فواد چوہدری 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

اسلام آباد کی عدالت نے تحریک انصاف کے مرکزی رہنما فواد چوہدری کا 2 روزہجسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نوید خان کی عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے پولیس کی جانب سے فواد چوہدری کا 8 روزہ ریمانڈ دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے 2 روزہ ریمانڈر منظور کر لیا۔

ڈیوٹی مجسٹریٹ نے 2 صفحات پر مشتمل فیصلہ سناتے ہوئے فواد چوہدری کو 27 جنوری کو پیش کرنے کا حکم دیا، ہے، جس کے بعد فواد چوہدری کو  تھانہ سی ٹی ڈی منتقل کر دیا گیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کے جسمانی ریمانڈ کے معاملے کی سماعت کا آغاز ہوا تو تحریک انصاف کے کارکنان کے رش اور کمرہ عدالت چھوٹا ہونے کے باعث کمرہ عدالت تبدیل کیا گیا۔ فواد چوہدری کے وکلا فیصل چوہدری، علی بخاری اور قیصر امام کے ساتھ ساتھ مصطفیٰ نواز کھوکھر اور عامر محمود کیانی بھی عدالت میں موجود تھے،کمرہ عدالت میں رش کو دیکھتے ہوئے ڈیوٹی میجسٹریٹ نوید خان نے کہا کہ بتائیں جگہ کہاں ہے کہ فواد چوہدری کو کمرہ عدالت میں لایا جاسکے؟۔

فیصل چوہدری نے کہا کہ فواد چودھری کدھرہیں؟ گاڑی کدھر ہے؟ ہم انہیں لے آتےہیں؟ اس پر جج نے ریمارکس دیے کہ کمرہ عدالت میں جگہ بنے گی تو ہی فواد چوہدری کو لائیں گے،ڈیوٹی مجسٹریٹ کے بار بار ریمارکس کے باوجود کمرہ عدالت کھچا کھچ بھرا ہونے کے سبب ڈیوٹی مجسٹریٹ اٹھ کر کمرہ عدالت سے چلے گئے۔

بعدازاں فواد چوہدری کو کمرہ عدالت میں پہنچا دیا گیا اور پولیس نے فواد چوہدری کو ڈیوٹی جج نوید خان کے روبرو پیش کردیا۔فواد چوہدری نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ پورے اسلام آباد کی پولیس کو یہاں لگایا ہوا ہے، عدالت کے باہر تقریباً 1500 پولیس والے موجود ہیں، مجھے ہتھکڑیاں لگائی گئی ہیں حالانکہ میں سپریم کورٹ کا وکیل ہوں۔

اس موقع پر پی ٹی آئی وکلا نے فواد چوہدری کی ہتھکڑی کھولنے کی استدعا کردی جبکہ تفتیشی افسر کی جانب سے 8 دن کے ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن نے مقدمے کا متن پڑھتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی حالت اس وقت منشی کی ہے۔پی ٹی آئی رہنما نے لقمہ دیا کہ تو الیکشن کمیشن کی حالت منشی کی بنی ہوئی ہے جس پر ڈیوٹی جج نے فواد چوہدری کو بیچ میں ٹوکنے سے منع کردیا۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن پاکستان ایک آئینی ادارہ ہے، یہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت رجیم چینج کا بیانیہ بنایا گیا، فواد چوہدری نے دھمکی آمیز اور اکسانے والے بیان سے الیکشن کمیشن کی ساکھ کو نقصان پہنچایا، یہ تقریر ایک گروپ کو دوسرے گروپ کیخلاف اکسانے کے لیے کی گئی، الیکشن کمیشن کو متعدد خطوط موصول ہوئے جس میں الیکشن کمیشن کو دھمکایا گیا ہے، آج پہلا ریمانڈ لیا جا رہا ہے، تفتیش ابھی شروع تک نہیں ہوئی، فواد چودھری کی تقریر کرنے کا مقصد سب کو اکسانا تھا۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ فواد چودھری نے کہاکہ الیکشن کمیشن کے گھروں تک پہنچیں گے، اس کا مقصد الیکشن کمیشن کے خلاف نفرت کو فروغ دینا تھا، وہ اس تقریر پر اب بھی کھڑے ہیں اور ان کی طرف سے اس کی تردید نہیں کی گئی، میں الزامات پڑھ رہا تھا تو فواد چوہدری انشاللہ، ماشااللہ کہہ رہے تھے، وکیل کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے کہا گیا کہ فواد چوہدری کے خلاف کافی الیکٹرانک مواد موجود ہے، انہوں نے جو تقریر میں کہا وہ مانا بھی ہے۔

دوران سماعت فواد چوہدری نے ایف آئی آر خارج کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایف آئی آر قانون کے مطابق ہی نہیں ہے، انہوں نے تنقید کرنے پر مجھ پر غداری کا الزام لگا دیا ہے، اس طرح تو جمہوریت اور آزادی اظہار رائے ختم ہو جائے گی، میں جو بات کرتا ہوں پارٹی کی طرف سے کرتا ہوں، میں پارٹی کا ترجمان ہوں۔

انہوں نے کہا کہ بغاوت کی دفعہ بھی مقدمے میں شامل کردی گئی ہے، مجھے بھگت سنگھ اور نیلسن منڈیلا کی صفت میں شامل کر دیا گیا ہے، آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے خلاف بھی ایسی ہی باتیں ہوتی تھیں، میرے خلاف تو مقدمہ بنتا ہی نہیں ہے، ایسے تو جمہوریت ختم ہو جائے گی، کوئی تنقید نہیں کر پائے گا، میں تحریک انصاف کا ترجمان ہوں، جو میں بات کروں وہ میری پارٹی کی پالیسی ہوتی ہے، ضروری نہیں کہ جو میں بات کروں وہ میرا ذاتی خیال ہو۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ الیکشن کمیشن نہ ملک کی اسٹیٹ ہے نہ حکومت، اگر الیکشن کمیشن پر تنقید نہیں کرسکتےتو مطلب کسی پر تنقید نہیں کرسکتے، مدعی وکیل کا مطلب ہے کہ تنقید کرنا بغاوت ہے، میں تقریر کر ہی نہیں رہا تھا بلکہ میں میڈیا ٹاک کر رہا تھا، میری باتیں غلط کوٹ کی گئی ہیں، میں نے کہا تھا کہ نفرتیں نہ پھیلائیں ورنہ لوگ ذاتی لیول پر آجائیں، مجھے لاہور پولیس نے گرفتار کیا اور میرا موبائل قبضے میں لیا، لاہور پولیس نے مجھے اسلام آباد پولیس کے حوالے کیا، میں سینئر وکیل ہوں، پارلیمنٹیرین ہوں، تحریک انصاف کا ترجمان ہوں، میں دہشت گرد نہیں کہ مجھے سی ٹی ڈی میں رکھا گیا، تفتیشی افسر نے مجھ سے کوئی تفتیش نہیں کی۔

فواد چودھری نے کیس سے ڈسچارج کرنے کی عدالت سے استدعا کرتے ہوئے مزید کہا کہ میری گرفتاری غیرقانونی ہے، افسوس ہے کہ ملکی سیاست میں اپنے مخالفین پر کیس بنائے جارہے، ہم سیاست میں کبھی اوپر تو کبھی نیچے ہوتے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ تفتیشی افسر نے کیا برآمد کرناہے؟ جسمانی ریمانڈ مخصوص تفتیش کے لیے لیا جاتا ہے،واد چوہدری کے دوسرے وکیل علی بخاری نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے بعد آپ انصاف کرنے والے ہیں، میں نے اپنی زندگی میں اتنے قابل انسان کو ہتھکڑی میں نہیں دیکھا، فواد چوہدری کو لاہور سے گرفتار کرنے کا تسلیم کیا گیا، اگر مدعی مقدمہ کی بات مان لی جائے تو مقدمہ تو لاہور میں ہونا چاہیے تھا، قانون کے مطابق مقدمہ وہاں ہوتا ہے جہاں جرم کیا جاتا ہے، ایسا نہیں کہ قتل لاہور میں تو مقدمہ کراچی میں کیا جا رہا ہو۔

انہوں نے سوال کیا کہ پولیس نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں کیا تفتیش کی ہے؟ دہشت گردی کا کیس ہے نہیں، پراسیکیوشن نے آخر کرنا کیا ہے، عدالت ضرور دیکھے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں تفتیش ہوئی کیا ہے،وکیل علی بخاری نے پراسیکیوشن کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی مخالفت کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا اسلام آباد پولیس نے اسلام آباد انتظامیہ سے اجازت لی؟ بس بندہ اٹھا کر لے ائے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ تفتیشی افسر نے کہا کہ مجھے گھر سے گرفتار کیا، تفتیشی افسر سے میرے گھر کے گیٹ کا رنگ پوچھ لیں۔اس موقع پر پراسیکیوشن نے استدعا کی کہ فواد چوہدری کے موبائل اور لیپ ٹاپ سمیت دیگر ڈیوائسز برآمد کرنی ہیں، فواد چوہدری کا فوٹو گرامیڑک ٹیسٹ اور وائس میچ کروانا ہے، فواد چوہدری کا ایک گھر لاہور اور دوسرا اسلام آباد میں ہے۔

فواد چوہدری کے تیسرے وکیل قیصر امام نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ میں حیران ہوں کہ الیکشن کمیشن کے کسی رکن نے خوف محسوس کرنے کا بیان دیا ہو، معلوم نہیں کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کیسے الیکشن کمیشن کے ملازمین کا دماغ پڑھ لیا، عدالت نے دیکھنا ہے کہ کون سی دفعات مقدمہ میں لگتی ہیں اور کون سی نہیں، اندراجِ مقدمہ کے حوالے سے سب سے پہلا اعتراض اٹھاتا ہوں، کیا کسی کے کہنے پر مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے؟،فواد چوہدری نے جو بیان دیا وہ تھانہ کوہسار کی حدود میں تھا ہی نہیں، جہاں پر بیان دیا گیا صرف وہی متعلقہ تھانے کا دائرہ اختیار ہے، فواد چوہدھری نے اسلام آباد میں بیان نہیں دیا، ان کے خلاف مقدمےمیں 4 دفعات لگائی گئی ہیں۔

اس موقع پر فواد چوہدری کے وکیل نے جاوید لطیف کے خلاف مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جاوید لطیف کے خلاف پشاور لاہور مقدمات پر ہائی کورٹ نے ایک رائے دی ہے، جاوید لطیف کے کیسز میں بالکل اسی کیس کی طرح کی صورت حال تھی، عدالت نے ابزرو کیا تھا کہ ایک بندہ اسلام آباد بیٹھ کر کوئی تقریر کرتا ہے تو اس کے خلاف کسی اور شہر میں مقدمہ کیسے درج ہوسکتا ہے۔

وکیل قیصر امام نے کہا کہ کیا فواد چوہدری نے نسل زبان یا مذہب کی بنیاد پر نفرت پھیلائی؟ نہیں!، ہم تمام ریاست میں حقدارہیں، کوئی ایک فرد ریاست کےاداروں پرحق نہیں جما سکتا، پراسیکیوشن کے پاس فواد چوہدری کے خلاف بنائے گئے مقدمے کا کیا ثبوت ہے؟، فواد چودھری ایمانداری سےسمجھتے ہیں کہ چند چیزیں درست نہیں، سیکریٹری الیکشن کمیشن اکیلے الیکشن کمیشن کی نمائندگی نہیں کرسکتے، فواد چوہدری نے سیکریٹری الیکشن کمیشن کو دھمکی نہیں دی، کسی کے گھر کا پتہ دے کر دھمکی نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ 500 میل دور بیٹھ کر لوگ ہراساں ہونا شروع ہو جائیں تو کیا کیا جائے، تفتیشی عمل میں خلل بالکل پیدا نہیں کرنا چاہتے، فواد چوہدری اپنے بیان سے منحرف تو نہیں ہورہے، جب وہ اپنا بیان مان رہے تو کیوں وائس میچ ٹیسٹ کروانا ہے؟،پراسیکیوٹر نے کہا کہ وائس میچ اور فوٹوگرامیٹک ٹیسٹ تفتیش میں ضروری ہے، فواد چوہدری کا موبائل تحویل میں لینا بھی ضروری ہے۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ عدالت کو تھکا کر فیصلہ لینے کی کوشش کی جارہی ہے، کوئی شک نہیں کہ فواد چوہدری نے کن لوگوں کے حوالے سے بات کی، انہوں نے الیکشن کمیشن کے سیکریٹری اور ورکرز کے حوالے سے بات کی، فواد چودھری کا کیس عام نہیں، ان کا کیس نفرت پھیلانے کا ہے، فواد چوہدری کے ساتھ دیگر افراد بھی ملوث ہیں،اس پر فواد چوہدری نے کہا کہ اگر دیگر لوگ بھی ملوث ہیں تو ان پر بھی پرچہ کریں نا۔

قبل ازیںلاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کی بازیابی کیلئے دائر درخواست خارج کر دی۔

فواد چوہدری کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ  نے کی۔

جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ یہ کیس تو عدالت میں چیلنج نہیں، ہم سات آٹھ بجے تک تو بیٹھ سکتے ہیں لیکن لائن کراس نہیں کر سکتے، اب یہ حراست تو غیر قانونی نہیں۔

فواد چوہدری کے وکیل نے کہا کہ مبینہ وقوعہ تو اسلام آباد میں نہیں ہوا جس پر جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ پہلے یہ درخواست قابل سماعت تھی لیکن اب قابل سماعت نہیں۔

جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ فواد چوہدری کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ اس عدالت کیا چاہتے ہیں؟ آپ کی استدعا کیا ہے؟ اس پر فواد چوہدری کے وکیل نے کہا کہ ہم  چاہتے ہیں فواد چوہدری کی گرفتاری غیر قانونی قرار دی جائے۔

اس پر عدالت نے پوچھا کہ فواد چوہدری کی گرفتاری میں غیر قانونی کیا ہے؟ انہیں گرفتار کیا گیا اور ریمانڈ کیلئے لاہور کی متعلقہ عدالت میں پیش کیا گیا، اگر آپ مقدمے کا اخراج چاہتے ہیں تو اسلام آباد ہائیکورٹ اب درست فورم ہے۔

دریں اثنادوران سماعت جسٹس طارق سلیم شیخ نے استفسار کیا کہ کدھر ہیں فواد چوہدری؟ جس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ سب سے بات کی ہے لیکن وہ پنجاب پولیس کے پاس نہیں ہے۔

جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ آئی جی پنجاب کو بلائیں، جس پر سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ آئی جی پنجاب ابھی یہاں نہیں ہیں،عدالت نے آئی جی پنجاب اور آئی جی اسلام آباد کو 6 بجے طلب کرتے ہوئے سرکاری وکیل سے کہا پہلے فواد چوہدری کو پیش کریں تب آپ کو سنوں گا۔

یاد رہے لاہور ہائیکورٹ نے فواد چوہدری کو عدالت میں ڈیڑھ بجے پیش کرنے کا حکم دیا تھا تاہم اسلام آباد پولیس فواد چوہدری کو طبی معائنے کے بعد اسپتال سے لیکر وفاقی دارالحکومت کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔

قبل ازیں لاہور کی کینٹ کچہری نے آئینی اداروں کے خلاف شرانگیزی پھیلانے کے الزام میں گرفتار سابق وزیراطلاعات اور رہنما پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) فواد چوہدری کا راہداری ریمانڈ منظور کرتے ہوئے آج ہی اسلام آباد کی متعقلہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

فواد چوہدری کو لاہور سے گرفتار کیے جانے کے کئی گھنٹوں بعد راہداری ریمانڈ کے لیے کینٹ کچہری میں پیش کیا گیا تھا، ان کے خلاف الیکشن کمیشن کے اراکین کو دھمکی دینے پر اسلام آباد کے کوہسار تھانے میں عہدیدار الیکشن کمیشن کی جانب سے ایف آئی آر درج کروائی گئی تھی۔

فواد چوہدری کو محکمہ انسداد دہشتگردی اور پولیس کے اہلکار لاہور کی کینٹ کچہری میں لائے جہاں انہیں اسلام آباد منتقل کرنے کے لیے راہداری ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔ فواد چوہدری کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیے جانے پر پی ٹی آئی کے حامی وکلا نے اُن پر گلاب کی پتیاں نچھاور کیں۔

اس موقع پر فواد چوہدری نے کہا کہ اتنی پولیس لگا دی ہے کہ شاید جیمز بونڈ کو پیش کرنا ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے دہشتگرد کی کیٹگری میں رکھا گیا۔ راہداری ریمانڈ کی درخواست پر سماعت کا آغاز ہوا تو سابق قزیراطلاعات نے فاضل جج سے ایف آئی آر کی کاپی فراہم کرنے کی استدعا کی، عدالتی حکم پر پی ٹی آئی رہنما کو مقدمے کی کاپی دے دی گئی۔

دوران سماعت تفتیشی افسر عدالت کے روبرو پیش ہوئے، اس دوران پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر بھی کمرہ عدالت میں پہنچ گئے، فواد چوہدری نے عدالت میں بیان دیا کہ جو مقدمہ مجھ پر درج ہوا ہے اس پر فخر ہے، نیلسن منڈیلا پر بھی یہی مقدمہ تھا، انہوں نے کہا کہ کہا جا رہا ہے میں نے بغاوت کی، میں نے الیکشن کمیشن سے متعلق جو بات کی سارا پاکستان وہی بات کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں سابق وفاقی وزیر اور سپریم کورٹ کا وکیل ہوں، مجھے عزت احترام کے ساتھ ٹریٹ کیا جائے، جس طرح گرفتار کیا گیا وہ مناسب نہیں تھا، مجھے یہ فون کرتے میں خود ہی آ جاتا، دوران سماعت عدالت نے فواد چوہدری کے میڈیکل کرانے کی ہدایت کر دی۔

دریں اثنا تحریک انصاف کے وکلا نے فواد چوہدری کی ہتھکڑیاں کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری کی حبس بے جا کی درخواست ہائی کورٹ میں زیرالتوا ہے، جب تک ہائیکورٹ کا فیصلہ نہی آجاتا یہ عدالت راہداری ریمانڈ کی درخواست پر سماعت نہ کرے۔

سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کی گئی جس کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ نے فواد چوہدری کا سروسز ہسپتال سے میڈیکل کرانے کا حکم دے دیا، عدالت کی جانب سے حکم دیا گیا کہ میڈیکل کے بعد فواد چوہدری کو آج ہی اسلام آباد کی متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے، جوڈیشل مجسٹریٹ کی جانب سے پولیس کی راہداری ریمانڈ کی درخواست نمٹائے جانے کے بعد پولیس حکام فواد چوہدری کو لے کر عدالت سے روانہ ہو گئے۔

دوسری جانب فواد چوہدری کی گرفتاری کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں احمد پنسوتا ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ فواد چوہدری کی گرفتاری غیر قانونی ہے، ان کو ایف آئی آر تک نہیں دکھائی گئی، درخواست گزار کا کہنا ہے کہ پولیس نے گرفتاری کی وجوہات نہیں بتائیں، فواد چوہدری سپریم کورٹ کے وکیل اور سابق وفاقی وزیر ہیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ فواد چوہدری کی گرفتاری کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا جائے، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے مذکورہ درخواست سماعت کے لیے جسٹس طارق سلیم شیخ کو بھجوادی جو اب سے کچھ دیر بعد کیس کی سماعت کریں گے۔

قبل ازیں پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کی جانی والی ٹوئٹ میں کہا گیا تھا کہ ’فواد چوہدری کو درجنوں پولیس، محکمہ انسداد دہشتگردی اور نامعلوم گاڑیوں کے حصار میں کینٹ کچہری کی طرف روانہ کر دیا گیا ہے، اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ فواد چوہدری نے آئینی اداروں کے خلاف شرانگیزی پیدا کرنے اور لوگوں کے جذبات مشتعل کرنے کی کوشش کی ہے، مقدمے پر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔

ٹوئٹر پر جاری بیان میں اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان کی درخواست پر تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا ہے، فواد چوہدری نے چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کو ان کے فرائض منصبی سے روکنے کے لیے ڈرایا دھمکایا۔

واضح رہے کہ گزشتہ شب چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے مبینہ حکومتی منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے پی ٹی آئی کارکنان عمران خان کی زمان پارک رہائش گاہ کے باہر جمع ہوئے تھے جس کے چند گھنٹوں بعد پی ٹی آئی کی جانب سے فواد چوہدری کی گرفتاری کا دعویٰ سامنے آیا تھا۔پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کی جانے والی ٹوئٹ میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ فواد چوہدری کو پولیس نے ان کے گھر سے گرفتار کرلیا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ امپورٹڈ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے، پی ٹی آئی رہنما نے اپنی ایک اور ٹوئٹ میں 2 ویڈیوز بھی شیئر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس کی یہ گاڑیاں فواد چوہدری کو گرفتار کرکے لے جارہی ہیں، بعدازاں پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی فواد چوہدری کی گرفتاری کے دعوے کی توثیق کی گئی، پی ٹی آئی کی جانب سے کہا گیا کہ فواد چوہدری کو گھر کے باہر سے نامعلوم افراد نے گرفتار کر لیا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کے خلاف سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کی شکایت پر اسلام آباد کے کوہسار تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

ایف آئی آر میں فواد چوہدری کے ٹی وی انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ’انہوں نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کی حیثیت ایک منشی کی ہو گئی ہے، نگران حکومت میں جو لوگ شامل کیے جا رہے ہیں، سزا ہونے تک ان کا پیچھا کریں گے اور حکومت میں شامل لوگوں کو گھر تک چھوڑ کر آئیں گے، ایف آئی آر کی دستیاب کاپی کے مطابق ’فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن کے ارکان اور ان کے خاندان والوں کو بھی ڈرایا دھمکایا گیا۔

فواد چوہدری کے خلاف مذکورہ ایف آئی آر پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 153-اے (گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا)، 506 (مجرمانہ دھمکیاں)، 505 (عوامی فساد کو ہوا دینے والا بیان) اور 124-اے (بغاوت) کے تحت درج کی گئی ہے۔ فواد چوہدری کے چھوٹے بھائی فیصل حسین نے بھی اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ ان کے بڑے بھائی کو کچھ دیر قبل بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑیوں میں نامعلوم افراد نے غیر قانونی طریقہ سے لاہور میں واقع گھر سے اٹھالیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’اغوا کنندگان نے وارنٹ دکھائے ہیں، نہ اپنی شناخت ظاہر کی، فیصل چوہدری نے ڈان سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فواد چوہدری کو آج صبح ساڑھے 5 بجے گھر کے باہر سے اٹھایا گیا، 4 بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں میں فواد چوہدری کو لے جایا گیا ہے،  فواد چوہدری کی لوکیشن کیا ہے ہمیں نہیں بتایا جا رہا، فواد چوہدری پر کون سے ایف آئی آر ہے ہمین معلومات نہیں دی جا رہیں۔

انہوں نے عدالتی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری کی گرفتاری غیر قانونی ہے، عدالتی جنگ لڑیں گے۔ فواد چوہدری کی اہلیہ حبہ فواد نے نجی ٹی وی چینل ’ہم نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ گرفتاری نہیں اغوا ہے، ہمیں کوئی ایف آئی آر نہیں دکھائی گئی، 8 سے 10 پولیس والے گیٹ کھول کر ہمارے گھر کے اندر گھس آئے اور فواد چوہدری کو پکڑ کر لے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ فواد چوہدری کو اس وقت کہاں لے جایا گیا ہے، کم از کم ہمیں بتایا جائے کہ انہیں کس قانون کے تحت اٹھایا گیا ہے، ہم سے کسی نے رابطہ نہیں کیا، بس انہیں 4 ڈالوں میں بٹھایا اور ان کا فون قبضے میں لے کر وہ لوگ چلے گئے۔ ہم نے آئی جی پنجاب سے بھی رابطہ کیا وہاں سے بھی کوئی جواب نہیں آیا، متعلقہ تھانوں سے بھی رجوع کیا لیکن کسی کو معلوم ہی نہیں ہے کہ ان کو کہاں لے کر گئے ہیں۔

فواد چوہدری کی اہلیہ نے مزید کہا کہ یہ سراسر اغوا ہے کہ آپ اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں، لوگ آکر آپ کو اٹھا کر لے جاتے ہیں، یہ کس طرح کا ملک اور کس طرح کا قانون ہے، اگر ٹارچر کیا گیا تو ہم اس کی سخت مذمت کریں گے، فواد چوہدری کوئی ایسی شخصیت نہیں ہیں جن کو آپ اٹھا کر غائب کردیں اور ہمیں کچھ نہ بتائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس، وزیراعظم اور تمام عہدیداران سے میری اپیل ہے کہ ہمیں بتایا جائے کہ فواد چوہدری کو کیوں اٹھایا گیا، انہیں کہاں لے جایا گیا ہے، ورنہ پھر ہماری ایف آئی آر درج کرلیں کہ انہیں اغوا کیا گیا ہے۔سابق وزیر خارجہ اور رہنما پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی نے فواد چوہدری کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’فواد چوہدری کی علی الصبح بغیر وارنٹ گرفتاری اس ملک کی جمہوریت اور قانون کی بالادستی پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔

انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں مزید کہا کہا ’خدارا پاکستان کے ساتھ کھلواڑ بند کیا جائے ورنہ حالات کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے، پی ٹی آئی رہنما حماد اظہار نے لاہور میں عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری کو بغیر نمبر پلیٹ ڈالے میں اغوا کیا گیا، یہ بزدلی ہے، فواد کو ایسے حراست میں لیا گیا جیسے دہشتگرد پکڑے جاتے ہیں۔

حماد اظہر نے کہا کہ گزارش ہے بتائیں فواد چوہدری کو کہاں رکھا گیا ہے، متنازع نگران وزیراعلیٰ کو کیا اس مقصد کے لیے لگایا گیا تھا، بتائیں کہ کیا مارشل لا لگ چکا اور اس کا اعلان باقی ہے، حماد اظہر کاکہنا تھا کہ اعظم سواتی کو اٹھایا تھا، کیا اسکی آواز دبالی گئی؟، اس ظلم اور بربریت کو ختم کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر خیمے نصب کر دیے گئے ہیں، فواد چوہدری کی فوری رہائی نہ ہونے کی صورت میں ہر چوک تحریر چوک بنانے کی وارننگ بھی ہے۔ پی ٹی آئی رہنما علی زیدی نے بھی پارٹی کے سینیئر رہنما کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس ملک کو انتشار کی طرف دھکیلنے پر تلی ہوئی ہے، پاکستان ان قانون شکن قانون سازوں اور قانون نافذ کرنے والے کرپٹ افسران کے ہاتھوں لاقانونیت کا شکار ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ شب پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے عمران خان کی گرفتاری کے خدشہ کا اظہار کیا گیا تھا، ٹوئٹ میں کہا گیا تھا کہ ’اطلاعات ہیں کہ کٹھ پتلی حکومت آج رات چئیرمین عمران خان کو گرفتار کرنے کی کوشش کرے گی، ٹوئٹ میں مزید بتایا گیا تھا کہ ’تحریک انصاف کے کارکنان اپنے لیڈر کی حفاظت کے لیے زمان پارک پہنچ رہے ہیں۔

قبل ازیں گزشتہ شب لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا تھا کہ موجودہ حکومت میں الیکشن کمیشن کی حیثیت صرف ایک منشی جیسی ہوگئی ہے، الیکشن کمیشن کو فون کیا جاتا ہے اور الیکشن کمشنر کلرک کی طرح اسی وقت سائن کرکے بھیج دیتا ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کو ہدایت دی گئی کہ محسن نقوی نگران وزیراعلیٰ ہوگا اور وہ محسن نقوی کے نام پر دستخط کر دیتے ہیں، اگر آپ اتنے کمزور ہیں تو گھر جا کر بیٹھیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ آج ہم نے الیکشن کمیشن میں درخواست دی ہے کہ جو لوگ 25 مئی کے واقعات میں ملوث تھے، ان کو پنجاب میں تعینات نہیں کیا جائے، اس کے باوجود وہ یہاں تعینات رہے یا تعینات کیے گئے تو پھر ہم الیکشن کمیشن اور ان کے اراکین، ان کے خاندانوں اور ان لوگوں کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر ہمارے ساتھ زیادتیوں کا سلسلہ ہوا تو آپ کو واپس سامنا کرنا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو راتوں رات مائنس عمران خان کا خیال آجاتا ہے، سارے لوگ یہاں کھڑے ہیں، جس جس نے جیلوں میں ڈالنا ہے ڈال دے، بعد میں ہم بھی دیکھ لیں گے۔فواد چوہدری کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے لاہور میں عمران خان کی رہائش گاہ زمان پارک کی ویڈیو بھی شیئر کی گئی تھی جہاں پی ٹی آئی چیئرمین کی گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر پارٹی کارکنان کی بڑی تعداد جمع ہوگئی تھی۔

Related Articles

Back to top button