عمران اب کس سینئر فوجی افسر کو نشانے پر لینے والا ہے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان آگ اور خون کا کھیل شروع کرنے کے بعد اب ایک ایسے سینئر فوجی افسر کو اپنے نشانے پر لینے والے ہیں جو چند ہفتوں میں بڑی ذمہ داری سنبھال سکتا ہے، لہذا یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ لانگ مارچ کا بنیادی مقصد نئی تقرری کے حوالے سے اثر انداز ہونا ہے۔لیکن انکا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کا اختتام عمران کی سیاست کو بے دم بھی کر سکتا ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ ماضی میں اقتدار پر قبضہ برقرار رکھنے کی جنگ میں پاکستان دو لخت ہو گیا اور ہم ملک کا ایک حصہ گنوا بیٹھے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا فوج کے ادارے پر الزامات لگا کر اور انتشار پھیلا کر باقی ماندہ پاکستان پر بھی ایک اور مہلک وار کیا جانے والا ہے؟ حفیظ نیازی کہتے ہیں کہ 2014 سے جاری کھلواڑ میں امپائر بمع انگلی کے بنفس نفیس کھلاڑی بن کر کھیل میں شامل ہو چکا ہے۔

دوسری جانب میدان پھر سے سجنے کو ہے، سیٹی بج چکی، کھیل آگ اور خون کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے لیکن اہلِ وطن بے بس اور تماشائی ششدر ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ چند ہفتے پہلے عمران خان کی بطور وزیراعظم امریکی سائفر کے حوالے سے جو گفتگو لیک ہوئی اس نے ثابت کر دیا کہ امریکی سازش کا بیانیہ ایک ڈھکوسلہ تھا اور اس کا بنیادی مقصد صرف عوام کو اکسانا اور انکی ہمدردیاں حاصل کرنا تھا۔ لیکن عمران کی اس سازش نے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

عمران کی میجر جنرل فیصل نصیر کو ملنے کی خواہش کا انکشاف

عمران خان کے سابقہ بہنوئی حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ سال 2009 میں’’پراجیکٹ عمران خان‘‘ کی بنیاد بڑے سوچ بچار کے بعد رکھی گئی۔2014 میں عمران خان نے امپائر کی انگلی کے سہارے ’’سیاست نہیں ریاست بچاؤ‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے اسلام آباد پر یلغار کی، جس کامقصد چند ہزار بندوں کے ذریعے وزیر اعظم ہائوس میں گُھسنا اور نواز شریف کو نکال کر سڑکوں پر گھسیٹنا تھا۔ لیکن انہیں اپنے منصوبے میں مکمل ناکامی ہوئی۔ اس سازش میں امپائرز عزتِ سادات گنوا بیٹھے لیکن انکے نزدیک تو عزت آنی جانی چیز ہے لہذا باز پھر بھی نہیں آئے اور اپنا کھیل جاری رکھا۔

اب ایک غیر ملکی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران نے 200ویں مرتبہ دُہرایا ہے کہ میں وہ شخص ہوں جس نے کرکٹ کی دو سو سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ نیوٹرل امپائرز متعارف کروائے۔ لیکن عمران یہ بتانے سے کیوں شرماتے ہیں کہ میں ہی وہ پہلا شخص ہوں جس نے سیاست کی تین سو سالہ تاریخ میں پہلی بار امپائر کی انگلی متعارف کرائی اور آج کل امپائرز باقاعدہ میری ٹیم کا حصہ ہیں۔ 2014 میں عمران خان کو اسلام آباد میں 126 دن کا دھرنا دینے کے باوجود ذلت آمیز ناکامی تو ہوئی لیکن ’’ عسکری امپائرز‘‘ کے نواز شریف کو اقتدار سے نکالنے کے ارادے اٹل رہے اور 2016 میں انہوں نے ’’عدالتی امپائرز‘‘ کو اپنے ساتھ ملا کر 2018 کے عام انتخابات میں پروجیکٹ عمران خان کو پایۂ تکمیل تک پہنچا دیا۔

یوں نواز شریف اقتدار سے نکل کر جیل میں اور عمران وزیر اعظم ہاؤس پہنچ گئے۔ امپائرز کا خیال تھا کہ عمران مٹی کا مادھو ثابت ہو گا اور وہ جیسے چاہیں گے، استعمال کریں گے۔ ایسا ہو جاتا تو راوی نے اگلے 20 سال تک چین لکھنا تھا۔ لیکن شو مئی قسمت کہ عمران خان کی نالائقی ہٹ دھرمی اور نااہلی نے امپائرز کے چاروں طبق روشن کر دئیے۔ جب تخلیق نے خالق کو آنکھیں بھی دکھانا شروع کر دیں تو’’امپائرز‘‘ نے عمران کو نکالنے کی ٹھانی۔

امپائرز کیلئے عمران کا مکو ٹھپنا، ہفتوں کا نہیں بلکہ چند دِنوں کا کام ہونا تھا۔ ضروری تھا کہ عمران خان کو 29 نومبر 2022 سے پہلے اقتدار سے بے دخل کر دیا جائے۔ لہذا ایسا ہو گیا اور شہباز شریف عمران خان کی جگہ وزارت اعظمیٰ پر براجمان ہو گئے۔ تاہم عمران خان ایک نام نہاد امریکی سازش کا بیانیہ لے کر امپورٹڈ حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے سڑکوں پر آ گئے اور اب ان کا لانگ مارچ ایک وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔

حفیظ اللہ نیازی کا کہنا ہے کہ سیاسی کھیل کا آخری مرحلہ لانگ مارچ کی صورتحال میں شروع ہوچکا ہے۔ لانگ مارچ شروع ہوا تو کم حاضری نے پہلے چار دنوں کا مزہ کرکرا رکھا۔ بد قسمتی پانچویں دن قافلے پر قاتلانہ حملہ ہو گیا۔لیکن دو اہم حادثات پر عوام کے رد عمل نے عمران خان کو مایوس کیا ہے۔ پہلے نااہلی اور پھر قاتلانہ حملہ، عوام دونوں مرتبہ سڑکوں پر نہیں نکلی۔ عمران نے قاتلانہ حملے کا بھرپور سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے الزام سینئر آئی ایس آئی افسران پر دھر دیا ہے۔

موصوف کا کہنا ہے کہ ’’چار ‘‘کے ٹولے نے مجھے قتل کرنے کی سازش کی۔ دوسری جانب ابتدائی تحقیقات کے بعد ہی یہ بات کنفرم ہو گئی تھی کہ عمران پر حملہ کرنے والا ایک مذہبی جنونی ہے اور وہ کسی سازش کا حصہ نہیں۔ لیکن عمران کا کہنا ہے کہ مذہبی جنونی کی برین واشنگ کر کے مجھے مروانے کی سازش کی گئی۔

پھر موصوف یہ بھی فرماتے ہیں کہ مجھے وزیر آباد میں خود پر قاتلانہ حملے کا پہلے سے علم تھا۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ اگر وہ سب کچھ جانتے تھے تو پھر حفاظتی اقدامات کیوں نہ کیے۔ حیرت کہ عمران جو فر ما رہے تھے وہی کچھ تو ہوا۔ عقل دنگ کہ نہ تو عمران اور نہ ہی پنجاب حکومت نے حفاظتی انتظامات کیے، لگتا ہے کی سب اس انتظار میں تھے کہ خدانخواستہ کوئی سانحہ ہو تاکہ اس کا سیاسی فائدہ اٹھایا جا سکے۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کی سیاست کو بعد استعمال ٹھکانے لگانا امپائرز کا آخری فیصلہ ہے۔ اس سے پہلے موجودہ حکومت کی رُخصتی اور نگران سیٹ اَپ کا قیام بھی ضروری ہے۔ سیاسی جماعتوں کو تباہ کرنا اور عمران کی سیاست کو ملیا میٹ کرنا ، حاصل کلام ہے۔

بظاہر عمران بھی آگ اور خون کے کھیل کا متمنی ہیں اور ایمپائرز کو بھی شاید یہی وارا کھائے ۔لیکن کیا امپائرز جانتے نہیں کہ ریاست کے ساتھ ایسے کھلواڑ میں مملکت کا بچنا ناممکن ہو جاتا ہے؟

Related Articles

Back to top button