جنرل باجوہ نے کسی سے فوری الیکشن کا کوئی وعدہ نہیں کیا

عسکری ذرائع نے ریٹائرڈ فوجیوں کی جانب سے کیے جانے والے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے عمران حکومت کی تبدیلی کے بعد یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ حالات کو مزید بگڑنے سے بچانے کے لیے ملک میں 90 دن کے اندر نئے انتخابات کرا دیں گے۔ انکا کہنا ہے کہ ایک آرمی چیف اس طرح کا وعدہ کیسے کر سکتا ہے؟ یہ ان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔

زلفی بخاری عمران اور بشریٰ کا جھوٹا دفاع کرتے پکڑے گئے

یاد رہے کہ اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر کھلے آسمان تلے ‘ویٹرن آف پاکستان’ نامی تنظیم نے 7 جون کو پریس کانفرنس کی جس کے ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ اس دوران ماضی کے دو داغدار جرنیلوں علی قلی خان اور آصف یاسین ملک کی قیادت میں ویٹرنز آف پاکستان کی جانب سے جنرل باجوہ کو ان کا فوری الیکشن کا وعدہ یاد دلاتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ امریکہ سے ملنے والے دھمکی آمیز خط پر عدالتی کمیشن بنایا جائے تاکہ ثابت ہو سکے کہ اس میں کوئی دھمکی دی گئی تھی یا نہیں۔

لیکن دوسری جانب عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ فوج کے سربراہ نے کسی سے کبھی بھی تین مہینے یا کسی اور مدت میں الیکشن کروانے کا کوئی وعدہ نہیں کیا اور نہ ہی اس طرح کی گفتگو کی گئی جیسا کہ دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نہ تو نئے الیکشن کروا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی عدالتی کمیشن بنوا سکتے ہیں کیونکہ یہ ان کے دائرہ اختیار میں نہیں۔ ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے ذرائع کا کہنا تھا کہ ’ویٹرنز‘ کا نام استعمال کر کے فوج کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ تاہم ریٹائرڈ فوجیوں کا کہنا ہے کہ سیاست میں فوجی مداخلت ایک حقیقت ہے اور انہیں کچھ بھی کرنے کے لیے کسی سے کوئی اجازت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والے سابق بریگیڈیئر میاں محمود نے میگا فون پر دعویٰ کیا کہ جب حالات خراب ہونا شروع ہوئے تو ’ہماری ایک ٹیم نے جنرل باجوہ سے ملاقات کی جس میں بگڑتے ہوئے سیاسی حالات پر تبادلہ خیال ہوا۔ا نھوں نے کہا کہ یہ وفد ریٹائرڈ جنرل علی قلی خان کی قیادت میں ملا تھا جس میں ریٹائرڈ ایڈمرل تسلیم ایس جے اور ایئر وائس مارشل مسعود بھی شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ نے بڑے واضح انداز میں یہ وعدہ کیا تھا کہ اگلے 90 روز میں پاکستان میں نئے الیکشن کا انعقاد ہو جائے گا۔

میاں محمود نے کہا کہ ان کے خیال میں اس وقت امریکہ کی طرف سے شدید ترین خطرات لاحق ہیں اور وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج اور خاص طور پر فوج کے سربراہ جنرل باجوہ کو اس کا ادراک کرنا چاہیے اور تمام احتیاطی اقدامات کرنے چاہییں تاکہ اس صورت حال کو مزید خراب ہونے سے بچایا جا سکے۔ مراسلے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ان کی تنظیم کا دوسرا بڑا مطالبہ ہے اور اس سے پہلے دیگر لوگوں کی طرف سے بھی یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن اس خط کی تفصیل پر غور کرے اور یہ فیصلہ کرے کہ یہ لیٹر پاکستان کے لیے دھمکی ہے یا نہیں ۔

انہوں نے جنرل علی قلی خان اور جنرل آصف یاسین ملک کی موجودگی میں کہا کہ وہ پاکستان کی طرف سے دو جنگوں میں شرکت کر چکے ہیں اور ان کی دانست میں یہ ملک کی بقا کے لیے تیسری جنگ ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا ملک کا دشمن اس وقت رانا ثناء اللہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم رانا ثناء اللہ کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ تم ملک کو تباہ کرنے میں جو کردار ادا کرنا چاہتے ہو ہم اس کو ناکام بنا دیں گے۔‘ اس موقع پر جنرل علی قلی خان اور جنرل آصف یاسین ملک نے خطاب کرتے ہوئے حکومت کو پیغام دیا کہ وہ صرف ایک ووٹ سے اقتدار میں آئے ہیں اور ان کا امپورٹڈ اقتدار کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے۔ اس دوران ریٹائرڈ فوجی افسران اور انکی بیگمات گاہے بگاہے ‘امپورٹڈ حکومت نامنظور کے نعرے بھی بلند کرتے رہے۔’

تاہم عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ’کسی سے کبھی بھی تین مہینے یا کسی اور مدت میں الیکشن کروانے کا وعدہ نہیں کیا‘ اور نہ ہی اس طرح کی گفتگو کی گئی جیسا کہ دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ’ایک آرمی چیف اس طرح کا وعدہ کیسے کر سکتا ہے؟ یہ ان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔‘

ریٹائرڈ فوجی افسران کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس کے کلپس اور ان کے بیانات گذشتہ روز سے سوشل میڈیا پر شیئر کیے جا رہے ہیں اور صارفین اس پر اپنے تبصرے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف بظاہر سیاسی جماعتوں کے کارکنان کی جانب سے ’وہ کون تھا‘، ’دِیس از ناٹ نائنٹیز‘ اور ’باجوہ ول ناٹ گو‘ جیسے ٹرینڈز چلائے جا رہے ہیں تو دوسری طرف اس دعوے کو حیرت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ ماضی قریب میں پاکستانی فوج کے ترجمان بارہا کہہ چکے ہیں کہ ادارہ ’نیوٹرل‘ ہے اور اسے ’سیاست سے دور رکھا جائے۔‘ اس معاملے میں کپتان کے بدزبان چماٹ شہباز گل کا کہنا تھا کہ ’ریٹائرڈ فوجیوں کو پریس کلب میں پریس کانفرنس کی اجازت نہ دے کر پریس کلب سے باہر نکال دیا گیا۔۔۔ پوچھنا یہ تھا کہ غداری کا پرچہ کس پر کرنا ہے۔‘

تاہم صحافی کامران یوسف نے ٹوئٹر پر سوال اٹھایا کہ ’ان ریٹائرڈ فوجی افسران سے کوئی یہ پوچھے کہ وہ آئین کی کون سی شق کے تحت جنرل باجوہ سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ انتخابات کروائیں۔‘ وہ مزید پوچھتے ہیں کہ ’کیا یہ آرمی چیف کا مینڈیٹ ہے؟ عوام کے ٹیکس سے پینشن اور مراعات لینے والے افسران یہ کہہ رہے ہیں وہ اس ملک کے مالک ہیں؟‘ عبداللہ نے اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کام ’سیاسی حکومت اور الیکشن کمیشن کا ہے۔‘

یاسمین ملک کا سوال ہے کہ ’فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں تو آرمی چیف الیکشن کا وعدہ کیسے کرسکتے ہیں؟‘ بعض لوگوں کو خدشہ ہے کہ اس پریس کانفرنس کے سیاسی مقاصد ہوسکتے ہیں۔ جیسے صحافی سلیم صافی نے مشورہ دیا کہ ’آپ لوگ اب سیاستدان ہیں۔ کسی اور نام سے تنظیم بنالیں۔ نہیں تو باقاعدہ پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کرلیں۔‘ ادھر تحریک انصاف کی کارکن مہوش بھٹی کو ریٹائرڈ افسران کے دعوے میں حقیقت نظر آئی تو انھوں نے لکھا کہ ’جھوٹے وعدوں نے میرے ملک کا کیا حال کر دیا۔‘ کچھ صارفین نے اس پیشرفت پر طنزیہ تبصرے کیے۔ جیسے محمد تقی کہتے ہیں کہ ’ریٹائرڈ جرنیلوں نے اگر جنرل ضیا کے 90 دن میں الیکشن کے وعدے پر غور کیا ہوتا تو جنرل باجوہ صاحب ’محسنِ جمہوریت‘ کا وعدہ خودبخود سمجھ آجاتا۔‘ ریٹائرڈ فوجیوں میں سے ایک عادل راجہ نے بس اتنا کہنا مناسب سمجھا کہ ’وہ عہد جو وفا نہ ہوا۔‘

Related Articles

Back to top button