بالآخر حکومت نے بھی اسٹیبلشمنٹ کو آنکھیں دکھا دیں

حکومت کی اتحادی جماعتوں نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا فوری الیکشن کروانے کا مطالبہ سختی سے رد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر فوج پاکستان کو معاشی تباہی سے دوچار کرنے والے ناکام وزیراعظم عمران خان کی سہولت کاری جاری رکھے گی اور اس کا ایجنڈا لے کر آگے بڑھے گی تو پھر نیوٹرل ہونے کے دعوے کرنا چھوڑ دے۔ باخبر حکومتی ذرائع نے دعوی ٰکیا ہے کہ سابق صدر آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مسلسل بحث و تمحیص کے بعد اسٹیبلشمنٹ کو واضح پیغام دیا کہ عمران کا فوری الیکشن کا مطالبہ کسی صورت تسلیم نہیں کیا جاسکتا اور الیکشن اگلے برس اگست کے مہینے میں ہوں گے۔ فوجی قیادت کو باور کروایا گیا کہ وہ ایک جماعت اور اس کے لیڈر کا پریشر لیکر 11 جماعتوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش نہ کرے۔حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کا لانگ مارچ اور سپریم کورٹ کی سہولت کاری اسٹیبلشمنٹ کے ایماء پر کی گئی جس کا بنیادی مقصد حکومت پر جلد الیکشن کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔ تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اتحادی جماعتوں کی قیادت نے اسٹیبلشمنٹ کو فوری الیکشن نہ کروانے کے حوالے سے جو موقف دیا تھا وہ اس پر قائم ہے اور الیکشن اگلے برس ہی ہوں گے چاہے عمران خان سے دوچار لانگ مارچ اور بھی کروا لیے جائیں۔

وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ خان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ایک شر پسند اور آئین شکن شخص کے لانگ مارچ کی سہولت کاری کے بعد ساری دنیا پر واضح ہو گیا کہ عمران کے پیچھے کون سے ہاتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے شیطان کی کال پر باہر نہ نکل کر نہ صرف اس کا لانگ مارچ ناکام بنایا بلکہ اسکے درپردہ سازشی عناصر کو بھی رسوا کر دیا جن میں سے کوئی پشاور میں بیٹھا ہے تو کوئی پنڈی میں۔ اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ عمران کے مطالبے پر انتخابات قبل از وقت نہیں کرائیں گےاور اگر فوج اقتدار میں آنا چاہتی ہے تو ہم بلا رکاوٹ حکومت چھوڑنے کو تیار ہیں۔ وائس آف امریکہ کو خصوصی انٹرویو میں خورشیدہ شاہ نے کہا کہ اتحادی جماعتیں شوق سے حکومت میں نہیں آئیں، معیشت کی خطرناک حد تک خراب صورت حال میں اسے سنبھالنا آسان نہیں ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ ریٹائرڈ فوجی افسران کی تنظیم نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے، بصورتِ دیگر ملک میں خون ریزی کا خطرہ ہے؟ خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ اتحادی جماعتوں کا یہ حتمی فیصلہ ہے کہ حکومت اپنی مدت مکمل کرے گی اور قبل از وقت انتخابات کے بارے میں ہمیں اب نہیں سوچنا۔
ان کے بقول، “ہم نے حکومت شوق سے نہیں لی، اس خطرناک وزن کو اٹھایا ہے اور اگر کسی میں اس وزن کو اٹھانے کی اتنی طاقت ہے تو وہ اٹھا لے۔

25 حلقوں میں الیکشن کے اعلان پر عمران دوہری مشکل کا شکار

خیال رہے کہ ماضی میں الیکشن اپنے وقت پر اگست 2023 میں کروانے کا اعلان کرنے والے عمران خان اب اسمبلیاں تحلیل کرکے قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے وہ اسلام آباد کی جانب مارچ کر رہے ہیں۔ تاہم عجیب بات یہ ہے کہ انہوں نے ابھی تک اپنی خیبر پختونخوا کی حکومت ختم نہیں کی اور اپنا لانگ مارچ بھی پشاور سے شروع کیا جس کے کور کمانڈر سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید ہیں۔

وفاقی وزیر خورشید شاہ نے کہا کہ حکومتی جماعتیں چاہتی تھیں کہ انتخابی اصلاحات کے بعد رواں سال اکتوبر یا نومبر میں انتخابات کرائے جائیں لیکن عمران خان کی قبل از وقت انتخابات کی دھمکی کے بعد اس فیصلے کو ترک کردیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما کہتے ہیں کہ عمران کے مطالبے پر ہم انتخابات کی تاریخ دے رہے ہیں کہ آئندہ عام انتخابات اگست 2023 میں ہوں گے۔ انہوں نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان میں استحکام نہیں چاہتے بلکہ ان کی سیاست انتشار پر مبنی ہے۔ خورشید شاہ کے بقول، عمران ایک ماہ سے حکومت کے خلاف جلسے کررہے ہیں لیکن ان عوامی اجتماعات میں وہ اپنی حکومت کا ایک کارنامہ بھی نہیں بتا سکے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ عمران نے فوج کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار کی جو سواری کرنی تھی وہ کر لی لہذا اب وہ پچھلے دروازے سے حکومت میں آنے کی کوششیں ترک کر دیں اور عوام پر بھروسہ کریں۔

عمران خان کی جانب سے فوج کو غیر جانبدار رہنے کے مشورے پر ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے سربراہ کا نیوٹرل کے حوالے سے فلسفہ تھا کہ نیوٹرل جانور ہوتا ہے۔ موجودہ صورتِ حال میں اسٹیبلشمنٹ کا (نیوٹرل) غیر جانبدار ہونا ہی عمران خان کی مخالفت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے عمران کی حکومت کے خلاف کوئی محاذ کھڑا نہیں کیا بلکہ آئینی طریقے سے عدم اعتماد کے ذریعے ان کی حکومت کا خاتمہ کیا ہے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ تحریک انصاف کے اراکین کے استعفے منظور کرنے میں جلدی نہیں ہے کیوں کہ وہ انتقام نہیں استحکام کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے ایوان میں کھڑے ہوکر مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے ان کا استعفیٰ منظور کیا جانا چاہیے کیوں کہ یہ قانونی مجبوری ہے۔البتہ وہ کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے زیادہ تر اراکین مستعفی ہونا نہیں چاہتے۔

Related Articles

Back to top button