کے بعد حکومت اور تحریک انصاف کے وفود کی ملاقات ہوئی تھی لیکن وہ کامیاب نہ ہو پائی۔

سیاست دان عوام کی بجائے گیٹ نمبر4 پربھروسہ کیوں کرتے ہیں؟

اس ملاقات کے بعد عمران نے جنرل باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی ندیم انجم کے علاوہ ڈی جی سی میجر جنرل فیصل نصیر پر بھی الزامات عائد کر دیے تھے جس کے بعد اب اسٹیبلشمنٹ ان سے تمام رابطے منقطع کر چکی ہے۔

حکومتی اور عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ اب اگر عمران سے کوئی مذاکرات ہونے ہیں تو وہ نئے آرمی چیف کی تقرری کے بعد ہی ہوں گے۔ لیکن ان کی کامیابی کا امکان بھی اس لیے نہیں کہ عمران جلد الیکشن چاہتے ہیں جبکہ پی ڈی ایم کی اعلیٰ قیادت کا اصرار ہے کہ وہ اپنی مدت مکمل کرے گی اور آئندہ الیکشن اگلے سال اکتوبر اور نومبر کے دوران ہی ممکن ہیں۔

سیاسی مخالفین سے بات نہ کرنے کے برسوں پرانے عمران خان کے رویے کی وجہ سے نواز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان بھی غیر لچک دار رویہ اختیار کر چکے ہیں۔ اب تو یہ رہنما بھی عمران خان سے بات چیت کے امکان کو خارج از امکان قرار دیتے ہیں۔

 مسلم لیگ ن کے سینئررہنما اور سابق سینیٹر پرویز رشید بھی حکومت اور عمران کے مابین ڈائیلاگ کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ اُن کا کہنا ہے کہ آئین میں سب کی ذمہ داریاں اور حد بندیوں کا تعین ہے۔ ادارے اپنے حلف کی پاسداری کریں۔ اگر ادارے حلف کی پابندی اور سٹیک ہولڈرز اپنی ذمہ داریوں کا خیال نہیں کریں گے تو کسی ڈائیلاگ کا کوئی فائدہ نہیں۔

پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ اس سیاسی بحران سے نکلنے کا راستہ گفتگو کے ذریعے ممکن ہے مگر عمران کا خیال ہے کہ تصادم اور دباؤ سے یہ راستہ نکالا جا سکتا ہے۔ اگر سیاسی بحران سے نکلنے کا راستہ موجود ہے تو محض ڈائیلاگ سے، یہ مشروط طور پر نہیں نکلے گا۔ ہم تو ہر طرح کے ڈائیلاگ کی دعوت دے چکے ہیں۔

ڈائیلاگ کے سوال پر تحریکِ انصاف کے فواد چودھری کا کہنا تھا کہ گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت ہے مگر اسکی پہل حکومت کو کرنی چاہیے۔ پی ٹی آئی کا یک نکاتی ایجنڈا ہے کہ فوری انتخابات ہوں۔ اس ایجنڈے پر سارا احتجاج ختم ہوسکتا ہے۔ سینئرصحافی مظہر عباس بھی کسی ڈائیلاگ کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’گرینڈ ڈائیلاگ کسی بڑے ایشو پر ہوتے ہیں۔ اگر ایسے کسی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے تو انتخابات کے بعد قائم ہونے والی اگلی حکومت کرے اور اہم ستونوں کو مل کر کرنا چاہیے۔

Related Articles

Back to top button