کیا پنجاب میں حکومت کے بغیر وفاقی حکومت چل پائے گی؟

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کی جانب سے حمزہ شہباز کو ہٹا کر پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنائے جانے کے بعد اب یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ پنجاب میں اپنی جماعت کی حکومت کے بغیر وفاقی حکومت کتنا عرصہ چل پائے گی؟ سپریم کورٹ کے متنازعہ فیصلے کے بعد اب صورتحال کچھ اس طرح ہے کہ پنجاب کی وزرات اعلیٰ مسلم لیگ ن کے ہاتھ سے نکل کر اپوزیشن تحریک انصاف کی جھولی میں جا گری ہے، تاہم مسلم لیگ ن کی قیادت میں اتحادی جماعتیں وفاق میں بدستور برسرِ اقتدار ہیں اور جنہوں نے ہر صورت اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ ایسے میں دیکھنا یہ ہو گا کہ وفاقی حکومت کس طرح پنجاب کے بغیر وفاق کے امور چلا پائے گی؟

اس سے پہلے ضیاء الحق کی موت کے بعد 1988 کے عام انتخابات کے نتیجے میں بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہوئی تھی۔ تب وفاق میں تو پیپلزپارٹی کی حکومت بن گئی مگر پنجاب میں اسلامی جمہوری اتحاد نے حکومت سازی کی اور نوازشریف پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ بن گئے۔

وفاق اور پنجاب میں الگ الگ جماعتوں کے برسراقتدار آنے کے بعد سیاسی کشمکش کی ابتدا ہوئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وفاقی حکومت اپنی مُدت پوری نہ کر سکی اور صدر غلام اسحاق خان نے صدارتی اختیارات کے تحت بے نظیر بھٹو کی حکومت توڑ دی۔ معروف لکھاری طاہر کامران اپنی کتاب ’پاکستان میں جمہوریت اور گورننس‘ میں لکھتے ہیں کہ ’1988 میں پنجاب میں طاقت حاصل کرنے کے بعد نواز شریف کا رویہ اور حکمتِ عملی معاندانہ رہی۔ دوسری جانب بے نظیر بھٹو نے بھی، بے اعتباری سے بھری صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے کچھ خاص نہ کیا۔ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ صوبائی خود مختاری حاصل کرنے میں خاصے بے باک تھے، جُوں جُوں مرکز اور پنجاب میں جھگڑا بڑھتا چلا گیا توں توں بے نظیر بھٹو کی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ ہم آہنگی حاصل کرنے میں ناکام ہوتی چلی گئی۔ اس تمام تر سیاسی کشمکش کا نتیجہ سیاسی عدم استحکام کی صورت میں سامنے آتا چلا گیا۔ پھر وہ دن بھی آگیا جب صدر اسحاق نے نواز شریف اور فوجی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مل کر بے نظیر حکومت کا خاتمہ کر دیا۔

عمران کو گرفتار نہ کرنے ، احتجاج کیلئے جگہ دینے کا حکم

1990 کے انتخابات کے بعد نواز شریف وزیرِ اعظم بن تو گئے، مگر صدر غلام اسحاق خان کے ساتھ اُن کے تعلقات کشیدہ رہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ صدر نے نوازشریف کی حکومت کو بھی فوج کے ایما پر اپنے اسمبلی توڑنے کے صدارتی اختیارات کے تحت چلتا کیا اور انتخابات کا اعلان کر دیا۔ نواز شریف نے فوری عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جس نے اُن کی حکومت کو بحال تو کر دیا مگر اس دوران پنجاب میں سیاسی بحران شدت اختیار کر چکا تھا۔ نواز مخالف وزیر اعلیٰ منظور وٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہوئی تو پیپلز پارٹی کے گورنر پنجاب چوہدری الطاف نے اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ کر لیا، تب منظور وٹو پیپلزپارٹی کے اتحادی تھے۔ دوسری جانب نواز شریف نے پنجاب حکومت کا انتظام و انصرام وفاق کے سپرد کرنے کی قرارداد قومی اسمبلی سے منظور کروا لی اور اس پر صدر کی توثیق کی ضرورت بھی محسوس نہ کی گئی۔ انہوں نے بطور وزیر اعظم صوبے کے انتظامی اُمور کے لیے نمائندے بھی نامزد کر دیے اور یہ ہدایت بھی کر دی کہ اگر گورنر اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب کو کام سے روکنا مقصود ہو تو روک دیا جائے۔لیکن ان تمام اقدامات کے باوجود پنجاب میں نواز شریف کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور ایسی صورتحال پیدا ہوئی کہ وزیر اعظم کا اختیار محض اسلام آباد تک محدود ہو کر رہ گیا۔ یوں بالآخر آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ نے وزیراعظم اور صدر دونوں کو استعفے دینے پر آمادہ کیا اور یوں حکومت ختم ہو گئی۔

2008 کے عام انتخابات کے نتیجے میں ایک مرتبہ پھر ایسی صورتحال نے جنم لیا مگر نتائج کچھ مختلف رہے۔ 2008 میں جب پیپلزپارٹی نے وفاق میں حکومت سنبھالی تو پنجاب میں مسلم لیگ ن نے اقتدار سنبھالا اور شہباز شریف وزیرِ اعلیٰ بن گئے۔ 2008 سے 2013 تک وفاق اور پنجاب کے مابین سیاسی کشمکش رُونما نہ ہوئی، جس کی بنیادی وجہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے مابین چارٹر آف ڈیمو کریسی کی بدولت سیاسی مفاہمت قرار دی جا سکتی ہے۔

میثاق جمہوریت سے پہلے وفاق یہ برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ پنجاب میں حکومت کسی اور سیاسی جماعت کی ہو۔ چارٹر آف ڈیموکریسی کی روشنی میں اکثریتی پارٹی کو حکومت بنانے کا اخلاقی جواز دیا گیا۔ 2013 کے عام انتخابات میں خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف بڑی پارٹی ضرور تھی لیکن اکثریتی پارٹی نہ تھی، یہی وجہ تھی کہ مولانا فضل الرحمن نواز شریف پر زور دیتے رہے کہ حکومت ہمیں بنانی چاہیے، مگر نواز شریف نے چارٹر آف ڈیموکریسی کے مطابق عمران خان کو حکومت بنانے دی۔

اب جب عدالتی مداخلت کے بعد حمزہ شہباز کی جگہ پرویز الٰہی وزیرِ اعلیٰ بن گئے ہیں، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وفاق اور پنجاب کے مابین سیاسی انتشار جنم لے سکتا ہے؟ یا دونوں طرف سے مفاہمت کا راستہ اپنایا جائے گا؟ نیز پنجاب کی حکومت ملنے کے بعد عمران خان وفاق پر فوری انتخابات کا دباؤ مزید بڑھانے کے لیے پنجاب حکومت کا سہارا لیں گے؟اس سوال کے جواب میں سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پنجاب میں حکومت کسی کی بھی ہو، عمران کے لیے وفاقی حکومت اہمیت رکھتی ہے اور وہ پنجاب حکومت کی مدد سے وفاقی حکومت گرا کر اسلام آباد پر قبضہ کی کوشش کریں گے۔ یاد رہے کہ اس وقت پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں عمران خان کی حکومتیں ہیں۔ دوسری جانب وزیرِ اعظم شہباز شریف کی حکومت اب صرف اسلام آباد کے 40 کلومیٹر رقبے پر محدود ہوگئی ہے اور عمران خان زیادہ مضبوط پوزیشن میں آ جانے کے بعد وفاق کو مجبور کریں گے کہ جلد از جلد الیکشن کروائے جائیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ویسے بھی پنجاب کی 20 نشستوں پر ہونے والے ضمنی الیکشن میں کامیابی کے بعد ن لیگ کی پنجاب میں بالادستی کو نقصان پہنچا ہے۔ اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ پنجاب میں حکومت ملنے کے بعد عمران خان نے جو بیک ڈور چینلز فوجی اسٹیبلشمنٹ سے بند کر دیے تھے، وہ بھی دوبارہ کُھل جائیں گے۔ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ فوج کا فیض حمید دھڑا پہلے ہی عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہے اور اب وہ مزید مضبوط ہو جائے گا۔

ایسے میں سوال یہ ہے کہ اگر وفاق اور پنجاب کے مابین سیاسی تصادم کی صورتحال بنتی ہے تو اس کے کیا نتائج ہوں گے؟ سینئر صحافی اور تجزیہ کار نذیر لغاری کہتے ہیں کہ اصل میں لڑائی طاقت کے مراکز میں ہے، زلزلے کا مرکز کہیں اور ہے۔ جب وہاں سکون ہو جائے گا تو وفاق اور پنجاب کے مابین بھی سکون ہو جائے گا۔ دوسری جانب ڈاکٹر سید جعفر احمد کہتے ہیں اگرچہ وفاقی حکومت کا پنجاب میں اقتدار نہیں، مگر اسکی حکومت اتحادی پیپلزپارٹی کی سندھ میں حکومت موجود ہے، لہذا وفاق کی صوبہ پنجاب میں حکومت نہ ہونے سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ انکا کہنا تھا کہ اگر وفاق اور پنجاب کی کشمکش ہو جاتی ہے تو وفاقی حکومت اسٹیبلشمنٹ کو کردار ادا کرنے کے لیے کہہ سکتی ہے کیونکہ شہباز شریف کے اس سے اچھے تعلقات ہیں۔ اسی طرح پرویز الٰہی بھی عمران خان کے اشارے سے زیادہ اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر چلنے کو ترجیح دیتے ہیں اور دیں گے۔ تاہم دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر عمران خان وفاقی حکومت گرانے کی خاطر پنجاب حکومت کا استعمال کرتے ہیں اور اسلام آباد کے ڈی چوک میں دوبارہ دھرنا دے دیتے ہیں تو صورت حال بہت زیادہ خراب ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں کشیدگی بڑھنے پر اسٹیبلشمنٹ بھی حکومت پر فوری الیکشن کے لیے دباؤ ڈال سکتی ہے۔

Related Articles

Back to top button