عمران کا روس سے سستا پٹرول خریدنے کا دعویٰ جھوٹا نکلا

سابق وزیر اعظم عمران خان کا روس سے پٹرولیم مصنوعات 30 فیصد سستی قیمتوں پر خریدنے کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہوگیا ہے۔ وزارت خارجہ کا کہناہے کہ ماسکو سے رعایتی نرخ کا کوئی خط نہیں ملا تھا۔ ترجمان پٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے رعایتی قیمتوں پر پٹرولیم مصنوعات فراہم کرنے کا کوئی دستاویز ی ثبوت موجود نہیں اور نہ ہی کبھی عمران دور میں روس سے سستا پٹرول خریدا گیا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعظم کے دورہ روس کے موقع پر خام تیل، پٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی ایجنڈے میں شامل نہیں تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ طویل مدتی معاہدوں سے متعلق سابق حکومت نے 30 مارچ کو روس کو خطوط لکھے ، جب کہ اپوزیشن نے 8 مارچ کو تحریک عدم اعتماد جمع کرائی تھی اور 11 اپریل کو حکومت فارغ ہوگئی تھی۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ عالمی پابندیوں کے سبب اگر روس رعایتی قیمتوں پر پٹرول اور گیس فراہم کرنے کی پیش کش بھی کرتا تو پاکستان کیلئے اس کا حصول ممکن نہ تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کے علاوہ عمران خان کی جانب سے روس سے سستی ایل این جی اور خام تیل فراہم کرنے کا دعویٰ بھی غلط ثابت ہوگیا ہے کیوں کہ پٹرولیم ڈویژن کے پاس اسکا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے، جس سے ظاہر ہو کہ روس نے پاکستان کو فیول اور گیس عالمی مارکیٹ کے مقابلے میں 30 فیصد کم قیمت پر فراہم کرنے میں آمادگی دکھائی ہو۔

کراچی حملے میں خاتون کو استعمال کرنے کا اصل مقصد کیا تھا؟

پٹرولیم ڈویژن کے ترجمان اور جوائنٹ سیکرٹری ڈویلپمنٹ سید زکریا علی شاہ نے بتایا ہے کہ ہمارے پاس اس بات کا کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ہے کہ روس نے پی ٹی آئی حکومت کو خام تیل، پٹرولیم مصنوعات یا ایل این جی 30 فیصد کم قیمتوں میں فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہو۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے 24-25 فروری کو روس کا دورہ کیا تھا جس کے ایجنڈے میں پاکستان اسٹریم گیس پائپ لائن منصوبہ بھی شامل تھا۔ 25 فروری 2022 کو عمران خان نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے تین گھنٹے ملاقات کی تھی اور پھر دعوی ٰکیا تھا کہ روس پاکستان کو 30 فیصد کم قیمت پر پٹرولیم مصنوعات فراہم کرے گا۔ تاہم، پٹرولیم ڈویژن کے اعلیٰ حکام کا کہنا تھا کہ دورہ روس کے موقع پر خام تیل، پٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی ایجنڈے میں شامل نہیں تھی۔ وزارت اور تکنیکی سطح پر پاکستان اور روس نے ایل این جی درآمدات پر بات کی تھی البتہ منٹس آف میٹنگز میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ روس نے ایل این جی اور فیول 30 فیصد کی رعایتی قیمتوں پر فراہم کرنے کی پیش کش کی ہو۔

تاہم پٹرولیم ڈویژن کے مطابق روسی حکام کو ایک خط وزیر توانائی حماد اظہر کی جانب سے لکھا گیا تھا جس میں فروری، 2022 میں پاکستانی وفد کے دورہ روس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ پاکستان، روس کے ساتھ خام تیل، پٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی رعایتی قیمتوں پر درآمد کرنے کے لیے طویل مدتی معاہدوں کے لیے آمادہ ہے۔
اپریل 2022 کے پہلے ہفتے تک دو یاد دہانی کے خطوط بھی ارسال کیے گئے، جن کے جواب میں وزارت خارجہ امور نے کہا کہ اسے روس کی جانب سے مذاکرات اور پٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی 30 فیصد کی رعایتی قیمتوں پر فراہم کرنے سے متعلق کوئی اطلاع نہیں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق وزیراعظم نے روس سے واپس آنے کے بعد اپنے اعلامیے میں بھی اس بات کا ذکر نہیں کیا تھا کہ ماسکو نے پاکستان کو خام تیل، پٹرولیم مصنوعات اور ایل این جی 30 فیصد سستی فراہم کرنے کی کوئی پیش کش کی تھی۔ وزیر توانائی نے اس بارے روسی حکام کوخطوط لکھنے میں ایک ماہ سے زائد کا وقت لیا۔ جب کہ اپوزیشن نے 8 مارچ، 2022 کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں تب کے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی تھی۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ روس کے ساتھ 30 فیصد سستی پٹرولیم مصنوعات یا ایل این جی خریداری پر کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا۔

Related Articles

Back to top button