جنرل ظہیر کو اپنے امیدوار کی ہار ہضم کیوں نہیں ہو رہی؟

2014 میں عمران خان کے اسلام آباد دھرنے کے ماسٹر مائنڈ قرار دیے جانے والے سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام کو راولپنڈی کے ضمنی الیکشن میں اپنے پی ٹی آئی امیدوار کی شکست ہضم نہیں ہو پا رہی اور وہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے لیے پورا زور لگائے ہوئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ راولپنڈی کے حلقہ پی پی 7 سے شکست کھانے والے ریٹائرڈ کرنل شبیر اعوان کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ دلوانے کے لیے ظہیرالاسلام خود عمران خان کے پاس گئے تھے لیکن ان کے امیدوار کو 49 ووٹوں سے شکست ہوگئی جس کے بعد موصوف ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ تاہم اب تک جنرل ظہیر کی یہ کوششیں ناکام دکھائی دیتی ہیں کیونکہ الیکشن کمیشن نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ یاد رہے کہ ظہیر الاسلام نے اپنے امیدوار کے حق میں باقاعدہ الیکشن مہم حصہ لیا تھا اور تقاریر کی تھیں۔

پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 7 کے تمام 266 پولنگ اسٹیشنز پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے لیے پی ٹی آئی کے امیدوار کرنل ریٹائرڈ شبیر اعوان کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد الیکشن کمیشن کو یوتھیوں کی جانب سے تنقید کی نئی لہر کا سامنا ہے اور حسب معمول کمیشن پر جانبداری کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے 19 جولائی کو الیکشن نتائج کے اعلان کے فوری بعد پی ٹی آئی کی درخواست پر ریٹرننگ افسر نے رات گئے یہ فیصلہ کیا تھا کہ راولپنڈی کے حلقہ پی پی 7 کے نتائج 20 جولائی کو صبح 10 بجے کہوٹہ میں ان کے کیمپ آفس میں مرتب کیے جائیں گے۔ انہوں نے دوبارہ گنتی کی درخواست پر فیصلے کے لیے تمام مدمقابل امیدواروں کو اپنے کیمپ آفس کہوٹہ میں طلب کیاتھا، لیکن درخواست کی سماعت کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے فیصلہ دیا کہ تمام 266 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ گنتی ممکن نہیں۔ باخبر ذرائع نے بتایا کہ ریٹرننگ افسر رائے سلطان بھٹی نے تقریباً 3 گھنٹے تک تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد امیدواروں سے کہا کہ وہ دوبارہ گنتی کے لیے باہمی اتفاق کے ساتھ 15 سے 20 پولنگ اسٹیشنوں کا انتخاب کرلیں۔

سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام کے کزن اور ان کے امیدوار ریٹائرڈ کرنل شبیر اعوان نے مسترد شدہ ووٹوں

عمران دوبارہ اسلام آباد آئے تو پھر بے عزت ہو کر جائیں گے

کی زیادہ تعداد سے متعلق سوالات اٹھائے جو کہ ان کے مخالف امید وار کی جیت کے مارجن سے 30 گنا زیادہ تھے، شبیر اعوان صرف 49 ووٹوں کے معمولی فرق سے ہارے تھے جب کہ ان کو ملنے والے مسترد شدہ ووٹوں کی تعداد ایک ہزار 516 تھی۔ زیادہ تر ووٹ پولنگ عملے کی جانب سے لازمی ضرورت کے طور پر بیلٹ پیپرز کے پچھلے حصے پر لگائی گئی اسٹیمپ کی بنیاد پر مسترد کیے گئے۔ انہوں نے مؤقف اپنایا تھا کہ اگر پولنگ عملے کی جانب سے پچھلے حصے پر لگائی گئی سٹیمپ بیلٹ کے اگلے حصے پر نظر آرہی ہے تو اس کا ذمےدار ووٹرز اور امیدوار نہیں ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن نے ان کا یہ موقف رد کر دیا اور قرار دیا کہ سٹیمپ ووٹر کی جانب سے لگائی گئی ہیں۔

دوسری جانب، اس معاملے پر رد عمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری نے ٹوئٹ کیا کہ کیا اب بھی اس بات میں کوئی شک ہے کہ ای سی پی مسلم لیگ (ن) کی حمایت میں کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای سی پی نے پی پی 7 پر پی ٹی آئی کے امیدوار کی دوبارہ گنتی کی درخواست مسترد کردی جب کہ جیت کے معمولی فرق کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کا یہ اقدام انتخابی قوانین اور آئین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ای سی پی مسلم لیگ (ن) کے امیدوار نذیر چوہان کی پولنگ کے روز امن و امان کی خراب صورتحال کے نام پر ضمنی انتخاب کے نتائج کے اعلان میں تاخیر کی درخواست پر غور کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے حق میں ایسی کھلی جانب داری بہت واضح ہے، چیف الیکشن کمشنر کو فوری استعفیٰ دینا چاہیے۔ اپنے ردعمل میں لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام نے کہا کہ ریٹرننگ افسر نے پی پی 7 میں دوبارہ گنتی کی اجازت نہیں دی حالانکہ شکست کا فرق بہت کم تھا، ایسے میں الیکشن کمیشن کی جانبداری کا اور کیا ثبوت چاہیے، پی ٹی آئی اس فیصلے کو قبول نہیں کرے گی، اگر آج ہم اسے قبول کرلیں تو سوچیں کہ عام انتخابات میں کیا ہوگا۔

دوسری جانب ریٹرننگ آفیسر کا کہنا ہے کہ ریٹائرڈ کرنل شبیر اعوان کوئی ایک بھی ایسا جواز پیش نہیں کر سکے جس کی بنیاد پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کروائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حلقے میں ڈالے گئے ووٹوں کی پہلی گنتی کے وقت تمام جماعتوں کے پولنگ ایجنٹس موجود تھے جنکی موجودگی میں رزلٹ نہایت احتیاط کے ساتھ ترتیب دیے گئے تھے اور انہیں تسلیم کیا گیا تھا۔ چنانچہ ریٹرننگ آفیسر نے تمام پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ گنتی کا حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا اور پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ن) اور دیگر جماعتوں کے امیدواروں کو مشورہ دیا کہ وہ باہمی طور پر اتفاق رائے کے ساتھ 15 سے 20 قابل اعتراض پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ گنتی کا فیصلہ کریں۔

اس سے پہلے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار راجا صغیر احمد نے مسترد شدہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسترد شدہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست پر غور نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ پہلی گنتی کے وقت ان کے مخالف امیدوار کے پولنگ ایجنٹس نے نتیجے کو تسلیم کیا تھا۔

غیر سرکاری نتائج کے مطابق صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار راجا صغیر نے کامیابی حاصل کی، انہوں نے 68 ہزار 906 ووٹ حاصل کیے جب کہ پی ٹی آئی کے امیدوار ریٹائرڈ کرنل شبیر اعوان نے 68 ہزار 857 ووٹ حاصل کیے، تحریک لبیک کے حافظ منصور نے 14 ہزار 775، جماعت اسلامی کے راجا تنویر نے ایک ہزار666 اور آزاد امیدوارانجینئر راجا نزاکت حسین نے 334 ووٹ حاصل کیے۔

Related Articles

Back to top button