حمزہ شہباز بغاوت کرنے والے لیگی لوٹوں کو منانے نکل پڑے

وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے اپنے اقتدار کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے ن لیگ کے ان چار اراکین پنجاب اسمبلی کو پارٹی میں واپس لانے کا فیصلہ کیا ہے جن کو بغاوت پر نکال دیا گیا تھا۔ ان اراکین نے نواز شریف کی جانب سے فوجی قیادت پر الزامات لگانے پر کڑی تنقید کی تھی۔ تاہم اب اس عمل کو درگزر کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے باغی لوٹوں سے رابطے استوار کر لیے ہیں اور پنجاب اسمبلی میں پارٹی پوزیشن مزید مضبوط کرنے کے لیے دو اراکین کو ساتھ بھی ملا لیا ہے۔ یاد رہے کہ حمزہ شہباز کو ووٹ دے کر پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر الیکشن کمیشن نے حال ہی میں پی ٹی آئی کے 25 اراکین پنجاب اسمبلی کو نااہل قرار دے دیا تھا جسکے بعد پنجاب میں وزیر اعلیٰ کی پوزیشن کمزور ہو چکی ہے لہذا انہوں نے اپنے چار ناراض اراکین اسمبلی کو منانے کا فیصلہ کیا ہے۔

تمام اہداف مکمل ، پاکستان کے فیٹف گرے لسٹ سے نکلنے کا امکان

جن ایم پی ایز کو منا لیا گیا ہے ان میں گوجرانوالہ سے اشرف انصاری اور نارووال سے غیاث الدین شامل ہیں۔ واضح رہے کہ اشرف انصاری اور غیاث الدین نے دو سال قبل تحریک انصاف کے ایما پر مسلم لیگ ن سے بغاوت کرتے ہوئے پارٹی قیادت پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ لیکن اب پنجاب اسمبلی میں اپنی پوزیشن کو لاحق خطرات کے پیش نظر حمزہ شہباز نے نواز شریف پر تنقید کرنے اور سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار سے ملاقات کرنے پر اکتوبر 2020 میں پارٹی سے نکالے گئے اراکین صوبائی اسمبلی کو پارٹی میں واپس نہ لانے کے اصول پر سمجھوتہ کر لیا ہے۔ اس سمجھوتے کا بنیادی مقصد وزارت اعلیٰ کے لیے پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کے مشترکہ امیدوار پرویز الہٰی کے چیلنج کا سامنا کرنا ہے جو مسلسل وزیر اعلیٰ بننے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

حمزہ شہباز کے ساتھ تفصیلی ملاقات کے بعد باغی لیگی ایم پی اے اشرف انصاری نے اس مرتبہ تحریک انصاف سے بغاوت کر دی ہے۔ انصاری نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا مشہود کے ہمراہ وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے جو فوج اور پاکستان مخالف بیانیہ بنایا ہے وہ اس سے ناخوش ہیں اور اپنی جماعت میں واپس آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اشرف انصاری کے قریبی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ لیگی قیادت نے انہیں اور نارووال سے پارٹی ایم پی اے غیاث الدین کو اگلے انتخابات میں ایک بار پھر پارٹی ٹکٹ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم یہ صورت حال ان لیگی رہنمائوں کے لیے پریشان کن ہو گی جنہوں نے اشرف انصاری اور غیاث الدین کی بغاوت کے بعد گوجرانوالہ اور نارووال کے حلقوں میں پارٹی ٹکٹوں کی امید لگا کر الیکشن کی تیاری شروع کر رکھی تھی۔ اس وقت باغی اراکین کے لیے صورت حال آئیڈیل ہے جنہیں پہلے عثمان بزدار نے ’دل کھول کر‘ پارٹی میں جگہ دی تھی اور اب حمزہ شہباز انہیں مزید نوازنے کو تیار ہو چکے ہیں۔

یاد رہے کہ اشرف انصاری اورغیاث الدین نے پارٹی سے تب بغاوت کی تھی جب پی ڈی ایم کی گوجرانوالہ میں ہونے والی ایک ریلی میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے لندن سے ویڈیو لنک پر خطاب کرتے ہوئے جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض حمید پر الیکشن 2018 میں دھاندلی کروانے کے الزامات عائد کیے تھے۔ اس تقریر کے بعد اسٹیبلشمنٹ نے پیمرا کے ذریعے نواز شریف کی پاکستان میں میڈیا کوریج پر پابندی عائد کر دی تھی۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ نوازشریف کے اسی اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ کے نتیجے میں فوج کو پیچھے ہٹتے ہوئے عمران خان کا ساتھ چھوڑنا پڑا جس کے نتیجے میں وہ اقتدار سے محروم ہو گئے اور آج شہباز شریف وزارت عظمیٰ سنبھال کر بیٹھے ہیں۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کہ نواز لیگ کے چار میں سے دو ناراض اراکین پنجاب اسمبلی کو منا لیا گیا ہے جبکہ دو پر ابھی کام جاری ہے جن میں خانیوال سے فیصل نیازی اور شیخوپورہ سے میاں جلیل احمد شرقپوری ہیں یہ دونوں تاحال تحریک انصاف کے کیمپ میں شامل ہیں اور انہوں نے ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ وہ حمزہ شہباز کا ساتھ نہیں دیں گے۔ تاہم اندرونی ذرائع کے مطابق ن لیگ نے انہیں بھی ایک اچھی پیشکش کی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ وہ شریف خاندان کی پارٹی سے ان کی کھوئی ہوئی محبت کو دوبارہ بحال کرے گی۔ خیال رہے کہ یہ وہ اراکین اسمبلی ہیں جنکے خلاف بغاوت کرنے پر لیگی ممبران نے پنجاب اسمبلی میں شدید احتجاج کیا تھا اور ان کے سروں پر لوٹے رکھ دیے تھے۔ لیکن اب حمزہ شہباز ان لوٹوں کے سروں پر دوبارہ سے پارٹی کی دستار رکھنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

Related Articles

Back to top button