جنرل قمر باجوہ کے لیے ایک اور توسیع ممکن کیوں نہیں؟

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں مذید توسیع اس لیے ممکن نہیں کہ نہ تو جنرل باجوہ مذید ایکسٹینشن چاہتے ہیں اور نہ ہی پی ڈی ایم حکومت توسیع کے حوالے سے عمران خان کی کنفیوژڈ تجویز کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ باخبر حکومتی ذرائع کا کہنا ہے عمران خان نے یہ تجویز دے کر حکومت اور جنرل باجوہ کے مابین غلط فہمیاں پیدا کرنے اور آرمی چیف کی تقرری کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی ہے حالانکہ جنرل باجوہ واضح الفاظ میں بتا چکے ہیں کہ وہ ایکسٹینشن کے خواہاں نہیں اور 29 نومبر کو ریٹائر ہو کر گھر جانے کی تیاری کر چکے ہیں۔

سنگین مقدمات میں عمران خان کو کیا سزا ہو سکتی ہے؟

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران کو اس غلط فہمی سے باہر آجانا چاہئے کہ اگلے آرمی چیف کا انتخاب انکی مرضی یا مشورے سے ہو گا چونکہ یہ وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار ہے جسے وہ قانون کے مطابق استعمال کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم اتحاد نے عمران خان کی حکومت اس لیے نہیں الٹائی تھی کہ ان کی مرضی سے آرمی چیف کو تعینات کریں یا توسیع دیں۔ اس لیے خان صاحب اپنی غلط فہمی دور کر لیں اور آرمی چیف کی تقرری کو متنازعہ بنانے سے باز آ جائیں۔ حکومتی ذرائع کہتے ہیں کہ جب عمران وزیراعظم تھے تو انہوں نے نیا آرمی چیف لگانے کا اختیار استعمال کرنے کی بجائے نواز شریف کے لگائے ہوئے چیف کو ایکسٹنشن دے دیے، لہٰذا اب خان صاحب صبر کریں اور انتظار کریں کہ شہباز شریف آرمی چیف کے حوالے سے کیا فیصلہ کرتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران کی جانب سے جنرل باجوہ کو عارضی توسیع دینے کی صورت میں سنیارٹی لسٹ پر موجود تمام سینیئر جرنیل مئی 2023 تک ریٹائر ہو جائیں گے جسکے بعد موجودہ کور کمانڈر ملتان لیفٹیننٹ جنرل چراغ حیدر اور موجودہ آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم سینئر ترین جرنیل بن جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ موجودہ سینئر ترین جرنیلوں کو آرمی چیف بننے کا موقع نہ دیا جائے کیونکہ عمران خان ایسا نہیں چاہتے۔ لہذا اس صورتحال میں جنرل باجوہ دوبارہ توسیع لیکر اپنے ساتھی جرنیلوں کی حق تلفی نہیں کریں گے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا عمل اپنے وقت پر مکمل ہو جائے گا اور زیادہ امکان اسی بات کا ہے کہ ماضی کے برعکس اس مرتبہ سینئر ترین جج جرنیل کو آرمی چیف بنایا جائے گا۔

پاکستان میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کوئی نئی بات نہیں۔ پہلے کمانڈر ان چیف جنرل ایوب خان سے لے کر موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تک ایکسٹینشن کی کئی مثالیں موجود ہیں تاہم موجودہ چیف کی ایکسٹینشن سب سے متنازع رہی۔ تاہم اہم سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ آرمی چیف کو آئینی اور قانونی طور پر ایک اور ایکسٹینشن یا مدت ملازمت میں توسیع مل سکتی ہے؟ ایک سینیئر حکومتی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ آئینی اور قانونی طور پر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع دینے کا راستہ تو موجود ہے تاہم ان کے مطابق یہ حکومت کا فیصلہ ہو گا۔ انھوں نے بتایا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو جب پہلی بار ایکسٹینشن ملی اور معاملہ عدالت میں گیا تو سپریم کورٹ کے حکم پر تحریک انصاف کی حکومت نے ایک قانون بنایا تھا جس کے تحت صدر پاکستان کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ وزیر اعظم کے مشورے پر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اس قانون سازی میں ایک اہم نکتہ آرمی چیف کی عمر کے حوالے سے بھی تھا۔ اگر وہ نہ ہوتا تو نئی توسیع ممکن نہ ہوتی۔

جنرل قمر جاوید باجوہ، جن کو سابق وزیر اعظم نواز شریف نے تعینات کیا تھا، نے 29 نومبر 2019 کو ریٹائر ہو جانا تھا تاہم اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے ان کی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ قبل ہی انھیں تین برس کے لیے توسیع دینے کا اعلان کیا تھا جس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا گیا۔ عدالت نے نشان دہی کی کہ آئین کے آرٹیکل 243، آرمی ایکٹ 1952 اور آرمی ریگولیشنز رولز 1998 میں کہیں بھی مدت ملازمت میں توسیع یا دوبارہ تعیناتی کا ذکر نہیں۔

28 نومبر کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی مشروط توسیع کی منظوری دیتے ہوئے حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ آرمی چیف کی توسیع یا دوبارہ تقرری کے حوالے سے پارلیمان کے ذریعے باقاعدہ قانون سازی کرے۔

تحریک انصاف نے حیران کن طور پر اپوزیشن جماعتوں، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی حمایت سے، آرمی ایکٹ 1952 میں ترمیم کی جس میں آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی یا مدت ملازمت میں توسیع کی شق شامل کی گئی جس کے تحت صدر پاکستان وزیر اعظم کی تجویز پر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں تین سال کے لیے توسیع کر سکتے ہیں یا دوبارہ تعیناتی کر سکتے ہیں۔ قانون کے تحت مدت ملازمت مکمل ہونے پر توسیع یا دوبارہ تقرر وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہو گا جسے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ قانون کے مطابق 64 برس کی عمر تک پہنچنے پر مذکورہ جرنیل ریٹائرڈ تصور ہو گا۔ تب جنرل باجوہ کی عمر 59 سال تھی۔ تب کے وزیر قانون فروغ نسیم نے 9 جنوری 2020 کو ٹی وی پر یہ توجیح پیش کی تھی کہ یہ قانون جنرل باجوہ کے لیے نہیں بنا اور قانون کے مطابق لیفٹینینٹ جنرل کی مدت ملازمت کی میعاد چار سال یا 58 سال کی عمر تک ہوتی ہے، ان میں سے جو پہلے آئے. اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی لیفٹینینٹ جنرل 58 سال کی عمر میں تین سال کے لیے جنرل بنتا ہے اور اس کو ایک ٹرم کے لیے ایکسٹینشن دینا ہے تو تین سال اور درکار ہیں۔

ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا آرمی ایکٹ کے تحت ان کی مدت ملازمت میں ایک اور توسیع ہو سکتی ہے؟ سابق وفاقی وزیر قانون بیرسٹر علی ظفر نے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئینی طور پر یقینا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ہو سکتی ہے لیکن اس کا طریقہ وہی ہو گا جو وضع کر دیا گیا ہے۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ آیا آرمی ایکٹ کے تحت تین سال سے کم عرصے کے لیے بھی مدت ملازمت میں توسیع کی جا سکتی ہے تو انھوں نے کہا کہ تین سال کی مدت سے کم کے لیے توسیع کی جا سکتی ہے تاہم یہ فیصلہ وزیر اعظم کا ہی ہو گا اور انہی کی جانب سے سفارش پر صدر حکم دے سکتے ہیں۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کی یہ تجویز قانونی اور آئینی طور پر قابل عمل ہونے کے باوجود ایک مشکل اور متنازعہ عمل ہے۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ کیا وزیر اعظم شہباز شریف اور حکومت ایسا کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں یا نہیں۔ ڈان سے وابستہ سینئیر صحافی اظہر عباس کہتے ہیں کہ ’عمران خان تو چاہتے ہیں کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کی بجائے جنرل باجوہ ہی کام کرتے رہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جنرل باجوہ اس تجویز کو قبول کریں گے کیونکہ آئی ایس پی آر کہہ چکا ہے کہ جنرل باجوہ 29 نومبر کو ریٹائر ہو جائیں گے۔‘ اس معاملے ٹوئیٹ کرتے ہوئے سینئر صحافی سیرل المائڈا نے لکھا کہ عمران خان کی تجویز کا جو بھی مطلب تھا، اب کوئی اور ایکسٹینشن نہیں ہونی چاہیے۔‘ سینئیر صحافی طلعت حسین نے لکھا کہ ’جنرل قمر باجوہ ایک اور ایکسٹینشن لے کر اپنے کیریئر کی دوسری بڑی غلطی کریں گے چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی معیاد کی کیوں نہ ہو۔ ان کی پہلی بڑی غلطی ان کی پہلی ایکسٹینشن تھی۔

سوشل میڈیا پر یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ عمران خان آخر ایسا کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ حالانکہ شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ کامران خان نے آرمی چیف کی توسیع کے معاملے پر اپنے الفاظ عمران خان کے منہ میں ڈالنے کی کوشش کی ہے لیکن فواد چوہدری کہتے ہیں کہ عمران نے ملک کے سیاسی مستقبل اور جمہوریت کی بحالی کا ایک عملی فارمولا پیش کیا ہے، اور اس فارمولے پر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے انتخابات کروانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا موجودہ اسٹیٹس برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ لیکن تحریک انصاف کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پارٹی میں اس تجویز پر دو مختلف آرا ہیں۔ ایک طبقہ سمجھتا ہے کہ اگر موجودہ حکومت نے آرمی چیف لگایا تو غالبا پارٹی کو نقصان ہو سکتا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ایک دوسرا طبقہ بھی ہے جو باجوہ کے لیے توسیع کو یوٹرن سمجھتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ویسے بھی ایک اور ایکسٹینشن دینا غلط روایت ہو گی اور ان جنرلز کو بھی نقصان ہو گا جو آرمی چیف بن سکتے ہیں اور توسیع کی صورت میں ریٹائر ہو جائیں گے۔ لہذا عمران خان جو بھی تجویز دیتے رہیں، اس پر عمل درآمد اتنا آسان نظر نہیں آتا۔

Related Articles

Back to top button